"وائرل" اور "بیکٹیریل" بم بھی غزہ کے مکینوں کے لیے تباہ کن

غزہ وبائی امراض کا مرکز بن رہا، صدیوں پہلے ختم ہوجانے والی بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ ہے: فلسطینی ڈاکٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

غزہ کی پٹی میں 80 دنوں کی جنگ نے دکھوں اور مصائب کے باعث سارا نقشہ بدل دیا ہے۔ غزہ کے مکینوں پر روزانہ گرنے والے بم اب واحد مسئلہ نہیں رہے۔ اب وہاں درد و کرب کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

شمالی غزہ میں لوگوں کو گلیوں میں روزانہ لاشیں ملتی ہیں۔ ایسی لاشیں بھی ملی ہیں جن میں سے کچھ کو کتے کھا گئے تھے اور کچھ گل سڑ گئی تھیں۔ دوسری طرف لگ بھگ پٹی کی ساری آبادی بے گھر ہوگئی ہے اور پناہ گاہوں میں ہے۔ پناہ گاہوں میں لوگوں کا ایک ساتھ ہجوم ہے اور کسی متعدی بیماری میں مبتلا شخص کی بیماریاں تیزی سے دوسروں میں پھیلنے لگی ہیں۔

غزہ کی پٹی کے شمال سے جنوب کی طرف بے گھر ہونے والے محمد مشتھی نے خوراک کی فراہمی کی شدید قلت کی بات کی ۔ انہوں نے کہا ان تمام حالات کے درمیان بیماریوں کا پھیلنا ایک مختلف نوعیت کا "ٹائم بم" ہے جو کسی بھی وقت پھٹ جائے گا۔

مشتھی نے خوراک کے تنوع کی کمی کی طرف اشارہ کیا اور کہا تقریباً ایک ماہ سے ہم نے صرف چاول ہی کھائے ہیں۔ جو چیز ہم سے مختلف ہے وہ چاولوں میں شامل مصالحوں کی قسم ہے۔ ہم نے ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے سبزیاں نہیں دیکھیں۔ جنگ کے آغاز سے ہم نے اب تک پھل نہیں دیکھے۔

مشکلات یہیں تک نہیں رکتے ۔ ہم کنویں کا پانی پیتے ہیں جو کھارا پانی ہے اور پینے کے لیے موزوں نہیں ہے۔ ہم اپنے بچوں کو یہی پانی پلانے پر مجبور ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم ان کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بے گھر ہونے والوں میں سے بہت سے لوگوں کو روٹی نہیں ملتی اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اس فرد کو بمشکل ایک چھوٹی سی روٹی ملتی ہے جو اسے تین وقت کے کھانے پر تقسیم کرنی پڑتی ہے۔ اگر وہ بچہ ہے تو اس کا حصہ پورے دن کے لیے آدھی روٹی سے زیادہ نہیں ہوگا۔

خوفناک صورتحال

ڈاکٹر ولید الباشا ایک امیونولوجسٹ اور ان نجاح نیشنل یونیورسٹی کی فیکلٹی آف میڈیسن کے لیکچرر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ

موجودہ صورتحال میں غزہ کی پٹی کو ماحولیاتی اور انسانی تباہی کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوت مدافعت کی کمی اور وبائی امراض اور بیماریاں پھیلنے سے غزہ میں ایسی بیماریاں واپس آسکتی ہیں جو صدیوں پہلے غائب ہو گئی تھیں۔ غزہ کی پٹی ایک ایک وائرل اور بیکٹیریل جنگ کے خطرے کا سامنا کر رہی ہے۔ یہ ایسی ہی صورتحال ہے جو ہیروشیما اور ناگاساکی نے دوسری جنگ عظیم کے ایٹمی حملے کے بعد دیکھی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں جاپان میں ڈاکٹروں اور لوگوں سے بات کر رہا ہوں جو اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ انہوں نے غزہ کی پٹی جن حالات کا سامنا کر رہی ہے انہوں نے بھی ایسے حالات نہیں دیکھے۔

ڈاکٹر ولید کے مطابق غزہ میں آبادی کی کثافت کی وجہ سے تپ دق، موسمی انفلوئنزا، کورونا وائرس اور ایسی دیگر بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ آبادی پناہ گاہوں میں بھری ہوئی ہے جس سے بیماریوں کا پھیلنا ناگزیر ہوگیا ہے۔ بچوں کے لیے حفاظتی ٹیکے اور سیرم کی کمی سے بچوں کی صحت کا مستقبل خطرے میں ہے۔

انہوں نے ایک اور صحت کی تباہی کی طرف اشارہ کیا اور بتایا کہ زخمیوں کے علاج کے دوران جراثیم کش ادویات کے بغیر ہی ایمبولینس سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ اس سے خون سے پیدا ہونے والی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

ڈاکٹر نے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں پینے کے پانی میں گندے پانی کی آمیزش سے صحت کی تباہی کے پیمانے بڑھ جاتے ہیں۔ اس سے ہیضہ اور ٹائیفائیڈ جیسی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ گلیوں میں لاشوں کا پھیلنا اور ان کی تدفین میں ناکامی نئی بیماریاں جنم دیتی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ یہ تمام بیماریاں صرف غزہ کی پٹی تک ہی محدود نہیں رہیں گی بلکہ اس سے باہر دیگر مقامات پر بھی پھیل جائیں گی۔ خاص طور پر موسم سرما میں جب قوت مدافعت کم ہوجاتی ہے ایسی بیماریاں کا پھیلاؤ بھی تیز ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان بیمیاروں کا علاج ادویات سے نہیں ہوتا بلکہ اس کا حل ان وجوہات کا علاج کرنا ہے جو بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بنتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ صورتحال ناقابل بیان حد تک خوفناک ہے اور غزہ ایک وبائی امراض کا مرکز بن رہا اور ایسی بیماریوں کے پھیلاؤ کی جگہ بنے گا جو صدیوں پہلے غائب ہو گئی تھیں۔

موسم سرما اور وبائی امراض

فلسطینی ہلال احمر کے ترجمان ڈاکٹر عبدالجلیل غزہ میں صحت کی صورتحال کو ایک تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ حالات بہت مشکل ہیں۔ ہمارے پاس گلیوں میں لاشوں کی زندہ شہادتیں ہیں۔ یہ صورتحال بیماریوں اور وبائی امراض کے پھیلاؤ کا سبب بنتی ہے۔

انہوں نے کہا ہمیں خوراک اور پانی کے بغیر رہنے والے خاندانوں کی طرف سے روزانہ سینکڑوں اپیلیں موصول ہوتی ہیں۔ غذائیت اور قوت مدافعت کی کمی کی وجہ سے لامحالہ بہت سی بیماریاں پھیلیں گی۔ ہمیں سردی اور موسم سرما کے ساتھ ساتھ وبائی امراض کے پھیلنے کے بہت سنگین خطرے کا سامنا ہے۔

گزشتہ ہفتے عالمی ادارہ صحت نے غزہ میں بیماریوں اور بھوک کے پھیلاؤ کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے "ایکس" پر کہا تھا کہ بھوک جسم کے دفاع کو کمزور کرتی ہے اور بیماریوں کے دروازے کھول دیتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں