سعودی عرب کےطےشدہ رائل درعیہ اوپرا ہاؤس کا ڈیزائن روایت اورجدیدیت کا خوبصورت امتزاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

اوپرا ہاؤسز موتیوں کے ہار کی طرح عرب دنیا کے گرد حلقہ بنائے ہوئے ہیں گویا یہ نفاست اور ذوق کے چمکدار اجسام ہیں اور اپنی آرائشی ترتیبات میں مقامی سامعین کو علاقائی اور بین الاقوامی پرفارمنس میں بہترین کی پیشکش کرتے ہیں۔

1869 میں قاہرہ میں الخدیویہ اوپرا ہاؤس خطے کا پہلا ایسا مقام تھا جو کلاسیکی اطالوی طرز پر بنایا گیا تھا۔ 1971 میں مشہور عمارت جل کر زمیں بوس ہو گئی لیکن شکر ہے 1980 کے عشرے میں اس کے ایک متبادل اوپرا ہاؤس کے دروازے کھل گئے۔

نئے ہزاریئے کے بعد سے اوپرا ہاؤس پورے خطے میں پھیل چکے ہیں — دمشق، الجیئرز، مسقط، دوحہ اور دبئی میں۔ اب ریاض میں رائل درعیہ اوپرا ہاؤس کی تعمیر سے سعودی عرب کا اپنا اوپرا ہاؤس ہوگا۔

2028 میں افتتاح کے لیے تیار رائل درعیہ اوپرا ہاؤس کا تصور فنکاروں، سامعین اور ثقافتی تبادلوں کی آئندہ نسلوں کے لیے ایک نیا اسٹیج تشکیل دینے کے لیے ہے۔ (تصویر بشکریہ: سنوہیٹا ڈاٹ کام)
2028 میں افتتاح کے لیے تیار رائل درعیہ اوپرا ہاؤس کا تصور فنکاروں، سامعین اور ثقافتی تبادلوں کی آئندہ نسلوں کے لیے ایک نیا اسٹیج تشکیل دینے کے لیے ہے۔ (تصویر بشکریہ: سنوہیٹا ڈاٹ کام)

2028 میں افتتاح کے لیے طے شدہ درعیہ کا نیا جدید ترین پرفارمنگ سنٹر ناروے کی تعمیراتی فرم سنوہیٹا نے سعودی عرب کی تعمیراتی کمپنی سین کے تعاون سے ڈیزائن کیا تھا۔

مقامی بصری ثقافت اور ورثے کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے ارادے سے اس مقام کے ڈیزائن میں سعودی فنکاروں کی تنصیبات شامل کی جائیں گی جس میں ملک کی ایک معروف خاتون تصوراتی تخلیق کار مہا ملوح بھی شامل ہیں۔

کئی تہوں اور سطحوں پر مشتمل اوپرا ہاؤس فطرت اور سعودی ثقافت سے منسلک منفرد ڈیزائن اور فنِ تعمیر کا حامل ہوگا۔ (درعیہ کمپنی)
کئی تہوں اور سطحوں پر مشتمل اوپرا ہاؤس فطرت اور سعودی ثقافت سے منسلک منفرد ڈیزائن اور فنِ تعمیر کا حامل ہوگا۔ (درعیہ کمپنی)

چار مقامات پر پھیلا ہوا 46،000 مربع میٹر کا وسیع اوپرا ہاؤس 3500 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش رکھتا ہے۔

سنوہیٹا کے ایک بیان کے مطابق "بنیادی طور پر 2,000 نشستوں والا ایک اوپرا تھیٹر بڑے پیمانے پر پروڈکشنز اور سب سے آخر میں پرفارمنس دینے والے فنکاروں کے لیے اسٹیج ترتیب دے گا۔"

"اس کی تکمیل کرتے ہوئے 450 سیٹوں والا ایک موافقت پذیر تھیٹر اور 450 سیٹوں والا کثیر المقاصد تھیٹر چھوٹے پروگراموں، دوطرفہ پروگرامنگ اور ریہرسلز کی میزبانی کرے گا۔"

کئی تہوں اور سطحوں والا اوپرا ہاؤس فطرت اور سعودی ثقافت سے منسلک منفرد ڈیزائن اور فنِ تعمیر کا حامل ہوگا۔ (درعیہ کمپنی)
کئی تہوں اور سطحوں والا اوپرا ہاؤس فطرت اور سعودی ثقافت سے منسلک منفرد ڈیزائن اور فنِ تعمیر کا حامل ہوگا۔ (درعیہ کمپنی)

ایک شخصیت جن کی آئندہ پرفارمنس کی جگہ کے بارے میں لوگ بالخصوص پرجوش ہیں، وہ ہیں سوسن البہیتی جنہیں سعودی عرب کا اولین پیشہ ور اوپرا گلوکارہ سمجھا جاتا ہے۔

البہیتی کو 2019 میں اس وقت نمایاں مقام ملا جب وہ عوامی اسٹیج پر اوپرا کی طرز پر سعودی عرب کا قومی ترانہ گانے والی پہلی خاتون بن گئیں۔

البہیتی نے پیرس سے عرب نیوز کو بتایا، "یہ بہت ہی دلچسپ خبر ہے بالخصوص یہ کہ سعودی میں یہ دوسرا اوپرا ہاؤس ہے جس کا اعلان کیا جائے گا۔" وہ مملکت کے بحیرۂ احمر کے ساحل کے لیے طے شدہ ایک اور مقام کا حوالہ دے رہی تھیں جو جدہ سینٹرل پروجیکٹ کا حصہ ہے۔

سوسن البہیتی، سعودی عرب کی اولین پیشہ ور اوپرا گلوکارہ۔ (انسٹاگرام)
سوسن البہیتی، سعودی عرب کی اولین پیشہ ور اوپرا گلوکارہ۔ (انسٹاگرام)

"لیکن رائل اوپرا ہاؤس دارالحکومت میں ہے اس لیے ظاہر ہے کہ اس کے مقام میں بہت خاص اہمیت ہے۔ یہ میرے لیے بھی بہت جوش و خروش کا باعث ہے کیونکہ یہ فنون کے لیے ہمارے ملک کی حمایت اور قدر کی تصدیق کرتا ہے۔"

فنون، ثقافت اور سیاحت میں سرمایہ کاری مملکت کے وژن 2030 کے سماجی اصلاحات اور معاشی تنوع کے ایجنڈے میں آتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا، "وژن 2030 کا ایک مقصد فنونِ لطیفہ کے پورے شعبے کو مضبوط اور فروغ پزیر شعبہ بنانا بھی ہے۔"

البہیتی ریاض میں پیدا ہوئیں اور جدہ میں ایک ایسے وقت میں پرورش پائی جب "کیفے اور ریستوراں میں بمشکل کوئی میوزک ہوا کرتا تھا۔"

 سوسن البہیتی عوامی اسٹیج پر اوپرا کی طرز پر سعودی عرب کا قومی ترانہ گانے والی اولین خاتون بن گئیں۔ (انسٹاگرام)
سوسن البہیتی عوامی اسٹیج پر اوپرا کی طرز پر سعودی عرب کا قومی ترانہ گانے والی اولین خاتون بن گئیں۔ (انسٹاگرام)

ملکی صلاحیت کو فروغ دینے اور فنون و ثقافت کی ستائش کے لیے پرعزم البہیتی نے گائیکی کی تربیت دینے والے ایک اسکول سول فل وائس اور سعودی نیشنل آرکسٹرا اینڈ کوئر کی بنیاد رکھی۔ اب 2016 سے مملکت کی اصلاحات کی بدولت ان کا کام رنگ لا رہا ہے۔

انہوں نے کہا، "تمام تبدیلیاں جو رونما ہو رہی ہیں وہ ماورائے حقیقت ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ایک اوپرا ہاؤس کا اعلان میرے لیے اور زیادہ خوشی اور جوش کی بات ہے۔"

"یہ بہت اہم ہے کیونکہ ایک اوپرا ہاؤس تمام فنون کے مرکز کی طرح ہوتا ہے - موسیقی، تھیٹر اور ثقافت کے شعبے۔ یہ سعودی ستاروں اور فنکاروں کے لیے اپنی صلاحیتوں اور فن کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا ایک بہت اہم پلیٹ فارم بھی ہے۔"

نئے اوپرا ہاؤس کا مقام خاص طور پر اہم ہے۔ روایتی نجدی طرزِ تعمیر کی عمارات کے ساتھ ریاض کے مضافات میں واقع درعیہ ایک تاریخی جواہر ہے جہاں سعودی عرب کی اولین ریاست قائم ہوئی تھی۔

درعیہ سعودی عرب کے جدید دارالحکومت ریاض میں کنگڈم ٹاور سے تقریباً 10 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے جو اب مملکت کی جائے پیدائش کے طور پر قابلِ احترام مقام ہے۔ اسے 2010 میں یونیسکو کا عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا تھا۔ (شٹرسٹاک)

سنوہیٹا کے مطابق "نجدی کے نام سے معروف ایک مقامی فنِ تعمیر ہے جس میں تقریباً مکمل طور پر مٹی کی اینٹوں کے ڈھانچے بنائے جاتے ہیں جو سایہ کی مستقل حالت کو یقینی بنانے کے لیے ایک غول کی شکل میں قریب قریب بنائے جاتے ہیں، کمپنی نے اس انداز کا استعمال کرتے ہوئے تاریخی طور پر قصبوں، بستیوں اور دیہاتوں میں نخلستانی برادریوں کو فروغ دیا۔"

درعیہ آج دوبارہ ترقی کے ایک بڑے مرحلے سے گذر رہا ہے جس نے اسے ایک اہم علاقائی کشش میں تبدیل کر دیا گیا ہے جو فنونِ لطیفہ اور ثقافت کے مقامات اور تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ تجارتی اور رہائشی مقامات کے ساتھ مکمل ہے۔

البہیتی نے کہا، "درعیہ سعودی عرب کی جائے پیدائش ہے۔ یہ سعودی ثقافت کا مظہر ہے۔ جب آپ درعیہ جاتے ہیں تو آپ کو فنِ تعمیر کی حامل کئی عمارات نظر آتی ہیں اور وہاں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کا مقام (الطریف) ہے۔

"جب اوپرا ہاؤس بیرون ملک سے آنے والے مہمانوں کی میزبانی کرے گا تو یہ سعودی ثقافت کے قلب میں ہوگا۔ مقام کا انتخاب بخوبی کیا گیا تھا۔"

درعیہ سعودی عرب کے جدید دارالحکومت ریاض میں کنگڈم ٹاور سے تقریباً 10 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے جو اب مملکت کی جائے پیدائش کے طور پر قابلِ احترام مقام ہے۔ اسے 2010 میں یونیسکو کا عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا تھا۔ (شٹرسٹاک)
درعیہ سعودی عرب کے جدید دارالحکومت ریاض میں کنگڈم ٹاور سے تقریباً 10 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے جو اب مملکت کی جائے پیدائش کے طور پر قابلِ احترام مقام ہے۔ اسے 2010 میں یونیسکو کا عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا تھا۔ (شٹرسٹاک)

کھلی رسائی کے راستوں سے منسلک عمارات کے ایک غول میں پھیلا ہوا کثیر الجہتی اوپرا ہاؤس جدیدیت کو اپنائے ہوئے فطرت میں مضبوطی سے قائم اور مستند سعودی ثقافت سے منسلک منفرد فنِ تعمیر اور ڈیزائن کا حامل ہوگا۔

روایتی نجدی فنِ تعمیر سے متاثر ہو کر ڈیزائن کو خطی شکلوں سے مزین کیا گیا ہے۔ بیرونی دیواروں میں مربع اور مستطیل سوراخ ہیں جو اندر سے تیز روشنی خارج کرتے ہیں اور اس کے اندرونی حصے میں قدرتی روشنی کا استقبال کرتے ہیں۔

تعمیراتی فرم نے اپنے حالیہ بیان میں کہا، "نئے اوپرا ہاؤس کے لیے سنوہیٹا کا ڈیزائن ان مقامی آثارِ قدیمہ، مقامی دستکاریوں اور اس کے ارد گرد کے صحرائی منظر جیسے وادی کے خشک دریائی راستوں کا جواب دیتا ہے۔"

"یہ تصور دریائی راستوں کی زمین کے خیال پر بنایا گیا ہے جس میں سورج کی تمازت سے شگاف پڑ جاتے ہیں، ہوا اور بارش سے ڈھل جاتے ہیں اور پھر الگ الگ اشکال کے طور پر ان کی ایک نئی صورت بن جاتی ہے۔"

"اس خیال نے عمارات کا غول تشکیل دیا جو کھلے راستوں کے ساتھ زمین سے اٹھتا نظر آتا ہے۔ نجدی ثقافتی شناخت کی اقدار کو اپناتے ہوئے عمارت کے اس بڑے پیمانے میں مقامی مواد کا مرکب شامل ہوگا۔"

مقامی طور پر حاصل کردہ مواد کے استعمال کا مطلب یہ ہے کہ حتمی عمارت اپنے اردگرد کے ماحول میں حساس طور پر فٹ ہو جائے گی۔ ڈیزائنرز نے سایہ دار اور سبز جگہوں کی ضرورت کو بھی مدنظر رکھا ہے۔

سنوہیٹا نے کہا، "عمارات سایہ دار بیرونِ خانہ جگہیں بنانے کے لیے تزویراتی طور پر مبنی ہیں جو تیز دھوپ سے بچانے کے لیے سایہ فراہم کرتی ہیں اور اس میں گرم تر اوقات کے لیے پودے اور پانی شامل ہیں۔"

 درعیہ کے نو تعمیر شدہ کھنڈرات کا ایک رات کا منظر۔ (شٹرسٹاک)
درعیہ کے نو تعمیر شدہ کھنڈرات کا ایک رات کا منظر۔ (شٹرسٹاک)

"مقامی پودوں کی انواع کا محتاط انتخاب زیادہ حیاتیاتی تنوع کو فروغ دیتا ہے اور آب و ہوا سے متعلق مخصوص ماحولیاتی نظام میں کردار ادا کرتا ہے۔ سبز باغات اوپرا ہاؤس کے زائرین اور وسیع تر عوام دونوں کے لیے کھلے ہیں۔

"ان عوامی مقامات کو بغیر کسی تعطل کے یکجا کرنے سے ثقافتی اور تفریحی تجربات دونوں کو تقویت ملتی ہے اور مقام کی اندرونی قدر میں اضافہ ہوتا ہے۔"

مقام کے ڈیزائنرز کے لیے پائیداری بھی ایک اعلیٰ ترجیح ہے جنہوں نے توانائی اور پانی کے ضیاع کو کم از کم کرنے کی کوشش کی ہے۔

سنوہیٹا نے کہا، "پانی کے تحفظ، روشنی، عمارت کی سمت بندی، اور تھرمل کمفرٹ کے طریقے جو توانائی اور پانی کے ضیاع کو کم کرتے ہیں، پر غور کرکے اس منصوبے کو اعلیٰ ترین ماحولیاتی ضوابط کی تعمیل حاصل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔"

"کھلی جگہوں اور قدرتی روشنی کے مؤثر طریقے سے استعمال کا ڈیزائن میں خیال رکھا گیا ہے۔"

مقامی طور پر حاصل کردہ مواد کے استعمال کا مطلب یہ ہے کہ حتمی عمارت اپنے اردگرد کے ماحول میں حساس طور پر فٹ ہو جائے گی۔ (درعیہ کمپنی تصویر)
مقامی طور پر حاصل کردہ مواد کے استعمال کا مطلب یہ ہے کہ حتمی عمارت اپنے اردگرد کے ماحول میں حساس طور پر فٹ ہو جائے گی۔ (درعیہ کمپنی تصویر)

البتہ نئے اوپرا ہاؤس کا افتتاح مملکت کے ثقافتی ماحولیاتی نظام کے جشن اور پرورش کی سب سے زیادہ نشاندہی کرتا ہے جس نے پورے شرقِ اوسط میں فنکاروں اور سامعین کو فائدہ پہنچانے کا وعدہ کیا ہے۔

البہیتی کو امید ہے کہ نیا تخلیقی مرکز ثقافتی تبادلے اور نوجوان فنکاروں کو تربیت کے مواقع فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا، "سعودی سامعین بدستور اوپرا کو جان رہے ہیں۔"

"مثلاً ہم نے نومبر میں ریاض میں دوسرا اوپرا انٹرنیشنل فیسٹیول منعقد کیا جس میں اوپرا کی مضبوط پیشکش تھی۔ حاضرین کا ردِعمل اور فیڈ بیک ناقابلِ یقین تھا کیونکہ وہ اس سے مسحور ہو گئے تھے۔"

"وہ اسے دیکھ کر واقعی خوش ہیں کیونکہ یہ ان کے لیے ایک نیا فن ہے۔ یہ ایسی چیز ہے جس کے بارے میں وہ تمام عمر سنتے رہے ہیں لیکن اسے کبھی دیکھا نہیں۔ ایسے نئے فن کا تجربہ کرنا ان کے لیے واقعی تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں