’ساتھ مریں‘ بیٹے کو سینے سے لگا کر سونے والے فلسطینی والد کی باتوں سے کلیجہ پھٹ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی مسلسل بمباری اور ہزاروں افراد کی اموات کے بعد زندہ بچ جانے والے ہر وقت موت کے منتظر دکھائی دیتے ہیں۔ غزہ کے خاندانوں کو بمباری کے خوف میں موت کے لیے تیار دیکھا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک فلسطینی نوجوان اور اس کے کم سن بچے کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے۔ اس ویڈیو میں فلسطینی باپ اپنے لخت جگر کو اپنی بانہوں میں بھینچ کر سینے سے لگا کر سوتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ ایسا اس لیے کرتا ہے تا کہ دونوں باپ بیٹا ایک ساتھ ہی مارے جائیں۔

اس کیفیت کے بارے میں اس کی بیوی نے جب پوچھا تو اس کا کہنا تھا کہ بچہ میری بانہوں میں بہ حفاظت سوتا ہے۔ میں بھی یہ چاہتا ہوں کہ جب تک ہم زندہ رہیں بچہ خود کو محفوظ محسوس کرے اور اگر مارے جائیں تو دونوں ساتھ مارے جائیں۔

یہ ایک فلسطینی باپ کا واقعہ ہے مگر حقیقت میں یہ ہر گھر کی المناک کہانی ہے۔ اس کے گھر کو اسرائیلی بمباری نے گھیر لیا تھا۔ اس پر اپنے لخت جگر کو پنے ہاتھوں میں لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ملا۔

فلسطینی کی بیوی نے اس منظر کو اپنے فون میں ریکارڈ کیا۔

جب اس نے اپنے شوہر سے پوچھا کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے، تو اس نے اسے بتایا کہ اس کا چھوٹا بچہ اس کے پاس سب سے قیمتی چیز ہے۔ وہ صرف یہ چاہتا تھا کہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچے، اسی لیے اس نے اسے اپنی بانہوں میں جکڑ لیا ہے تاکہ وہ اس کے ساتھ سو جائے.

انہوں نے کہا کہ اگر تقدیر نے اس جگہ پر بمباری کرنا چاہی تو ان کا بھی یہی انجام ہو گا۔ کلپ میں والد کی آواز سے سنی جا سکتی ہے۔ یہ ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا اور اسے دسیوں بار شیئر کیا جا رہا ہے۔

یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ ویڈیو کہاں کی ہے یا محصور غزہ کی پٹی کے کس علاقے میں بنائی گئی ہے، بس اتنا معلوم ہے کہ والد کا نام ’’نضال‘‘ ہے۔

قابل ذکر ہے کہ تقریباً تین ماہ سے محصور غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری بند نہیں ہوئی ہے بلکہ حال ہی میں اس میں شدت آئی ہے

اسرائیل کی اس خونی مہم کے دوران بڑی تعداد میں شہریوں کی اموات ہو رہی ہیں اور اب تک تقریبا 22 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ستاون ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں