اسرائیلی حراست میں تشدد سہنے والے تین فلسطینی بھائیوں کی دلخراش رُوداد

’ہماری کمر پر سگریٹ بجھائے گئے، ہم پر پانی اور ریت پھینکی گئی اور ہمارے اوپر پیشاب کیا گیا‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل کی حراست میں رہنے والے تین فلسطینی بھائیوں کا کہنا ہے کہ دورانِ قید انہیں برہنہ کر کے سگریٹ سے جلایا گیا اور دیگر طریقے اپناتے ہوئے برے سلوک کا نشانہ بنایا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صبحی یاسین اور ان کے بھائیوں سعدی اور ابراہیم سمیت متعدد فلسطینی مردوں نے اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں بتایا۔

دوسری جانب اسرائیلی دفاعی افواج کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں وضاحت پیش کی گئی ہے کہ حماس کی عسکری صلاحیتوں کو ختم کرنے اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کارروائی کر رہے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت قیدیوں کے ساتھ برتاؤ کیا گیا ہے اور اکثر انہیں کپڑے اتارنے کا کہا جاتا تھا تاکہ یہ یقین دہانی ہو سکے کہ ان کے پاس کسی قسم کا کوئی ہتھیار یا دھماکہ خیز مواد موجود نہیں ہے۔

غزہ سے حراست میں لیے گئے تین فلسطینوں بھائیوں نے رائٹرز کو بتایا کہ انہیں گھر سے دور فوجی بیرک یا کیمپ میں کسی نامعلوم مقام پر دو ہفتوں کے لیے رکھا گیا تھا۔ صبحی یاسین کا کہنا ہے کہ دسمبر کے شروع میں اسرائیلی فوج کی جانب سے علاقے کا گھیراؤ کرنے کے بعد انہیں دونوں بھائیوں سمیت حراست میں لیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوجی جب انہیں اپنی تحویل میں لینے آئی تو ٹانگ پر زخم کی وجہ سے وہ فوجی ٹرک میں چڑھ نہیں سک رہے تھے، تو اس وقت چار اہلکاروں نے انہیں مارا پیٹا اور پھر ایک کھلے مقام پر لے گئے جہاں ’ہماری کمر پر سگریٹ بجھائے گئے، ہم پر پانی اور ریت پھینکی گئی اور ہمارے اوپر پیشاب کیا گیا۔‘

صبحی یاسین کے بھائیوں سعدی اور ابراہیم نے بھی اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں اسی طرح کی بدسلوکی کے بارے میں بتایا۔ غزہ کی پٹی کے علاقے رفح کے ایک سکول میں پناہ لینے والے تین بھائیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے واضح طور پر کسی قسم کے الزامات ان پر عائد نہیں کیے۔

اس سکول میں موجود دیگر 20 مرد بھی اسرائیل کی تحویل میں رہ چکے تھے اور ان کے جسم پر مار پیٹ کے نشانات موجود تھے۔ سعدی یاسین نے بتایا کہ جب انہیں حراست میں لیا گیا تو کوڑے کے ٹرک میں دیگر قیدیوں کے ساتھ نامعلوم مقام پر لے جایا گیا۔ ’وہ ہمیں مار رہے تھے اور مار کھانے کے بعد جو بھی آواز نکالتا، اسے دوبارہ مارتے۔ ہماری تلاشی لی گئی، ہمارے شناختی کارڈ، پیسے اور فون ہم سے لے لیے۔‘

تیسرے بھائی ابراہیم نے بتایا کہ تفتیش کے دوران ان کے ہاتھ باندھے گئے اور آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ ’وہ ہمیں سونے نہیں دیتے تھے۔ سزا کے طور پر کئی گھنٹے ہم کھڑے رہتے تھے۔‘ابراہیم نے بتایا کہ ’پانچ فوجی اہلکار تھے جو باری باری ہمارے سروں اور جسم پر مارتے تھے۔‘ ان کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے ان کو پسلیوں پر مارا تھا۔

حراست میں رکھنے کے بعد اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی اور اسرائیل کے درمیان واقع کرم ابو سالم راہداری پر تینوں بھائیوں کو علیحدہ علیحدہ اتارا۔ بھائیوں کے مطابق وہاں سے وہ کئی کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کر کے رفح پہنچے جہاں لاکھوں بے گھر افراد کے درمیان انہوں نے ایک دوسرے کو تلاش کیا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے 16 دسمبر کو کہا تھا کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے شمالی غزہ میں فلسطینیوں کو بڑے پیمانے پر حراست میں لیے جانے، ان کے ساتھ ناروا سلوک اور جبری گمشدگی کی متعدد اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

انسانی حقوق کے دفتر نے مزید کہا کہ بین الاقوامی انسانی قانون کا تقاضا ہے کہ شہریوں کو صرف ضروری حفاظتی وجوہات کی بنا پر حراست میں لیا جائے، اور قیدیوں کے ساتھ تشدد اور دیگر ناروا سلوک سختی سے منع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں