سعودی آسمان پر رات گئے شھابیوں کی برسات کا مشاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عرب دنیا کے آسمان نے جمعرات کی آدھی رات کو اور جمعہ کی صبح طلوع آفتاب سے چند گھنٹوں کے دوران جیمنڈ میٹیور شاور کی چوٹی کا مشاہدہ کیا۔ یہ سب سے نمایاں سالانہ شھابیوں کی بارشوں میں سے ایک ہے۔

جدہ میں فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ ماجد ابو زہرہ نے اس حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سال 2023 جیمنڈ میٹیور کے لیے مثالی سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے کہ چاند مہینے کے شروع میں ہلال کے مرحلے میں ہوگا اور جلد غروب ہوگا۔ یہ رات کے وقت گرتے ہوئے الکاوں یا شھابیوں کو دیکھنے کے لیے آسمان کو تاریک چھوڑ دیتا ہے۔ ان کا مشاہدہ کرنے کا بہترین وقت تقریباً رات ایک بجے کا ہے۔ یہ شھابیوں کی بارش رات 3 بجے شہر کی روشنیوں سے دور کسی تاریک جگہ سے شمال مشرقی افق پر کھلی آنکھوں سے بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بظاہر Geminid meteors ستارہ Castor کے قریب Geminid برج کے سامنے نظر آئیں گے لیکن یہ شھابیے آسمان میں کسی بھی جگہ سے نمودار ہو سکتے ہیں۔ وہ 70 اور 100 کلومیٹر کے درمیان کی بلندی پر جلتے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ Geminids ہر سال مثالی موسمی حالات میں اور چاند کی غیر موجودگی میں 7 سے 17 دسمبر تک متحرک رہتے ہیں۔ اپنے عروج پر 120 میٹر فی گھنٹہ تک حرکت کرتے ہیں۔ ٹھر ان کب رفتار کم ہوکر 40 سے 60 میٹر فی گھنٹہ کے درمیان آجاتی ہے۔

ماجد ابوزھرہ نے کہا کہ زیادہ تر الکا کی بارش کے ذرائع عام طور پر "کمیٹ" ہوتے ہیں لیکن جیمنڈ میٹیورز کا ماخذ جسم ’’ فیتھون 3200 ہے۔ اسے چٹانی دومکیت ایک سیارچہ ہے جو سورج کے بہت قریب سے گزرتا ہے۔ ۔ فیتھون 3200 کے معاملے میں یہ 20 ملین 943 ہزار 702 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے - یہ عطارد اور سورج کے درمیان آدھے سے بھی کم فاصلہ ہے –

خیال کیا جاتا ہے کہ شے ’’فیتھون 3200 ‘‘بعض اوقات دومکیتوں کی دم کی طرح ایک دم بنا سکتی ہے اور اپنے مواد کو بکھر سکتی ہے جو جیمنڈ میٹیورز کی شکل میں سامنے آتا ہے۔

یہ بات قابل غور ہے کہ جیمنڈ میٹیور بہت روشن شھابیے پیدا کر سکتے ہیں جسے ہلکی گیندیں کہا جاتا ہے۔ یہ عام شھابیں سے بڑے ہوتے ہیں اور ان کا زمین پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں