حزب اللہ اور اسرائیل کی لڑائی نے جنوبی لبنان میں کرسمس کے رنگ پھیکے کردئیے

سرحدی دیہات کے خاندانوں نے قدیم شہر ’’صور‘‘ میں پناہ لے رکھی، تعطیلات کے سیزن کے آثار نظر نہیں آرہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جنوبی لبنان کے قدیم شہر ’’ صور‘‘ میں مسیحی کرسمس منانے کی تیاریاں کر رہے ہیں جب کہ اسرائیل کے ساتھ تنازع کا بھوت خطے پر منڈلا رہا ہے اور سرحد پر وقفے وقفے سے بمباری کی آوازیں جنگ کے خطرات کی مستقل یاد دہانی کرا رہی ہیں۔

قدیم شہر صور میں تعطیلات کا موسم قریب آنے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔ یہاں 17 سالوں میں اسرائیل کے ساتھ دشمنی کی بدترین لہر کے دوران سرحد پر واقع دیہات کے خاندانوں نے پناہ لے رکھی ہے۔

اولڈ سٹی میں الفنار ریسٹورنٹ اور ہوٹل کے مالک زہیر حلاوی نے کہا کہ کسی نے سجاوٹ نہیں خریدی کیونکہ جنوبی لبنان اس وقت سوگ اور درد کی حالت میں ہے۔

زھیر حلاوی

سرحد سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر جنوبی لبنان میں واقع قدیم شہر ’’ صور‘‘ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دشمنی شروع ہونے کے بعد سے بہت سے لوگوں کے لیے پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔ زہیر نے مزید کہا کہ اگر چیزیں اسی طرح جاری رہیں تو مجھے نہیں لگتا کہ ہم نئے سال کی پارٹی یا کرسمس پارٹی کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں بہت سے متاثرین ہیں۔ ایسے وقت میں جب لوگ ایسے تلخ حالات میں رہ رہے ہیں جشن منانا ایک غیر اخلاقی بات ہے۔

’’ صور‘‘ شہر بحیرہ روم پر قدیم تہذیبوں میں سے ایک کا مقام ہے۔ اس میں زیادہ تر شیعوں کی آبادی ہے جو اس قدیم شہر میں بڑی تاریخ رکھنے والے عیسائی فرقے کے ساتھ شانہ بشانہ رہتی ہے۔

دو بچوں کی ماں 31 سالہ ثریا عالمہ نے بتایا کہ وہ دیبل گاؤں سے بھاگ کر صور میں اپنے والدین کے ساتھ رہنے آئی ہیں۔ ان کا شوہر سرحد پر رہتا ہے۔

ثریا نے مزید کہا کہ ان کا ایک رشتہ دار قطر میں رہتا ہے۔ وہ عام طور پر کرسمس گزارنے کے لیے اپنے خاندان کے ساتھ اپنے ملک واپس آتا ہے۔ لیکن اب اس سال تنازعہ کی وجہ سے نہیں آئے گا۔ یہ جنگ 2006 کی جنگ کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ہونے والی بدترین لڑائی ہے۔

کرسمس کے  قریب آنے پر صور میں خاموشی چھا جاتی ہے5

حزب اللہ اور اسرائیل کی لڑائی ایک ایسے ملک کے لیے ایک اور دھچکا ہے جہاں کے بہت سے باشندے اب بھی چار سال قبل ہونے والے تباہ کن مالیاتی بحران کے اثرات سے دوچار ہیں۔ ثریا عالمہ نے بتایا کہ معاشی بحران نے بھی کرسمس کی تقریبات کو متاثر کیا تھا لیکن موجودہ تنازعے نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں