القدس کے قدیم ترین قبرستان میں گدھے کا سر لٹکائے جانے پر اسرائیلی پولیس کا جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی آباد کاروں نے القدس کے قدیم ترین اسلامی قبرستان میں ایک گدھے کا سر لٹکا دیا۔ اس سے سوشل میڈیا پر غصے کی لہر دوڑ گئی۔ کارکنوں نے سوشل میڈیا پر تصاویر اور ایک مردہ گدھے کے سر کا ویڈیو کلپ پھیلا دیا۔ اس گدھے کے سر کو الاقصیٰ کی مشرقی دیوار سے چند میٹر دور باب الرحمہ قبرستان میں قبروں کے درمیان ایک چھڑی پر رکھا گیا تھا۔

Advertisement

القدس گورنریٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ایک آبادکار نے باب الرحمہ قبرستان پر دھاوا بول دیا اور ایک قبر پر گدھے کا سر لٹکا دیا۔

دوسری جانب اسرائیلی پولیس نے اس واقعہ پر کہا کہ القدس کی اولڈ میونسپلٹی سے جنوبی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک 35 سالہ مشتبہ شخص کو قبرستان میں گدھے کا سر لٹکانے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس نے کہا کہ اس مشتبہ شخص کو جانوروں کے ساتھ بدسلوکی اور امن عامہ کی خلاف ورزی کے شبہ میں ڈیوڈ ڈسٹرکٹ میں تحقیقات کے لیے بھیجا گیا ہے۔

واضح رہے حالیہ برسوں میں اسرائیلی آباد کاروں نے باب الرحمہ قبرستان پر متعدد بار حملے کیے ہیں۔ ان سالوں میں خاص طور پر حالیہ حکومت کے قیام کے بعد سے القدس میں آباد کاروں کے حملوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

مغربی کنارے میں بھی فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ سات اکتوبر کو غزہ میں شروع ہونے والے جنگ کے دوران مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فورسز اور یہودی آباد کاروں نے 200 سے زیادہ فلسطینیوں کو جاں بحق کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں