سوشل میڈیا پر ’قبر‘ رسول ﷺ کے حوالے سے وائرل تصویر کی حقیقت کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ان دنوں سوشل میڈیا پر ایک قبر کی تصویر وائرل ہو رہی ہے۔ اس تصویر کو فیس بک، ایکس اور دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بڑے پیمانے پر تبصروں کے ساتھ اسے شیئر کیا جا رہا ہے۔

بعض لوگوں کا دعویٰ ہے کہ یہ تصویر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری آرام گاہ کی ہے۔

تصویر میں دیکھی جانے والی قبر ایک کشادہ کمرے میں نظر آتی ہے اور قبر پر سبز چادر پھیلائی گئی ہے۔

اس تصویر کو پوسٹ کرنے والے بعض لوگوں نے اسے لائیک کرنے اور اس پر کمنٹس کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے اسے سچ مچ میں قبر رسول ﷺ قرار دیا ہے۔

حجرہ نبویﷺ جہاں پیغمبر اسلام آسودہ خاک ہیں

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے اس تصویر کو ایک خبر کی شکل میں شائع کیا ہے۔ خبر رساں ادارے کےمطابق یہ تصویر حجرہ نبوی ﷺ کی نہیں۔ کیونکہ اس میں اس حجرے کے اندر کا منظر نہیں دکھتا۔

یاد رہے کہ آپ ﷺ مدینہ منورہ میں واقع مسجد نبوی ﷺ سے متصل حجرے میں مقیم تھے اور آپ کی زندگی کے آخری ایام وہیں گذرے۔ وہیں پر آپﷺ کو سپرد خاک کیا گیا۔

ظہور اسلام سے پہلے مدینہ منورہ کو یثرب کا نام دیا جاتا تھا۔

جیسے جیسے مسجد نبوی کی توسیع ہوتی گئی حجرہ اور قبر مسجد کے احاطے میں چلے گئے۔

جہاں تک مزعومہ قبر رسول ﷺ کی تصویر کا تعلق ہے تو وہ درست نہیں۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ یہ قبر دراصل سلطنت عمان کے اندر ہے۔ مقامی باشندوں کا خیال ہے کہ یہ حضرت ایوب علیہ السلام کی آخری آرام گاہ کی تصویر ہے۔ انہیں تینوں ابراہیمی مذاہب میں عزت دی جاتی ہے۔

اس تصویر کو کئی ویب سائٹس پر برسوں پہلے شائع کیا گیا تھا۔ 2007ء میں اسے الامی ایجنسی کی طرف سے شائع کیا تھا۔

گہرائی سے تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ یو ٹیوب پر صارفین کی جانب سے پوسٹ کی گئی ویڈیوز کی موجودگی کا انکشاف اس مزار کے اندر فلمایا گیا ہے جو سلطنت عمان کے جنوب میں واقع ظفار گورنری میں واقع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں