خاندانوں کے تمام افراد مارے پھر رہے، روٹی نہیں مل رہی: بزرگ فلسطینی نے دل چیر دئیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک فلسطینی بزرگ نے کہا ہے کہ غزہ میں پورے پورے خاندان ایک روٹی کی تلاش میں ہیں اور انہیں روٹی نہیں مل رہی۔ معمر فلسطینی نے غزہ کی پٹی میں بھوک کی کیفیت بیان کرکے دل چیر کر رکھ دئیے۔

بزرگ فلسطینی نے العربیہ کو یہ بھی بتایا کہ اللہ ان لوگوں کی مدد کرے جن کے چھوٹے بچے اس سردی میں میں کھلے آسمان تلے سو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہم انتہائی مشکل سے گزر رہے ہیں۔ ہم اپنے گھر جانے کے لیے منٹ منٹ اور گھنٹہ گھنٹہ انتظار کرتے ہیں۔

فلسطین کے معمر شہری نے اپنی تکلیف کا اظہار یوں بھی کیا کہ ہم کھانا پینا نہیں چاہتے لیکن ہم اپنے گھروں کو لوٹنا چاہتے ہیں اور وہاں حفاظت اور سلامتی کے ساتھ بیٹھنا چاہتے ہیں۔ غزہ کی پٹی میں پہنچنے والی خوراک کا احوال بیان کرتے ہونے انہوں نے کہا امدادی خوراک کی جو مقدار 6 افراد پر مشتمل خاندان تک پہنچتی ہے وہ دو کین پھلیاں، ایک کین دودھ اور پانی کی دو بوتلوں پر مشتمل ہوتی ہے۔

قحط کا خطرہ بڑھتا جا رہا

اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ ایک کمیٹی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ غزہ کے تمام 2.3 ملین افراد کو بھوک کے بحران کا سامنا ہے اور ہر روز قحط کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی کی عبوری درجہ بندی کمیٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ غزہ میں غذائی عدم تحفظ سے متاثر ہونے والے خاندانوں کا فیصد دنیا میں اب تک کا سب سے بڑا ریکارڈ ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے پیر کو کہا تھا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے جو ایک جنگی جرم ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسا کرنا فوری بند کرے اور غزہ کا محاصرہ ختم کردے۔

واضح رہے 7 اکتوبر کو لڑائی شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل نے امدادی ٹرکوں کو اپنی سرحدوں سے غزہ کی پٹی میں داخل ہونے سے روک دیا اور اب تک صرف مصر کی رفح کراسنگ سے صرف چند سو قافلوں کو غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ لائی جانے والی خوراک کی مقدار یہاں کی آبادی کو درکار مقدار کا صرف 10 فیصد ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں