نیتن یاھو نے جسے تباہی قرار دیا وہ اوسلو معاہدہ ہے کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

13 ستمبر 1993 کو فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان پہلے اوسلو معاہدے پر دستخط ہوئے تین دہائیاں گزر چکی ہیں۔ اس معاہدے کی وجہ سے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن اور اسرائیل نے ایک دوسرے کو باہمی تسلیم کیا اور یہ معاہدہ امن عمل کے آغاز کے حوالے سے معروف ہوگیا۔

معاہدے کے اتنے سال گزر جانے کے باوجود اور دونوں فریقوں کے درمیان اسے امن کا ثمر سمجھا جانے کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے پیر کے روز کنیسٹ میں خارجہ امور اور سلامتی کمیٹی کے ایک خفیہ اجلاس میں اس معاہدے کو ایک تباہی قرار دے دیا۔

اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے منگل کو انکشاف کیا کہ نیتن یاہو نے اوسلو معاہدے کو ایک بنیادی غلطی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اوسلو معاہدے نے سب سے زیادہ صیہونیت مخالف اور سب سے زیادہ یہودی مخالف لوگوں کو پیدا کیا ہے۔

نیتن یاہو کی یہ تقریر حماس کے بعد غزہ کے مستقبل کے بارے میں امریکہ کے ساتھ اسرائیل کے تنازع کے موقع پر سامنے آئی ہے۔ اس میں یاھو نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ وہ اوسلو کی غلطی کو دہرانے نہیں دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ نہ حماسستان ہوگا نہ ہی فتحستان۔

اوسلو معاہدہ کیا ہے؟

اوسلو معاہدہ یا پہلا اوسلو معاہدہ جسے باضابطہ طور پر عبوری حکومتی انتظامات کے اصولوں کے ابتدائی اعلان کے نام سے جانا جاتا ہے ایک امن معاہدہ ہے۔ اس معاہدہ پر اسرائیل اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن نے 13 ستمبر 1993 کو واشنگٹن میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی موجودگی میں دستخط کیے تھے۔

اس معاہدے کا نام ناروے کے شہر اوسلو کے نام پر رکھا گیا تھا۔ 1991 میں خفیہ مذاکرات ہوئے تھے جس کے نتیجے میں یہ معاہدہ میڈرڈ کانفرنس کے نام سے جانا جاتا تھا۔

اصولوں کا اعلان

تفصیلات کے مطابق یہ معاہدہ 17 چیزوں پر مشتمل ہے جس کا آغاز فلسطینی حکومتی انتظامات کے اصولوں کے اعلامیے سے ہوتا ہے اور تنازعات کے تصفیے اور علاقائی پروگراموں کے حوالے سے اسرائیل- فلسطین تعاون پر ختم ہوتا ہے۔

اپنے اس وقت کے چیئرمین یاسر عرفات کے ذریعے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن نے خود کو اسرائیل کی ریاست کے امن اور سلامتی کے ساتھ رہنے کے حق اور اس کی مستقل حیثیت سے متعلق تمام بنیادی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا عہد کیا۔

اصولوں کا یہ اعلامیہ تشدد سے پاک دور کا آغاز کرتا ہے۔ اسی مناسبت سے پی ایل او نے دہشت گردی کے استعمال اور تشدد کی دیگر کارروائیوں کی مذمت کی۔ طے پایا کہ اس تبدیلی کی تعمیل کے لیے پی ایل او کو قومی چارٹر کی دفعات میں ترمیم کرے کی۔ پی ایل او کے تمام ممبران کو اس صورتحال کی خلاف ورزیوں سے روکا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے گا۔

دریں اثنا اسرائیلی حکومت نے اپنے اس وقت کے وزیر اعظم اسحاق رابن کے ذریعے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کو فلسطینی عوام کی نمائندہ کے طور پر تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا تھا۔

عبوری خود مختار اتھارٹی کا قیام

اصولوں کے اعلامیے میں مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کے لیے ایک عبوری مدت کے لیے ایک فلسطینی عبوری خود مختار اتھارٹی اور ایک منتخب قانون ساز کونسل کے قیام کی شرط رکھی گئی ہے۔ یہ اتھارٹی پانچ سال سے زیادہ کے لیے قائم نہیں ہونا تھی۔

جو اقوام متحدہ کی قراردادوں 242 اور 338 کی بنیاد پر ایک مستقل تصفیے تک پہنچنے کے لیے قائم ہوگی۔ اس وقت عبوری اتھارٹی کے قیام سے تین سال کے اندر مستقل تصفیے تک پہنچنے کی بات کی گئی تھی۔

معاہدے میں یہ بھی طے کیا گیا تھا کہ ان مذاکرات میں سلامتی کے انتظامات، سرحدوں، باہمی تعلقات اور دوسرے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعاون کے علاوہ القدس، پناہ گزینوں اور بستیوں سمیت باقی ماندہ امور کا احاطہ بھی کیا جائے گا۔

اوسلو معاہدہ دوم

ان معاہدوں کے بعد مزید مفاہمتوں، معاہدوں اور پروٹوکولز لائے گئے۔ ان میں غزہ اریحا معاہدہ اور پیرس اقتصادی پروٹوکول شامل ہیں۔ ان معاہدوں کو اوسلو دوم معاہدے میں شامل کیا گیا۔

اوسلو 2 پر 4 مئی 1994 کو قاہرہ میں دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے میں 11 آئٹمز شامل تھیں۔ ان میں اسرائیلی فوجی دستوں کے انخلا کا شیڈول، اختیارات کی منتقلی، فلسطینی اتھارٹی کی ساخت اور تشکیل، امن عامہ اور سلامتی کے انتظامات شامل تھے۔ غزہ کی پٹی اور اریحا کے علاقے کے درمیان ایک محفوظ راہداری کے قیام کے علاوہ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان تعلقات پر بھی بات کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں