خبردار ۔۔ فاسٹ فوڈ اور فرنچ فرائز دوبارہ گرم کرنے سے ہوشیار رہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بہت سے لوگ بچے ہوئے فاسٹ فوڈ یا یہاں تک کہ فرنچ فرائز کو کھانے کے لیے دوبارہ گرم کرتے ہیں۔مگر ماہرین کے مطابق یہ عادت صحت کے لیے خطرناک ہے۔

روسی ماہر غذائیت ڈاکٹر اولگا لوشبینکووا نے انکشاف کیا کہ تلے ہوئے آلوؤں اور باسی فاسٹ فوڈ کو گرم کرنے سے ان میں اضافی نقصان دہ مادے ظاہر ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہیمبرگر، شاورما اور دیگر کھانے جن کو فاسٹ فوڈ میں شمار کیا جاتا ہے صحت کو بالکل بھی فائدہ نہیں پہنچاتے، خواہ انہیں تیاری کے فوراً بعد کھالیا جائے۔

لیکن اگر یہ پرانے ہو گئے تو کیا ہوگا؟" اسپتنک ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ، یقیناً، اس سے صحت کے لیے خطرہ بڑھ جائے گا، کیونکہ رات کے وقت یہ ڈی کمپوز ہونے لگتا ہے اور وٹامنز اور معدنیات سے محروم ہو جائے گا۔

"عام طور پر فاسٹ فوڈ میں غذائیت اور ضروری وٹامنز نہیں ہوتے، یا پھر بہت کم ہوتے ہیں ۔ تو کیا ہوگا اگر وہ تازہ نہ ہوں؟ ماہرین کے مطابق جو کچھ موجود تھا وہ وقت گزرنے کے ساتھ ضائع ہو گیا ہے۔ ایسے کھانوں سے انسان کو صرف کیلوریز، پروٹین، چکنائی اور کاربوہائیڈریٹس حاصل ہوتے ہیں۔ "

سرطان پیدا کرنے والے مرکبات

ماہر غذائیت کے مطابق"جب ان پروٹین والی غذاؤں کو گرم کیا جاتا ہے، تو ان کی ساخت بدل جاتی ہے اور جسم کے لیے انھیں جذب کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔مثال کے طور پر فرنچ فرائز گرم ہونے کے بعد صحت کے لیے مزیدخطرناک ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ اسٹارچ والی اشیاء کو تیل میں تلنا، خاص طور پر ٹرانس آئل کے استعمال سے اس میں خطرناک سرطان پیدا کرنے والے ایکریلامائیڈ مرکبات بنتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اگر ان کھانوں کو فریج میں نہ رکھا جائے اور اگلے دن انہیں گرم کیے بغیر ٹھنڈا کھا لیا جائے تو وہ شخص بیکٹیریل انفیکشن کا شکار ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ "ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ فاسٹ فوڈ کتنے عرصے سے فریج سے باہر ہرہا ے۔ عام طور پر، چٹنی میں شکر اور نشاستہ ہوتا ہے، اور یہ بیکٹیریا کے بڑھنے کے لیے ایک زرخیز زمین ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں