پچاس سال سے بچھڑے دو سعودی بھائیوں کی ملاقات کا جذباتی مناظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پچاس سال سے زائد عرصے کی فراقت کے بعد ایک سعودی شہری اپنے اندر پرانی یادیں لیے اپنےدیس میں واپس آیا جہاں اس نے اپنے بھائیوں اور عزیزوں سے تقریبا پانچ دھائیوں بعد ملاقات کی۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو اس واقعے کی تفصیلات معلوم ہوئیں۔ تفصیلات کےمطابق امریکا کی کالامازو یونیورسٹی میں فزکس کے پروفیسر ڈاکٹر مضحی الشہری نے تقریباً 55 سال قبل اپنی والدہ کی وفات کے بعد اپنا آبائی شہر النماص چھوڑ دیا تھا۔

سب سے پہلے وہ سعودی عرب کے دارالحکومت میں سیکنڈری سکول کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے اپنے ماموں کے ساتھ رہنے کے لیے ریاض آ گئے۔ وہاں سے کچھ عرصہ بعد انہیں اسکالر شپ پر امریکا میں تعلیم کے حصول کا موقع ملا۔ وہ امریکا ہی میں تھے جب ان کے والد وفات پا گئے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر مضحٰی کے بھائی محمد الشہری نے وضاحت کی کہ ان کا خاندان تقریباً پانچ دہائیوں سے انہیں دیکھنے سے محروم تھا کیونکہ وہ امریکا میں اپنی تعلیم مکمل کرنے میں مصروف تھے۔ تعلیم کے بعد انہوں نے امریکا ہی میں قیام کرلیا۔

انہوں نے کہا کہ "ہم اسے دیکھنے کے لیے ترس رہے تھے۔ وہ تعلیم میں مصروف ہوتے گئے اور کئی سال گذر گئے۔ انہوں نے امریکا میں فزکس اور ریاضی کے مضامین پڑھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میرا بھائی ہمیں چھوڑ کر چلا گیا اور میں اس وقت چوتھی جماعت میں پڑھ رہا تھا۔ اس کے بعد سے ہماری ملاقات نہیں ہوئی۔

ڈاکٹر مضحیٰ کے بھتیجے نے انہیں ایک ای میل لکھی جس میں انہیں بتایا کہ ان کا خاندان ان سے ملاقات کا متمنی ہے اور ان کی کمی محسوس کرتا ہے۔ اس ای میل کے بعد انہوں نے واپسی کا راستہ لیا۔

ان کے ایک قریبی خاندانی دوست محمد العامر کہتے ہیں کہ میں نے ڈاکٹر مضحیٰ سے امریکا میں ملاقات کی اور انہیں بتایاکہ ان کا خاندان ان سے ملنا چاہتا ہے۔ میں نے خاندان کی طرف سے ان تک پیغام پہنچایا۔ اس کے بعد ہم مسلسل رابطے میں رہتے۔ میں نے سوشل میڈیا کےذریعے ان تک ان کے النماص میں موجود پرانے گھر کی تصاویر اور ویڈیوز بھیجیں جنہیں دیکھ کر وہ جذباتی ہو گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں