ڈبلیو ایچ او کا اسرائیل سے ہسپتالوں اور طبی کارکنوں کی حفاظت پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عالمی ادارۂ صحت کے ایک درجن سے زائد رکن ممالک نے جمعہ کو ایک مسودۂ قرارداد پیش کیا جس میں اسرائیل پر زور دیا گیا کہ وہ غزہ میں انسانی ہمدردی کارکنان کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا احترام کرے۔

سات اکتوبر کو حماس کے مزاحمت کاروں کے جنوبی اسرائیل پر حملے کے بعد غزہ میں جنگ شروع ہو گئی تھی جس میں اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 1,200 افراد ہلاک اور کئی ایک یرغمال بنا لیے گئے جن میں سے 138 بدستور اسیر ہیں۔

محصور فلسطینی علاقے میں حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے مطابق غزہ پر اسرائیل کے جوابی فضائی اور زمینی حملے میں 17,487 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

اتوار کو ڈبلیو ایچ او کے ایگزیکٹو بورڈ کے ایک خصوصی اجلاس کے دوران مسودۂ قرارداد کے متن کا جائزہ لیا جائے گا جس میں "مقبوضہ فلسطینی علاقے میں صحت کی صورتِ حال" زیرِ بحث آئے گی۔

اس قرارداد کی تجویز الجیریا، بولیویا، چین، مصر، انڈونیشیا، عراق، اردن، لبنان، ملائیشیا، مراکش، پاکستان، قطر، سعودی عرب، تیونس، ترکی، متحدہ عرب امارات اور یمن نے دی تھی۔

فلسطینی نمائندوں کو ڈبلیو ایچ او کے مبصر کا درجہ حاصل ہے اور وہ اس تجویز کے دستخط کنندگان بھی تھے۔

رکن ممالک نے "مشرقی یروشلم سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقے میں تباہ کن انسانی صورتِ حال بالخصوص غزہ کی پٹی میں فوجی کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا"۔

انہوں نے اسرائیل سے طبی اور انسانی ہمدردی کارکنان کے "احترام اور تحفظ" کا مطالبہ کیا جو خصوصی طور پر طبی فرائض کی انجام دہی نیز ہسپتالوں اور دیگر طبی سہولیات میں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ڈبلیو ایچ او کے ترجمان کرسچن لنڈمیئر نے جمعہ کے روز صحافیوں کو بتایا کہ غزہ کا نظامِ صحت انہدام کے دہانے پر تھا اور وہ ایک اور ایمبولینس یا ہسپتال کے ایک بستر کے نقصان کا بھی متحمل نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا، "صورتِ حال دن بدن خوفناک ہوتی جا رہی ہے، حقیقتاً۔ جو یقین سے بالاتر ہے۔"

اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے ادارے او سی ایچ اے نے جمعرات کو دیر گئے کہا کہ غزہ کی پٹی میں 36 ہسپتالوں میں سے صرف 14 میں کام کرنے کی کوئی صلاحیت باقی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں