سعودی عرب کی نبیلہ جس نے فوٹوگرافی کے شوق کو اپنا جنون بنا کر روایت بدل دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کی نوجوان فوٹو گرافر نبیلہ ابو الجدائل کا شمار مملکت کے ماہر پیشہ ور فوٹو گرافروں میں ہوتا ہے۔ نبیلہ کو فوٹو گرافی کا شوق بچپن سے تھا اور اس نے اپنے اس شوق کو جنون کے طور پر پروان چڑھایا۔

نبیلہ کی فوٹو گرافی نے روایت پسند معاشرے میں ایک نئی سوچ پیدا کرنے کے ساتھ فوٹو گرافی میں مردوں کی اجارہ داری کوبھی چیلنج کیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے انٹرویو میں نبیلہ نے کہا کہ ’فن فوٹو گرافی میرا جنون‘ ہے اور کیمرے سے میری محبت بچپن سے ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میری والدہ نے فوٹو گرافی کے میدان میں آنے کے لیے میری خواہشات کا احترام کیا اور میری سوچ کو اس وقت تقویت بخشی جب اس نے تیزابیت کی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے فوٹو گرافی کے لیے پہلا کیمرہ خریدا۔

اس وقت سے نبیلہ نے فوٹو گرافی کی تعلیم حاصل کرنے تک اس میدان میں کئی اہم سنگ میل طے کیے۔ اسی شوق کو لے کر وہ پردیس تعلیم کے حصول کے لیے گئی اور امریکی بوسٹن شہر کی نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی میں فوٹو گرافی کے شعبے میں گریجوایشن کی۔

انہوں نے کہا کہ فوٹو گرافی سے میری محبت لمحات کو دستاویزی شکل دینے کی اہمیت کے احساس کی وجہ سے ہے۔اس شوق کو پروان چڑھاتے ہوئے وہ نہ صرف کیمرے کا استعمال کرتی ہیں بلکہ وہ ہاتھ سے پینٹنگز بھی بناتی ہیں۔

صرف کیمرہ ہی کسی شخص کے جذبات کو تصویر میں بدل سکتا ہے یہ ضروری نہیں۔ جب کوئی شخص انہیں یاد کرتا ہے تو وہ یا تو مسکراتا ہے یا اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں۔ وہ لمحات وقت گذرنے کے ساتھ دھندلا جاتے ہیں مگر کیمرہ انہیں یاد گار بنا دیتا ہے۔

فوٹو گرافی کے ساتھ تعلق کا آغاز

ایک سوال کے جواب میں نبیلہ ابو جدائل نے کہا کہ فوٹوگرافی میں میرا سفر معمول کے مطابق میری چھوٹی عمر میں شروع ہوا۔ نو سال کی عمر میں میری والدہ ثریا الشہری کو دکھایا کہ مجھے فوٹو کھینچنا کتنا پسند ہے۔ اس لیے انہوں نے جلدی سے میرے لیے پہلا ڈیجیٹل کیمرہ خرید لیا۔ اس کے بعد یہ میرا شوق اور جنون ہے۔ اسی جنون کو لے کر میں امریکی شہر بوسٹن کی نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی میں گئی جہاں گریجوایشن کی۔

اس نے کہا کہ فوٹو گرافی سے میری محبت دراصل لمحات کو دستاویزی شکل دینے کی اہمیت کا میرا احساس ہے۔ اس کے لیے کیمرے کا استعمال کافی نہیں۔ میں ہاتھ سے پینٹنگز بھی بناتی ہوں۔

حج فوٹوگرافی کی اہمیت

نبیلہ ابو جدائل نے کہا کہ ’میں نے عکاز‘ اخبار کے ساتھ ایک فوٹو گرافر کے طور پر مسلسل تین سال تک حج سیزن کی تصویر کشی کی۔ برطانوی چینل ITV نے حج کے دوران مجھے حج کے مناظر کی عکس بندی کی ذمہ داری سونپی۔ میں نے چینل ITV کے لیے حج کی انگریزی میں کوریج بھی کی۔ اس دوران ٹی وی چینل نے حج کے حوالے سے ایک دستاویزی فلم تیارکی۔ جسے’Haj... A Journey to Maka‘ کےعنوان سے نشر کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ مسلسل تین سال حج فوٹو گرافی کی بہ دولت انہیں IPA ایوارڈز جیسے بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا۔

فوٹو گرافی میں کہاں سے حمایت ملی

نبیلہ ابو جدائل نے کہا کہ فوٹو گرافی کے میدان میں مجھے میری والدہ اور بہن بھائیوں سے مالی اور اخلاقی تعاون ملا۔ میری رائے میں ایک کامیاب تصویر کی سب سے اہم نشانیاں یہ ہیں کہ تصویر کھینچتے وقت آپ بار بار کوشش کرتے ہوئے تھکتے نہیں۔ دیر تک کھڑے ہو کر تصویر کا زاویہ تلاش کرنے اور بہتر سے بہتر شارٹ کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ مجھے ہمیشہ خواب کی تصویر کے ساتھ انعام ملنے کی امید ہے۔

آپ آرٹ سے کیوں محبت کرتی ہیں؟

آرٹ روح کے احساسات کا ترجمہ ہے، غیر محسوس اور نظر آنے والی چیز تو بات کرنا ہے۔ میرے لیے آرٹ میرے وجود اور میرے میک اپ کا حصہ ہے۔ آپ مجھے اپنے خیالات کو حقیقت پسندانہ شکل میں وضع کرنے کے لیے ہمیشہ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے پاتے ہیں۔ اسے اس کی انجان دنیا سے معلوم اور مرئی دنیا میں تبدیل کرتے ہیں جہاں دوسرے اسے دیکھتے ہیں۔ میں اس کی حتمی شکل میں پروڈکٹ سے مطمئن ہوتی ہوں۔

اس نے کہا کہ مختصر یہ کہ میں نے اپنے مذہب اور اپنے ملک کے لیے فوٹو گرافی کی۔ میری پہلی خواہش یہ ہے کہ ہم سعودیوں اور مسلمانوں کی حیثیت سے اپنی کہانیوں کو دستاویزی شکل دیں۔ ایسی کہانیوں کی دستاویز کرنا جو جدید آرٹ کے انداز میں نہیں کہی گئی ہیں جو ہر عمر اور جنس کو مخاطب کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں