سعودی فلم "ناقہ" کے حوالے سے سوشل میڈیا پر تنازع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مشہور سعودی فلم "ناقہ" کے حوالے سے سوشل میڈیا پر تنازع کھڑا ہوگیا۔ فنکارانہ تنازع کے حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مختلف آرا سامنے آنے لگیں۔ "Netflix" پلیٹ فارم پر سب سے زیادہ دیکھی جانے والی فلموں کی فہرست میں سرفہرست رہنے کے بعد فلم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ تاہم سوشل میڈیا پر اس حوالے سے تقسیم واضح نظر آئی۔ کچھ افراد نے فلم انڈسٹری میں نوجوانوں کے کام اور اس تجربے کی تعریف کی اور دیگر افراد نے اس کی تائید نہیں کی۔

سعودی ہدایت کار مشعل الجاسر نے "X" پلیٹ فارم پر کہا کہ ہر ایک کا شکریہ جنہوں نے وقت نکال کر فلم کو دیکھا اور ہر اس شخص کا شکریہ جنہوں نے فلم کو پسند کیا اور اس کی حمایت کی۔ ہر اس شخص کا شکریہ جنہوں نے اس پر تنقید کی۔ آپ کی تمام آراء میرے ذہن میں ہیں اور میں ان سے سیکھتا ہوں اور اپنے اگلے پروجیکٹ کی امید کرتا ہوں کہ وہ آپ کو مطمئن کرے گا۔

دریں اثنا، سعودی فلمی نقاد احمد العیاد نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ناقہ ان سب سے اہم سعودی فلموں میں سے ایک ہے جو ہم نے حال ہی میں دیکھی ہیں۔ یہ کہانی کی پیشکش، ہدایت کاری اور اداکاری کے لحاظ سے ایک مختلف فلم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ فلم ایک نیا اور جرات مندانہ تجربہ ہے۔ اسی کی وجہ سے اس فلم کو دیکھتے ہوئے سامعین قدرے الجھن کا شکار بھی ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ناقہ جیسی فلم ہمیں ہر گز پیچھے نہیں لے جائے گی کیونکہ ٹورنٹو فلم فیسٹیول میں مڈنائٹ جنون سیکشن میں اس کا انتخاب 10 فلموں میں سے کیا گیا تھا۔ یعنی یہ فلم نہ صرف علاقائی یا مقامی فیسٹیول میں بلکہ ایک بین الاقوامی فیسٹیول میں بھی کامیاب ہوئی ہے۔

انہوں نے فلم کے ہدایت کار مشعل الجاسر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ عرب کے اہم ترین ہدایت کاروں میں سے ایک ہیں فلم ’’ ناقہ‘‘ کی تحریر اور ہدایت کاری مشعل الجاسر نے کی تھی۔ ان کے ساتھیوں میں یزید المجیول، امل الحربی، اضواء بدر اور جبران الجبران شامل ہیں۔

فلم کے واقعات اس وقت سامنے آتے ہیں جب ایک لڑکی خفیہ پارٹی میں شرکت کے بعد صحرا میں پھنس جاتی ہے۔ لڑکی اونٹ کا سامنا کرنے پر مجبور ہوجاتی تاکہ وہ ایک معین وقت کے اندر گھر واپس پہنچ سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں