اونٹوں کے بارے میں سعودی شعرا اور گلوکاروں کیسے کیسے گیت لکھے اور گائے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بہت سے سعودی شاعروں نے "اونٹوں" کے بارے میں نظمیں لکھیں۔ ان کے بارے میں یا ان سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔ اسی طرح بہت سے گلوکاروں نے اونٹوں کے بارے میں گیت گائے۔ لوگ آج بھی انہیں دہراتے ہیں۔ سال 2024 کو اونٹوں کا سال قرار دینے کے ساتھ ہی سعودیوں شہریوں نےان نظموں اور اونٹوں کے گانوں کے ساتھ اپنی یادیں تازہ کیں۔

شروع میں شاعر عیسیٰ السحیمی جو کہ لوک شاعری میں دلچسپی رکھتے ہیں نے گفتگو کی اور کہا کہ سعودی شاعروں نے اپنی نظموں میں اونٹوں کے رنگ اور سائز کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان کےساتھ محبت کے لحاظ سے بھی اونٹوں کو شاعری میں جگہ دی ہے۔

ان کے لوگ اور ان کا ان سے تشبیہ ایک ایسی عظیم چیز ہے جو ان کے لیے باعث فخر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ماضی میں ان کے لیے روزی کا ذریعہ تھے اور لوگ اونٹوں کو سفر میں سب سے زیادہ آرام دہ ذریعہ سمجھتے تھے۔

جب وہ اسے دیکھتے ہیں تو یہ ان کے لیے خوشی اور مسرت کا باعث ہوتا ہے۔ اگر وہ غم کی حالت میں ہوں تو اس کے پاس جاتے ہیں اور پھر ان کے دل شاعرانہ شاعری سے چھلک پڑتے ہیں۔ جس طرح ان کے باپ دادا اس پر فخر کیا کرتے تھے۔

السحیمی نے وضاحت کی کہ اونٹوں کے بارے میں ہر شاعر کی اپنی نظموں میں اپنا نقطہ نظر ہوتا ہے۔ خواہ وہ ان کو بیان کرے یا ان کے بارے میں فخر کا اظہار کرے۔ بہت سے سعودی شاعر ہیں جنہوں نے اونٹوں کو اپنی شاعری میں جگہ دی۔ ان میں سعد بن جدلان، عبداللہ بن زویبن، خلف بن ہذال اور دوسرے شعرا شامل ہیں.

فنی ورثے کے محقق مصور خالد عبدالرحیم نے کہا کہ سال 2024ء کو اونٹ کے سال کے طور پر منتخب کرنا قومی ورثے کے استحکام کی نمائندگی کرتا ہے، اس کی اہمیت اور شناخت، اصلیت اور اقدار کے تحفظ کے لیے ریاست کی کاوشوں کی عکاسی کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں