مشرق وسطیٰ

’غزہ فلسطینی سرزمین ہے اور فلسطینی سرزمین ہی رہے گی،‘ امریکہ

تصادم کے دوران شہریوں کو بے دخل کرنا یا ناقابل رہائش حالات پیدا کرنا، جو انہیں وہاں سے نکلنے پر مجبور کر دیں، جنگی جرم ہے۔‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکہ نے دو اسرائیلی وزرا ایتمار بن گویر اور بیزلیل سموٹریچ کے ان حالیہ بیانات کو مسترد کیا ہے، جن میں انہوں نے فلسطینیوں کی غزہ سے باہر آبادی کاری کی وکالت کی تھی۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا گیا: ’ہم واضح اور مستقل طور پر یہ کہتے رہے ہیں کہ غزہ فلسطینی سرزمین ہے اور فلسطینی سرزمین رہے گی۔‘

اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر نے غزہ کے باشندوں کی فلسطینی سرزمین سے منتقلی کے بارے میں دو اسرائیلی وزراء کے بیانات پر امریکہ کی کڑی تنقید کا سخت جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وہی کریں گے، جو اسرائیل کی بہتری میں ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شائع کیا گیا۔ ان کا یہ پیغام دراصل اس وقت سامنے آیا، جب امریکی محکمہ خارجہ نے ان کے مطالبے پر یہ کہہ کر کڑی تنقید کی تھی کہ ''فلسطینی آبادی کی منتقلی اشتعال انگیزی اور غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔‘‘

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا، ''غزہ فلسطینی سرزمین ہے اور فلسطینی سرزمین ہی رہے گی۔ تصادم کے دوران شہریوں کو بے دخل کرنا یا ناقابل رہائش حالات پیدا کرنا، جو انہیں وہاں سے نکلنے پر مجبور کر دیں، جنگی جرم ہے۔‘‘

ایکس پر پوسٹ کیے گئے اس پیغام میں اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے منگل کو رات گئے مزید لکھا، ''امریکہ ہمارا سب سے اچھا دوست ہے لیکن سب سے پہلے ہم وہی کریں گے، جو اسرائیل کی ریاست کے لیے بہتر ہے۔ غزہ سے لاکھوں فلسطینیوں کی نقل مکانی سے اسرائیلی رہائشیوں کو گھر واپس آنے اور سلامتی کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع ملے گا اور اسرائیلی ڈیفنس فورسز کو تحفظ فراہم ہو گا۔‘‘

واشنگٹن نے بن گویر اور اسرائیل کے وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ دونوں کو ہی تنقید کا نشانہ بنایا ہے کیونکہ ان دونوں نے اسرائیلی آباد کاروں کو غزہ واپس جانے اور علاقے کے فلسطینی باشندوں کو اپنا آبائی علاقہ چھوڑنے کے لیے کہا ہے۔

اسرائیلی وزراء کے تبصرے اس خوف کی نشاندہی کرتے نظر آرہے ہیں، جن کا شکار عرب دنیا کے زیادہ تر باشندے ہیں۔ اسرائیلی وزراء کے ایسے بیانات ان خدشات کو جنم دیتے ہیں کہ اسرائیل 1948 ء میں اپنے ریاستی قیام کے وقت کی طرح ایک بار پھر فلسطینیوں کو بڑے پیمانے پر بے دخل کرنا چاہتا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ اتوار کو اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دائیں بازو کے سیاسی اتحاد نے غزہ کے فلسطینی باشندوں پر زور دیا تھا کہ وہ اس محصور علاقے کو چھوڑ دیں۔ قومی سلامتی کے وزیر بن گویر نے اس موقع پر یہ بھی کہا تھا کہ غزہ میں جنگ نے ''اس علاقے کے رہائشیوں کی نقل مکانی کی حوصلہ افزائی پر توجہ مرکوز کرنے کا ایک موقع فراہم کر دیا ہے۔‘‘

اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کی سخت گیر موقف والی دائیں بازو کی مذہبی پارٹی کو اسرائیل کی آبادکار برادری کی حمایت حاصل ہے۔ اسی برادری نے گزشتہ برس نیتن یاہو کو چھٹی بار وزیر اعظم بننے کے لیے درکار اکثریتی ووٹ دلوائے تھے۔

قبل ازیں بین گوئیر کی طرف سے دیے گئے ریمارکس بھی امریکی صدر جو بائیڈن کی ناراضی کا سبب بن چکے ہیں۔ اس کے سبب جو بائیڈن نے دسمبر میں ایک بیان میں کہا تھا، ''اسرائیلی وزیر اور ان کے اتحادی تمام فلسطینیوں سے انتقام لینا چاہتے ہیں۔‘‘

حماس کے عسکریت پسندوں اور اسرائیل کے درمیان تقریباً تین ماہ کی لڑائی کے باعث غزہ کے 2.4 ملین باشندوں کی اکثریت اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکی ہے۔ حماس کے زیر انتظام غزہ میں وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس جنگ میں اب تک کم از کم 22,185 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر عام شہری تھے، جب کہ مسلسل حملوں نے غزہ پٹی کے زیادہ تر علاقوں کو ملبے اور کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ہے۔

اسرائیل اور حماس کی یہ لڑائی گزشتہ برس سات اکتوبر کو اس وقت شروع ہوئی تھی، جب حماس نے اسرائیل پر دہشت گردانہ حملہ کرتے ہوئے تقریبا 1140 اسرائیلیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ حماس کے جنگجو اسرائیل سے واپس جاتے ہوئے 240 کے قریب افراد کو یرغمال بنا کر اپنے ساتھ غزہ بھی لے گئے تھے۔ ان یرغمالیوں کی اکثریت ابھی تک حماس کے قبضے میں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں