بائیڈن کی اور غلطی: مرکل کی بجائے ان کے پیشرو کوہل کا نام لیتے رہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر جو بائیڈن ایک ہی ہفتے میں دوسری بار ایک اور یورپی رہنما اور ان کے متوفی پیشرو کے درمیان الجھ گئے۔ انہوں نے ایک انتخابی تقریب کے دوران کہا کہ ان کی ملاقات انجیلا مرکل کی بجائے جرمن چانسلر ہیلمٹ کوہل سے ہوئی جو 2017 میں انتقال کر گئے تھے۔

81 سالہ بائیڈن نے اس سے قبل ایک غلطی مین کہا تھا کہ انہوں نے موجودہ صدر ایمانوئل میکرون کے بجائے فرانس کے آنجہانی صدر فرانسوا مٹرینڈ سے بات کی، جبکہ وہ جی 7 سربراہی اجلاس کے بارے میں بات کر رہے تھے جو جون 2021 میں ہوا تھا۔

بائیڈن، جو نومبر میں دوسری مدت کے لیے دوبارہ انتخاب کے خواہاں ہیں، اکثر برطانیہ میں منعقدہ سمٹ کے بارے میں یہ کہانی دہراتے ہیں ، اس بات کو اجاگر کرنے کے لیے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کچھ حامیوں کی طرف سے 6 جنوری 2021 کو کیپیٹل پر حملے پر عالمی خدشات تھے۔

بائیڈن نے اس تقریر میں کہا: "جرمنی سے ہیلمٹ کوہل نے میری طرف دیکھا اور کہا: جناب صدر، آپ کیا کہیں گے اگر آپ نے کل صبح لندن ٹائمز کا اخبار اٹھائیں اور معلوم ہو کہ ایک ہزار لوگوں نے برطانوی پارلیمنٹ کے دروازے توڑ دیے اور انہوں نے وزیر اعظم کو عہدہ سنبھالنے سے روکنے کے لیے راستے میں کچھ (لوگوں) کو مار ڈالا۔

واضح رہے کہ سابق جرمن چانسلر انجیلا مرکل اس سربراہی اجلاس میں شریک تھیں۔ جبکہ کوہل ، جنہیں سرد جنگ کے بعد جرمنی کے دوبارہ اتحاد کے معمار کے طور پر جانا جاتا ہے، وہ 1982 اور 1998 کے درمیان 16 سال تک چانسلر شپ پر فائز رہنے کے بعد 2017 میں انتقال کر گئے۔

بائیڈن کو چند دنوں میں دوسری ایسی الجھن کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اتوار کے روز لاس ویگاس میں بھی ایک انتخابی تقریب کے دوران، بائیڈن اسی G7 سربراہی اجلاس کے دوران فرانس کے صدر میکرون کے ردعمل بیان کرتے ہوئے غلطی کر گئے۔

بائیڈن نے کہا، "میٹرینڈ نے جرمنی سے میری طرف دیکھا... میرا مطلب فرانس سے ہے۔ اس نے میری طرف دیکھا اور کہا، 'آپ جانتے ہیں کیا... کیوں... آپ کب تک واپس آئیں گے؟'"

تاہم ،بعد میں وائٹ ہاؤس نے تصحیح کرتے ہوئے میکرون کا نام جاری کردہ بیان میں قوسین میں لکھ دیا۔

میٹرینڈ نے 1981 سے 1995 تک فرانس کی صدارت سنبھالی، اور 1996 میں انتقال کر گئے۔

رائے عامہ کے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی ووٹروں میں بائیڈن کی عمر کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے، جو اپنی دوسری مدت کے آغاز میں 82 سال اور آخر میں 86 سال کے ہو جائیں گے۔

ووٹرز 77 سالہ ٹرمپ کی عمر کے بارے میں کم فکر مند نظر آتے ہیں، جو ایک اور صدارتی مدت کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں، لیکن ان سے بھی کچھ غلطیاں ہوئی ہیں۔

ٹرمپ نے حال ہی میں ریپبلکن نامزدگی کے لیے اپنی حریف نکی ہیلی کو امریکی ایوان نمائندگان کی سابق اسپیکر نینسی پیلوسی کے ساتھ ملا دیا۔

پچھلے سال، ٹرمپ نے کہا کہ ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان ترکی کے رہنما ہیں، اور کہا کہ امریکہ( 1945 میں ختم ہونے والی) "دوسری جنگ عظیم" میں داخل ہونے والا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں