سال 1972 میں فلسطینیوں نے جرمن طیارہ کیسے ہائی جیک کیا

تاوان کی رقم تل ابیب کے لُد ایئرپورٹ پر 26 افراد کے قتل پر مبنی کارروائی میں استعمال کئے جانے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سال 1972 میں اولمپک گیمز کے دوران میونخ میں اسرائیلی کھلاڑیوں پر حملے سے پہلے اسی سال فروری میں لفتھانسا کے بوئنگ 747 طیارے کے ہائی جیک ہونے سے مغربی جرمنی ہل گیا تھا۔

ہائی جیکنگ کی ذمہ داری پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین سے منسوب کی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق بعد میں اس طیارے کے مسافروں کی رہائی کے بدلے بھاری تاوان کا مطالبہ کیا گیا۔ طیارے میں 170 سے زیادہ مسافر موجود تھے۔

یہ طیارہ فلائٹ 649 کے حصے کے طور پر کام کرتا تھا۔ طیارے نے ٹوکیو، ہانگ کانگ، بنکاک، نئی دہلی، ایتھنز اور فرینکفرٹ کے درمیان پرواز کر رکھی تھی۔ عام طور پر اس روٹ پر ہفتہ وار ایک پرواز ہوتی تھی۔ طیارے نے پیر کی شام کو ٹوکیو سے ٹیک آف کرنا تھا اور اگلی صبح فرینکفرٹ پہنچنا تھا۔

جرمن سکیورٹی اہلکار 1972 میں اسرائیلی اولمپک وفد کو آزاد کرانے کے لیے  کارروائی کر رہے ہیں

بھارت کے نئی دہلی ایئرپورٹ سے روانگی کے صرف آدھے گھنٹے بعد ہی جرمن بوئنگ 747 کو 22 فروری 1972 کو رات تقریباً ایک بجے ہائی جیک کر لیا گیا۔ ہائی جیکنگ کے وقت اس پرواز میں سٹاف کے پندرہ افراد کے علاوہ 172 مسافر سوار تھے۔ کیبن کریو کے ارکان اور فرنٹ کے پانچ ارکان بھی شامل تھے۔ مشین گن اور دھماکہ خیز مواد استعمال کرنے والی پاپولر لبریشن پارٹی آف فلسطین نے ہائی جیکنگ کی اور دھمکی دی کہ اگر ان کی شرائط پوری نہ کی گئیں تو طیارے کو اڑادیا جائے گا۔

آپریشن کے دوران اغوا کاروں نے اپنی ایک تنظیم سے وابستگی کا اعلان کیا۔ اس تنظیم کو انہوں نے صیہونی مزاحمتی تنظیم کا نام دیا تھا۔ دریں اثنا تحقیقات نے تصدیق کی ہے کہ اغوا کاروں کو احکامات براہ راست پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین سے موصول ہوئے تھے۔

پہلے تو ہائی جیکروں نے طیارے کو صحرائے عرب کی ریت پر اتارنے کی کوشش کی۔ تاہم جہاز کے عملے کے ساتھ اس آپریشن کی خطرناکی سمجھتے ہوئے ہائی جیکروں نے جنوبی یمن کے عدن بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طرف جانے کو ترجیح دی۔ ایئرپورٹ پہنچنے پر اغوا کاروں نے اغوا کیے گئے طیارے میں سوار تمام خواتین اور بچوں کو چھوڑ دیا۔

اغوا کے آغاز کے چند گھنٹے بعد لفتھانزا کے دفتر کو اغوا کاروں کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا جس میں ان سے تقریباً 5 ملین ڈالر کا تاوان ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ رقم ادا کرنے کے لیے بیروت کو مقرر کیا گیا۔

حملے کے بعد اللد ایئرپورٹ   کے فرش پر خون بکھرا ہوا ہے

اس معاملے پر اعتراض کیے بغیر مغربی جرمنی نے اغوا کاروں کے مطالبات کو براہ راست تسلیم کر لیا اور مطلوبہ تاوان کی رقم ادا کرنے کے لیے آگے بڑھا۔ یہ بات سنتے ہی اگلے روز پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین سے تعلق رکھنے والے اغوا کاروں نے مغوی افراد کو رہا کر دیا۔

اگلے دنوں کے دوران طیارہ ہائی جیکنگ کے واقعے نے پوری دنیا میں عدم اطمینان کی کیفیت پیدا کردی کیونکہ بہت سے لوگوں نے ہوائی اڈے کی حفاظت اور طیاروں پر ہتھیار لانے کی آسانی پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ مغربی جرمنی میں جرمنوں نے اپنے ملک کے حکام کی جانب سے طیارہ ہائی جیکنگ کے واقعے سے نمٹنے اور ہائی جیکروں کا مقابلہ کرنے کے قابل خصوصی فورس کی کمی پر اپنے غصے کا اظہار کیا۔

اس واقعے کے بعد کے سالوں کے دوران مغربی جرمنی اور اسرائیل میں یہ رپورٹس سامنے آئیں کہ پاپولر فرنٹ فار لبریشن آف فلسطین نے اسرائیل میں تل ابیب میں لُد ایئرپورٹ قتل عام کے لیے جرمنی سے حاصل کی گئی رقم سے تقریباً ایک ملین ڈالر کی رقم استعمال کی۔ لُد ایئرپورٹ پر کارروائی میں 26 افراد ہلاک اور 80 زخمی ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں