اسرائیل تاریخ کی سب سے بڑی "جاسوس ریاست" کیسے بنا؟

ابتدا ترکوں کے خلاف پہلی جنگ عظیم کے دوران ہوئی، پھر یہ نیٹ ورک مصر، شام اور لبنان تک پھیل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
13 منٹ read

پہلی جنگ عظیم کے عروج پر ایک ایسا دشمن نمودار ہوا جو فوجوں کی تباہ کاریوں سے زیادہ کاری ثابت ہوا۔ یہ فلسطین سے لے کر پورے خطہ شام تک پھیل گیا تھے۔ اسے ٹڈی دل کی آفت کہا گیا۔ لوگ اس سے نمٹنے کی ہر کوشش میں ناکام ہو گئے۔ اس دوران ترک افسر جمال پاشا بھی اس مسئلے کا حل تلاش کر رہے تھے، اس کے لیے انہوں نے ایک سائنسدان ہارون ہارونسن سے رجوع کیا۔

ایرونسن ایک معروف ماہرنباتات تھے جو اس تباہی کو روکنے کی صلاحیت کے لیے جانے جاتے تھے۔ انھیں خطے میں کام کرنے کے لیے اہم اختیارات تفویض کیے گئے، جس میں سلطنت عثمانیہ کے کئی اہم فرنٹ لائنز شامل تھے۔ تاہم، سائنسدان کا ایجنڈا مختلف تھا، درحقیقت وہ برطانوی انٹیلی جنس کے ساتھ ایک معاہدہ کے تحت صہیونی ریاست اسرائیل کے قیام کے لیے ان سرزمینوں میں جنہیں یہودی مقدس سمجھتے ہیں اہم معلومات اکٹھی کر رہے تھے۔

جب انگریز کو ایرونسن کی سرگرمیاں کارآمد معلوم ہوئیں، تو اس نے ایرونسن کو ایک تنظیم بنانے کا کام سونپا۔ یہ زیادہ منظم جاسوسی نیٹ ورک تھا جسے نیلی آرگنائزیشن" کا نام دیا گیا، جو "موساد" کا پیشرو ہے۔

یہ تنظیم ترک افسروں کی جسمانی خصوصیات اور جنگی صلاحیتوں کے بارے میں حکمت عملی سے متعلق معلومات جمع کر رہی تھی، اور "ایجنٹوں" کے ذریعے اسے انگریزوں کے سامنے پیش کر رہی تھی۔اس نیٹ ورک کو جمال پاشا پر کڑی نظر رکھنے کا کام سونپا گیا تھا کیونکہ اس کی تمام حرکات انگریزوں کے لیے اہم تھیں۔ وہ غزہ پر بعد میں ہونے والے حملے کا دفاع کرسکتے تھے۔

عثمانی انٹیلی جنس 1916 تک آرون اور اس کی بہن سارہ کے بارے میں نہ جان پائی۔ سارہ کی جانب پہلی بار عثمانی انٹیلی جنس کی توجہ اس وقت مبذول ہوئی جب ان کے سابق شوہر ہیم ابراہیم کے جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا۔ بیوی سارہ کی نگرانی کی گئی، اور بالآخر 1917 میں سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کو معلوم ہوا کہ سلطنت عثمانیہ میں صہیونی یہودی، خاص طور پر یورپ سے آنے والے، اضنہ سے غزہ تک پھیلے ہوئے علاقے میں کچھ انٹیلی جنس کاروائیاں کر رہے ہیں۔

سلطنت عثمانیہ نے اس سے قبل مصر اور یروشلم کے ارد گرد سرگرم جاسوسی تنظیموں کو بے نقاب کرتے ہوئے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی تھیں لیکن ہارون نے تنظیمی ڈھانچہ اس مہارت سے بنایا تھا کہ اس کی سرگرمیاں عرصہ دراز تک خفیہ رہیں۔"نیلی" کی اصل طاقت ایک خطرناک رشوت نیٹ ورک تھا۔ یہ نیٹ ورک عثمانی بیوروکریسی میں قائم ہوا۔ اس تنظیم کی دسترس میں آنے والے کچھ سرکاری ملازمین حکومت مخالف تھے اور کچھ کو پیسے کی ہوس تھی۔

تنظیم تفتیش کے لیے آنے والے اہلکاروں کو بھی خرید لیتی جس سے ان پر ہاتھ ڈالنا مزید پیچیدہ ہوتا گیا۔ ان تمام مشکلات کے باوجود، انٹیلی جنس ان شعبوں میں سے ایک تھا جس میں "گورنمنٹ آف یونین اینڈ پروگریس" نے اپنی پہچان بنائی تھی۔ جمال پاشا اس کیس کی تفتیش میں اس لیے دلچسپی رکھتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ اس نیٹ ورک کا حتمی ہدف ہیں۔ ایجنٹ یوسف لشنسکی کے منکشف ہونے اور پوچھ گچھ کے بعد تنظیم کو ایک دردناک دھچکا لگا۔ تاہم، نیلی آرگنائزیشن" نے یہودیوں کو انٹیلی جنس شعبے میں اہم بنیادیں فراہم کی کیونکہ اسرائیل کو مشرق وسطیٰ میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے ایک مضبوط جاسوسی نیٹ ورک کی ضرورت تھی۔

مصر نیٹ ورک

پہلا خطہ جو صہیونیوں کو ذہانت کے لحاظ سے سب سے زیادہ اہم لگتا ہے وہ مصر ہے۔ 1945 میں مصر کی سرگرمیوں کا رہنما اور بانی ایجنٹ ڈیوڈ الحمیری تھا۔ الحمیری جب فیلڈ آپریشنز کر رہا تھا تو روتھ کلیگر نامی ایک صہیونی عورت اس کے اور اسرائیل کے درمیان ربط تھی۔ تاہم، مصر میں یہ تنظیم مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی جس کی وجہ سے اسرائیل نے مصر میں ایک نئی تنظیم قائم کی۔ اس نے ایسے پیشہ ور ایجنٹوں کو بھرتی کیا جو شہر کے مراکز میں بم نصب کرنے اور انہیں دھماکہ کرنے کا تجربہ رکھتے تھے اور ہتھیار پہنچانے کے لیے اعلیٰ تربیت یافتہ تھے۔ اس تنظیم کے قیام کے بعد 1950 سے 1952 کے درمیان مصری شہروں میں یکے بعد دیگرے بم دھماکے ہوئے اور مصریوں میں خوف و ہراس اس حد تک بڑھ گیا کہ وہ عوامی مقامات پر جمع ہونے سے گریز کرنے لگے۔

جب الیاہو شاول کوہن نامی ایجنٹ کو مصری قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بے نقاب کیا تو مصری حکام کو احساس ہوا کہ انہیں ایک ایسی تنظیم کا سامنا ہے جو آکٹوپس کے بازوؤں کی طرح پھیلی ہوئی.

اگرچہ مصر نے تنظیم کے طریقہ واردات کو سمجھ لیا، لیکن وہ کسی بھی جاسوس کو گرفتار کرنے میں ناکام رہا۔ تنظیم کو ختم کرنے کے لیے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر تلاش شروع کی گئی، لیکن واقعے کی تحقیقات کے دوران مصر کے کچھ سیاستدان اور بیوروکریٹس بھی ملوث پائے گئے، جن میں سے متعدد کو مختلف طریقوں سے خریدا گیا تھا۔

مصری حکومت نے اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا اور "لاون سکینڈل" کے نام سے مشہور اس معاملے کا ذمہ دار ریاست اسرائیل کو ٹھہرایا، اس نے اسرائیلی حکومت کو پیچھے ہٹنے پر اکسایا، اور وزیر دفاع یتزاک لاون نے استعفیٰ دینا پڑا۔

لاون سکینڈل

لاون اسکینڈل کے بعد اسرائیل نے طریقہ کار میں تبدیلیاں کر کے مصر میں کاروائیاں جاری رکھیں۔ 1958 میں جین لون تھامس نامی اسرائیلی جاسوس نے ایک نئی تنظیم بنائی۔ اس بار اس کا مقصد فوج میں گھس کر مقامی عناصر سے فائدہ اٹھانا تھا۔ مقامی افسر احمد حسن کی فراہم کردہ معلومات مصر کے لیے تباہ کن اور ناقابل تلافی مصائب کا باعث بنیں گی، اس لیے مصری حکومت نے 1961 میں اسے غداری کے الزام میں پھانسی دے دی۔

لبنانی نیٹ ورک

اسرائیل کے لیے ایک اور خطہ لبنان کافی اہم تھا۔ یہاں فرانسیسی عالم یوسف الدباد کی سرکردگی میں جاسوسی کاروائیاں شروع کی گئیں۔ الدباد کی فراہم کردہ انٹیلی جنس معلومات کا 1948 کی جنگ میں بہت فائدہ ہوا۔ اس کے علاوہ، لبنان کے اسٹریٹجک جغرافیائی محل وقوع نے اسرائیل کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو جنم دیا۔ بیروت میں زیورات کے ایک عام تاجر، جاسوس خامس احمد بایومی کو لبنانی نیٹ ورک قائم کرنے کا کام سونپا گیا تھا، کیونکہ لبنان میں فلسطینیوں کی سرگرمیوں کے لیے اسرائیل کو وہاں وسیع نیٹ ورک قائم کرنے کی ضرورت تھی۔ اس مقصد کے لیے اس نے علاقے میں عراقی سفارت خانے پر بمباری کی۔ تاکہ عراق کے فلسطینیوں کے ساتھ تعلقات منقطع ہو جائیں۔ دوسرے لفظوں میں اسرائیل اپنے جاسوسوں کو نہ صرف معلومات اکٹھا کرنے بلکہ دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے بھی استعمال کرتا ہے۔ بیروت میں تنظیم آزادی فلسطین المعروف پی ایل او کے ہیڈ کوارٹر پر میزائل حملہ اسرائیلی جاسوسوں کی جانب سے کی جانے والی اہم کارروائیوں میں شامل تھا کیونکہ لبنان بالخصوص بیروت صہیونی انٹیلی جنس تنظیموں کی تربیت گاہ تھا۔

شامی نیٹ ورک

اسرائیلی عناصر نے پہلی بار 1951 میں شام میں دروز پر جاسوسی کی سرگرمیاں شروع کیں اور مقامی عناصر سے مستفید ہونے کے ساتھ ساتھ صہیونی انٹیلی جنس نے شام میں نئے طریقے بھی استعمال کئے۔ یہ نیٹ ورک کمال امین ثابت یا ایلی نامی ایجنٹ کے ساتھ اعلیٰ ترین سطح پر پہنچ گیا۔ کوہن نے 1967 کی جنگ میں اسرائیل کی فتح میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ شامی انٹیلی جنس اس کے کوڈ کو کریک کرنے میں کامیاب رہی، اگرچہ 1965 میں بہت دیر ہو چکی تھی۔

کوہن کو قتل کر دیا گیا تھا، اور اس کی لاش کے گرد اسرار آج بھی جاری ہے۔ درحقیقت، اسرائیل کا قائم کردہ نیٹ ورک صرف ان ممالک تک محدود نہیں تھا، بلکہ یہ ترکی، اردن، ایران، قبرص اور یونان تک پھیلا ہوا تھا۔

بھرتی کا طریقہ

صہیونی خفیہ ادارے مقامی افراد کی بھرتی کے لئے جو نادر طریقہ کار اختیار کرتے اس کی مثال ہمیں متعلقہ لٹریچر سے ملتی ہے، ان میں نمایاں اسالیب کا ذکر ذیل میں کیا جا رہا ہے:

جنسی بلیک میلنگ

جاسوسی نیٹ ورک میں بھرتی سے پہلے مقامی خفیہ اہلکاروں کے جنسی حوالوں سے کمزور پہلوؤں سے متعلق معلومات جمع کی جاتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے ان کی جنسی سرگرمیوں کو مرکزی اہمیت دی جاتی تھی۔ بھرتی کے لیے ٹارگٹ مقامی جاسوس اگر جنسی میلان رکھتا ہو تو اس سے متعلق معلومات ایک فائل میں جمع کی جاتیں۔ پیش آئند جاسوس کی فون کالز، سرچ ہسٹری اور حد تو یہ ہے کہ اس کے ذاتی کمپیوٹر کے سکرین سیور پر لگی تصاویر تک کا ڈیٹا جائزے کے لیے جمع کیا جاتا ہے، اس کے بعد ہی اسے جاسوسی نیٹ ورک میں شامل کیا جاتا ہے۔

نیٹ ورک میں شمولیت کے لیے چنیدہ مرد اور خواتین، جو اپنی عفت اور پاکبازی سے متعلق حساس جذبات رکھتے، انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا تاکہ ان پر اپنی کامیابی کی دھاک بٹھائی جا سکے۔ بعض خبروں اور بسا اوقات سامنے آنے والی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے والی فلسطینی خواتین کو ایسی ہی جنسی زیادتی کے بعد جاسوسی نیٹ ورک کا کارندہ بنایا گیا تھا۔ بدقسمتی سے ایسی جاسوس خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر ہی جاسوسی نیٹ ورک کا حصہ بنایا گیا ہوتا ہے۔ بہت سی خواتین جو جنسی زیادتی کے خلاف مزاحمت دکھاتی ہیں، وہ خودکشی کر لیتیں۔ راز داری کی دبیز تہوں میں چھپے ہونے کی وجہ سے ایسے واقعات کی تفتیش اور تحقیق ممکن نہیں۔ اسرائیلی جاسوسی نیٹ ورک کا حصہ بننے والی خواتین کی خودکشیاں اپنے طور پر تحقیق کا الگ موضوع ہیں۔

اسرائیلی فوجی ماہرین اور خفیہ نیٹ ورک کے ریٹائرڈ افسران تنظیم کی صفوں میں رونما ہونے والے وحشت اور بربریت سے عبارت طریقہ کار کا اظہار ٹی وی سکرینوں پر بڑے فخر سے اظہار کرتے ہیں۔

رقم کا لالچ دے کر بھرتی

پیسے کا لالچ دے کر جاسوس بھرتی کرنا قدیم ترین طریقہ ہے۔ صہیونی جاسوسی نیٹ ورک بھی اپنے ہاں بھرتی کے لئے یہی طریقہ استعمال کرتا رہا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ اسرائیلی کرنل موشیہ نے بہ بانگ دہل فخریہ انداز میں اعتراف کیا کہ انہوں نے جاسوسی کے لیے ایک عرب نوجوان کو صرف پانچ ہزار شیکل کے عوض بھرتی کیا تھا۔

حالیہ چند برسوں کے دوران تجارت کے نمایاں عالمی مارکہ جات کے خلاف بائیکاٹ کی اپیلوں سے صرف ان کمپنیوں کو مالی نقصان ہی نہیں ہوا بل کہ ریجن میں ایسی کمپنیوں کی کم ہوتی ہوئی تعداد سے اسرائیلی جاسوسی نیٹ ورک کو بالواسطہ طور پر گزند پہنچا ہے، اس پیش رفت سے اسرائیل خطے کی سوشل حرکیات کو بھی جاسوسی نیٹ ورک کی بڑھوتری میں استعمال کرنے میں مشکلات محسوس کر رہا ہے۔

اس ضمن میں بڑے مالیاتی اداروں میں نمایاں مقام رکھنے والی بڑے سرمائے والی کمپنیوں، مثلا جیوش کیپٹل، کو بھی خفیہ معلومات حاصل کرنے کے منصوبوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

اسرائیل اپنے نیٹ ورک سے رابطے کو دو طریقوں سے محفوظ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ پہلا ذریعہ فون اور ویب گاہیں ہیں۔ رابطے کے دوسرے کلاسیک طریقہ کار اس کے علاوہ ہیں۔ دوسرا طریقہ کار ‘بلائنڈ سپاٹ‘ کہلاتا ہے، اس میں جاسوسی نیٹ ورک میں شامل افراد ملتے جلتے ناموں اور غیر مستقل مقامات کو موہوم انداز میں استعمال کرتے ہیں تاکہ دوسرے لوگوں کا شک نہ گذرے۔

جاسوسی کا مقابلہ

اس بات سے قطع نظر کہ موساد ایک مضبوط خفیہ نیٹ ورک چلاتی ہے، تاہم انسانوں کے بنائے ہوئے نیٹ ورک کی حیثیت میں یہ ناقابل تسخیر نہیں۔ متعدد عرب اور ترک ممالک نے نیٹ ورک کے کئی جاسوسی مشنز ناکامی سے دوچار کیے ہیں۔ اس ضمن میں فلسطینیوں کی مثال برمحل معلوم ہوتی ہے۔

اگرچہ فلسطینیوں کے پاس کوئی جدید آلات نہیں، تاہم اس کے باوجود وہ کئی برسوں سے اسرائیلی خفیہ اداروں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اس تناظر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ دنیا میں فلسطینی عوام سے زیادہ ’’موساد‘‘ کو کوئی نہیں جانتا۔ فلسطینیوں کو موساد سے پہنچنے والے گزند نے انہیں یہ بات باور کروا دی ہے کہ ان کا دشمن کون ہے؟

اسی بنا پر دنیا میں فلسطینی ہی ہیں کہ جو سب سے کم’’موساد‘‘ کے چنگل میں پھنستے ہیں، اس سے اہم بات یہ ہے کہ فلسطینیوں نے غلط معلومات دے کر اسرائیلی خفیہ نیٹ ورک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ اسرائیلی فوجی ماہرین کے دعوؤں کے برعکس فلسطینی نوجوانوں کو اب پیسے کا لالچ دے کر خریدنا آسان نہیں رہا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں