ماں کو محبوب بنانے والے بھارتی شاعر ’منور رانا‘ دنیا چھوڑ گئے

سید منور علی طویل عرصے سے گلے کے کینسر سمیت گردوں کے عارضے، ذیابیطس اور بلڈ پریشر جیسی بیماریوں میں مبتلا تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت میں اردو کے مشہور شاعر منور رانا 71 برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد لکھنؤ کے ایک نجی اسپتال میں انتقال کر گئے۔

منور رانا کی بیٹی سمیعہ رانا کے مطابق ان کے والد کو تشویشناک حالت کے سبب وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے اور اتوار کی رات انتقال کرگئے۔ مرحوم کی تدفین آج بروز پیر کی جائے گی۔

منور رانا 26 نومبر 1952 کو رائے بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہوئے، لیکن انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ کولکتہ اور مغربی بنگال میں گزارا۔ منور رانا کا اصل نام سید منور علی ہے۔ ان کے والد کا نام سید انور علی اور والدہ کا نام عائشہ خاتون ہے۔

وہ طویل عرصے سے گلے کے کینسر سمیت گردوں کے عارضے، ذیابیطس اور بلڈ پریشر جیسی بیماریوں میں مبتلا تھے۔ انہیں جمعرات کے روز اچانک طبیعت خرابی پر بھارتی شہر لکھنؤ کے ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

انہوں نے پسماندگان میں بیوہ، بیٹے اور چار بیٹیوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔

منور رانا کی بیٹی سمیعہ نے انتقال سے قبل ایک ویڈیو میں بتایا تھا کہ ان کے والد کی طبیعت گذشتہ دو تین روز سے خراب ہے، ڈائیلاسز کے دوران انہیں پیٹ میں شدید درد ہوا، ڈاکٹروں نے سی ٹی اسکین کیا اور ان کے پتے میں کچھ مسئلہ پایا، پھر ان کا آپریشن کیا گیا۔

واضح رہے کہ منور رانا کو ان کی نظم ’شہدابہ‘ کے لیے 2014 میں ساہتیہ اکاڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا، جبکہ ان کی نظم ’ماں‘ کو مشہور نظموں میں شمار کیا جاتا ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی منور رانا کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

’ایکس‘ پر پوسٹ میں نریندر مودی نے منور رانا کے اہل خانہ اور مداحوں سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے لکھا کہ منور رانا کے انتقال پر بہت افسوس ہوا، انہوں نے اردو ادب اور شاعری کے میدان میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔

منور رانا اب ہمارے درمیان نہیں رہے لیکن ان کی شاندار تصنیفات ہمیشہ ہمارے درمیان زندہ رہیں گی۔ آئیے اردو کے اس عظیم شاعر کو یاد کرتے ہوئے ماں کے موضوع پر ان کی شہرہ آفاق نظم پر نظر ڈالتے ہیں:

۔۔۔ ماں ۔۔۔

چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے

میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے

کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی

میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا مرے حصے میں ماں آئی

اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے

ماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے

برباد کر دیا ہمیں پردیس نے مگر

ماں سب سے کہہ رہی ہے کہ بیٹا مزے میں ہے

جب بھی کشتی مری سیلاب میں آ جاتی ہے

ماں دعا کرتی ہوئی خواب میں آ جاتی ہے

ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ بھی نہیں ہو گا

میں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں