کیا آن لائن کاروبار سے جلد امیر ہونا ممکن ہے:ماہرین کیا کہتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

"ایک بارجب آپ اپنی بنیادی ملازمت ترک کرکے اپنا سارا وقت اپنے آن لائن سٹور بنانے میں لگا دیتے ہیں تو آپ کو جلد دولت مند بننے والوں میں شمار کیا جائے سکتا"۔

یہ الفاظ عام طور پر انٹرنیٹ پرموجود ان گنت اشہاروں میں دیکھنے اور سننے کو ملے گا۔ ایسے اشتہارات میں مشتہرین سادہ لوح لوگوں کو الفاظ کے گورکھ دھنے میں الجھا کرانہیں دنوں کے اندر کروڑپتی بننے کا خواب دکھاتے ہیں۔

ممکن ہے ان الفاظ پر مبنی پروموشنل اشتہار آپ نے کسی جگہ پڑھے یا سوشل میڈیا پر دیکھے ہوں گے۔ ایسی مالی ترغیبات کے تناظرمیں ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ فائدے میں رہے ہوں مگر کتنے ہی لوگ ایسے ہوں گے جو عجلت، تجربے کی کمی اور لالچ میں اپنی جمع پونجھی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہوں۔

خاص طور پرا’ی کامرس‘ کے شعبے میں ایسے اشتہارات معمول کی بات ہے جو جز وقتی کام کے بدلے مختصر وقت میں دولت مند بننے کا جھوٹا خواب بیچتے ہیں۔

جلدی امیر ہونے کا وہم

محققین اور ماہرین نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سےبات کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا سائٹس پر کچھ ماہرین ای کامرس میں کام کرنے کے نتیجے میں "جلد امیر بننے" کی تشہیر کرنا ایک "فریب" کے سوا کچھ نہیں ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں سے کچھ لوگ صرف اپنے کورسز بیچنے اور لوگوں کو جھوٹے خیالوں میں الجھا کر اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

دوسری طرف انہی ماہرین نے اشارہ کیا کہ جو لوگ ای کامرس میں کام کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں ان میں سے زیادہ تر کچھ وقت گذرنے کے بعد بھاری نقصان اٹھاتے ہیں۔ تاہم ان کے نقصان کی وجہ جلد بازی،جذباتی پن اور منصوبہ بندی کا فقدان ہوتا ہے۔

سعودی عرب ای کامرس کے شعبے میں سب سے زیادہ ترقی کرنے والے 10 ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔ اس نے پچھلے سال کی آخری سہ ماہی کے اختتام تک اسی شعبے کے موجودہ ریکارڈز میں تقریباً 24 فیصد کی ترقی کی تھی۔

وزارت تجارت کے مطابق ان ریکارڈز کی تعداد 37 ہزار سے زائد ہوگئی۔ جب کہ ریاض 15 ہزار سے زائد ریکارڈ کے ساتھ ای کامرس میں کام کرنے والا ایک بڑا شہر بن گیا ہے۔

وہم کی سودا گری

ایک سعودی کاروباری شخصیت مازن الضراب کا خیال ہے کہ سوشل میڈیا سائٹس ایسے اکاؤنٹس سے بھری ہوئی ہیں جو تیزی سے امیر ہونے کے خیال کی تشہیرکرتی ہیں۔ مثال کے طور پرکچھ لوگ آن لائن ٹولز یا فائلوں کو ڈاؤن کرکے پیسہ کمانے کا خواب دکھاتے ہیں۔ کچھ "ڈراپ شپنگ" کے ذریعے مارکیٹنگ کرکے تگڑا کمیشن کمانے کا خیال پیش کرتے ہیں۔

جولوگ یہ کہتے ہیں کہ ای کامرس سے جلد امیر بننے کی راہ ہموار ہوتی ہے وہ دراصل عوام کو جھوٹے سبز باغ دکھاتے ہیں۔ ایسے لوگ انہیں فون کرکے سمجھاتے ہیں کہ اس کام میں محنت کم لگتی اور پیسے کی بچت ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ای کامرس بنیادی طور پر ایک تجارت ہے، چاہے یہ ڈیجیٹل ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اس کے لیے پائیدار ترقی، کوشش اور کاروبار کی بنیادی باتوں اور پروجیکٹ کی ضروری واقفیت ناگزیر ہے۔ یہ مسلسل سیکھنے کا کام ہے اور مارکیٹ کا علم ہونا بھی ضروری ہے۔ اس لیے یہ کام اتنا آسان بھی نہیں۔

جوش کی وجہ سے نقصانات

معاشی محقق جمال الفضلی کا ماننا ہے کہ تقریباً 90 فی صد لوگ جنہوں نے ای کامرس کے شعبے میں کام شروع کیا انہیں "جوش" کے عنصر کی وجہ سے بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ کیونکہ ان کے پاس مارکیٹنگ کے موثر منصوبے نہیں تھے اور نہ ہی اس کے لیے درکار ضروری بجٹ ہے۔ جو لوگ نئے "سرمایہ کار" کو وہم بیچتے ہیں وہ یہاں تک کہتے ہیں کہ 100 ریال کی معمولی رقم سے بھی آپ جلد امیر ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ سعودی عرب میں ای کامرس کے شعبے کو قابل ذکر منافع حاصل ہے، لیکن سوشل میڈیا سائٹس پر کچھ ماہرین کی جانب سے اس کی تشہیر کے ذریعے تیزی سے امیر ہونے کے تصور کو ان لوگوں کی خدمات کی مارکیٹنگ اورانہیں لوگوں میں اپنے کورسز بیچنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں