آنکھوں کو اندھے پن سے کیسے بچایا جائے؟ عالمی ادارہ صحت کی تجاویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے اعدادوشمار نے بتایا کہ دنیا بھر میں 70 فیصد لوگ جنہیں طبی چشموں کی ضرورت ہوتی ہے وہ عینک حاصل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ یہ اعداد و شمار "سائنس ان فائیو" کی ایک ٹی وی قسط میں وسمیتا گپتا سمتھ نے پیش کئے۔ ہیلتھ آرگنائزیشن اپنے آفیشل پلیٹ فارمز پر پروگرام میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے بصارت کی اصلاح کے ماہر ڈاکٹر سٹیورٹ کیل نے اظہار خیال کیا۔

پروگرام میں دنیا بھر میں نابینا پن کی بنیادی وجوہات کو بیان کیا گیا۔ کن افراد کو اندھے پن کا سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے اور اندھے پن سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ اس حوالے سے بھی آگاہی دی گئی۔

اندھے پن کی بڑی وجوہات

ڈاکٹر سٹیورٹ کیل نے کہا کہ اندھے پن کی ایک اہم وجہ موتیا بند ہے۔ اس سے وقت کے ساتھ ساتھ بینائی میں تیزی سے دھندلا پن ہوتا ہے۔ کمزور بصارت اور اندھے پن کی دوسری بڑی وجہ وہ ہے جسے اضطراری خرابی کہا جاتا ہے جن کی سب سے عام قسمیں نزدیکی یا دور کی بصارت کی کمی ہے۔ اضطراری خرابی آنکھ کی گیند جسے ریٹینا کہا جاتا ہے کی غیر معمولی شکل یا لمبائی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ آنکھ میں داخل ہونے والی روشنی آنکھ کے پچھلے حصے پر صحیح طور پر مرکوز نہیں ہو پاتی۔

اندھے پن کی دیگر اہم وجوہات آنکھ کے پچھلے حصے کو پہنچنے والے نقصان کا نتیجہ ہیں۔ اس پچھلے حصے میں گلوکوما بھی شامل ہے۔ یہاں آنکھ کے پچھلے حصے میں واقع اعصاب کو بتدریج نقصان پہنچتا ہے جس سے بصارت بگڑ جاتی ہے۔

اندھے پن کی اہم وجوہات میں عمر سے متعلق میکولر ڈیجنریشن، ریٹینا کے مرکز جسے میکولا کہا جاتا ہے میں خلیات کا بگڑ جانا، مرکزی بصارت کا بگڑ جانا اور رنگین بینائی کے مسائل اور دیگر مسائل شامل ہیں۔

اس فہرست میں ذیابیطس کی آنکھوں کی بیماری بھی شامل ہے۔ اس میں آنکھ کے پچھلے حصے میں رسنے والی نالیوں سے سوچن پیدا ہوتی ہے۔ خون بہنے سے اور داغ پڑنے سے بینائی متاثر ہوسکتی ہے۔

سب سے زیادہ خطرہ

ڈاکٹر کیل نے مزید کہا کہ نابینا ہونے کا خطرہ ہر کسی کو ہوتا ہے لیکن آبادی کے بعض طبقات کو دوسروں کے مقابلے زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ پہلے طبقے میں بوڑھے افراد اور آنکھوں کے حالات جیسے موتیابند، گلوکوما اور عمر سے متعلق مسائل شامل ہیں۔ تقریباً 80 فیصد بینائی کا نقصان 50 سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں میں ہوتا ہے۔

آنکھوں کی بیماریوں کا تعلق خاندانی تاریخ سے بھی ہے۔ اگر خاندان کا کوئی فرد خاص طور پر ماں یا باپ آنکھوں کی بعض بیماریوں میں مبتلا ہے تو ایسے شخص کو بھی آنکھ کی بیماری کا خطرہ زیادہ ہوجاتا ہے۔

طرز زندگی کا کردار

ڈاکٹر کیل نے مزید بتایا کہ طرز زندگی کے کچھ عوامل ہیں بھی آنکھ کے مسائل کا باعث بن سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر سگریٹ نوشی موتیا بند ہونے کے ساتھ ساتھ میکولر انحطاط کے لیے خطرناک ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صحت کی کچھ بنیادی حالتیں اور دوائیں ہیں جو آنکھوں کی بیماریوں جیسے ذیابیطس اور ایک سے زیادہ سکلیروسیس کے خطرے کو بھی بڑھا سکتی ہیں۔ سٹیرائڈز کا طویل استعمال آنکھوں کی بیماریوں کو سبب بن سکتا ہے۔

اچھی خبر

ڈاکٹر کیل نے بتایا کہ اچھی خبر یہ ہے کہ ان بیماریوں کی وجہ سے ہونے والی بصارت کی کمزوری کے زیادہ تر کیسز کو جلد پتہ لگانے یا شناخت کرنے اور علاج کے ذریعے سے بچا جا سکتا ہے۔ اس لیے سب سے اہم عنصر آنکھوں کا باقاعدگی سے معائنہ ہے۔ سال میں کم از کم دو بار آنکھوں کا معائنہ کرانا چاہیے۔ خاص طور پر عمر بڑھنے کے ساتھ اور زیادہ خطرے والی آبادی میں آنکھوں کے معائنے کی ضرورت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

بینائی کی حفاظت کے طریقے

ڈاکٹر کیل نے تجاویز دیں کہ بینائی اور آنکھوں کو ان بیماریوں کی نشوونما سے بچانے کے لیے بہت سے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم دھوپ کے چشمے اور چوڑی کناروں والی ٹوپی کا استعمال کرکے بالائے بنفشی شعاعوں کی نمائش کو محدود کرنا ہے۔

20-20-20 کا اصول

ڈاکٹر کیل نے قریبی کام کی سرگرمیوں سے باقاعدگی سے وقفہ لینے، سکرینوں اور کمپیوٹرز کا استعمال کرتے ہوئے اور

پڑھتے وقت تھکاوٹ سے بچنے کا بھی مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک سادہ اصول پر عمل کیا جانا چاہیے۔ اسے 20-20-20 کا قاعدہ کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر 20 منٹ میں جب آپ کمپیوٹر یا ڈیوائس استعمال کر رہے ہوں یا قریب سے دیکھ رہے ہوں تو آپ کو کم از کم 20 سیکنڈ کے لیے کم از کم 20 فٹ کے فاصلے سے دیکھنا چاہیے۔

الیکٹرانک ایپلی کیشن

ڈاکٹر کیل نے کہا کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے حال ہی میں ’’WHOEyes ‘‘ کے نام سے ایک نئی ایپلی کیشن لانچ کی ہے جو کسی بھی سمارٹ ڈیوائس یا کمپیوٹر کے ساتھ اپنی قریب اور دور کی بینائی کو جانچنے اور اپنی آنکھوں کی حفاظت کرنے کا طریقہ سیکھنے کے قابل بناتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں