سعودی عرب کا عالمی دفاعی شو 6.9 بلین ڈالر کے 61 آرڈرز کے ساتھ اختتام پذیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی عرب میں منعقدہ عالمی دفاعی شو میں 6.9 بلین ڈالر (26 بلین سعودی ریال) کے درجنوں آرڈرز دیئے گئے جب جمعرات کو شو کا دوسرا ایڈیشن اختتام پذیر ہوا۔

بہت سے آرڈرز اور معاہدات کی تفصیلات کا عوامی طور پر اشتراک نہیں کیا گیا تھا لیکن کل مالیت گذشتہ سال کے افتتاحی دفاعی شو سے کچھ کم رہی جس میں کل آرڈرز اور معاہدات تقریباً 8 بلین ڈالر تکے ہوئے تھے۔

پانچ روزہ بین الاقوامی اسلحہ اور سکیورٹی ایونٹ میں 100,000 سے زائد زائرین اور 76 ممالک سے 773 نمائش کنندگان نے شرکت کی۔ اس میں 116 ممالک کے 441 وفود شامل تھے۔

ہفتے کے شروع میں العربیہ سے بات کرتے ہوئے دفاعی شو کے سی ای او نے 100,000 زائرین کی توقع ظاہر کی جو پوری ہوئی۔

61 آرڈرز کے علاوہ 70 مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

دفاعی ریگولیٹری باڈی یعنی جنرل اتھارٹی برائے ملٹری انڈسٹریز (جامی) کے سی ای او احمد العوہلی نے ایک بیان میں کہا، "ہم دفاعی صنعت کے شعبے میں ایک بڑے ملک کے طور پر سعودی عرب میں عالمی دفاعی برادری کی گہری دلچسپی سے بہت خوش ہیں۔ عالمی دفاعی شو 2024 نے پوری دنیا کے صنعت کاروں اور اختراع کاروں کو مؤثر طریقے سے ملایا ہے۔"

شو میں مختلف سعودی حکام بشمول سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور امریکا میں ریاض کی سفیر شہزادی ریما بنت بندر موجود تھے۔

رائل سعودی ایئر فورس کی ایروبیٹکس ٹیم سعودی فالکنز نے شہر کے مرکز سے تقریباً 70 کلومیٹر (43.4 میل) کے فاصلے پر ایک فعال فضائی پٹی کے ساتھ مقصد آفریں انڈور آؤٹ ڈور مقام کے اوپر ہوائی شوز کا انعقاد کیا۔ چین کی بائے ایروبیٹک ٹیم اور ترکی کی ٹیم نے فضائی شو بھی کیا۔ زمینی مظاہرے بھی ہوئے۔

سعودی عرب میں ریاض کے قریب عالمی دفاعی شو کے مقام کا فضائی منظر
سعودی عرب میں ریاض کے قریب عالمی دفاعی شو کے مقام کا فضائی منظر

شو کا اگلا ایڈیشن 2026 میں منعقد کیا جائے گا۔ تقریب کا بنیادی مقصد مملکت میں مقامی کاری (لوکلائزیشن) کے اہداف کو آگے بڑھانا ہے۔

حکومتی اندازوں کے مطابق 2022 تک مقامی کاری کی شرح چار فیصد تھی جو بڑھ کر 13.6 فیصد ہو گئی ہے۔ مقامی کاری میں غیر ملکی فرمز شامل ہوتی ہیں جو سعودی کمپنیوں اور صنعتوں کے ساتھ مقامی انسانی سرمائے اور صلاحیتوں کی تعمیر کے لیے شراکت کرتی ہیں۔

یہ صنعت بین الاقوامی فرمز کے لیے بھی منافع بخش ہے جو 2024 میں فوجی اخراجات کے لیے مملکت کے 71.72 بلین ڈالر (269-ارب ریال) بجٹ سے استفادہ کرنے کے خواہاں ہیں۔ شرقِ اوسط کی اور عالمی سطح پر سعودی عرب سب سے بڑی اور تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک ہے۔

اس سال کا تھیم "کل کے لیے مزین" تھا جس میں بہت سے پروگرام پیش کیے گئے جن میں انٹرنیشنل ویمن ان ڈیفنس پروگرام، فیوچر ٹیلنٹ پروگرام اور ڈیفنس اسپیس ایرینا شامل ہیں۔

معلوم معاہدات، یادداشتوں اور آرڈرز کی مکمل فہرست

پیر کو سعودی انڈسٹریل ڈویلپمنٹ فنڈ کے سی ای او شہزادہ سلطان بن خالد اور جامی کے مقامی کاری شعبے کے ڈپٹی گورنر محمد بن صالح العطال نے ملٹری انڈسٹریز انسینٹیو پروگرام کے معاہدے پر دستخط کیے۔

پیر کو ہی سعودی ویلتھ فنڈ پی آئی ایف کی حمایت یافتہ سعودی عربین ملٹری انڈسٹریز (سامی) نے جامی اور سعودی ٹیلی کام کمپنی کے ساتھ یادداشتوں، الخرج شہر میں سامی لینڈ انڈسٹریل کمپلیکس کی تعمیر کے لیے زامل سٹرکچرل سٹیل کمپنی کے ساتھ ایک معاہدے اور نیشنل سیکیورٹی سروسز کمپنی کے ساتھ ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے۔

لاک ہیڈ مارٹن نے اعلان کیا کہ وہ پیر کو سعودی عرب میں اپنے تھاڈ سسٹم کے پرزوں کی تیاری شروع کر دے گی۔

منگل کو سعودی وزارتِ دفاع نے پرائیویٹ ایئر سعودی عرب، ایل آئی جی نیکس ون، ریتھیون ٹیکنالوجیز کی سعودی تنظیم، مڈل ایسٹ پروپلژن کمپنی لیمیٹڈ، سامی ایروسپیس اینڈ مینٹے نینس سروسز لیمیٹڈ، سامی لینڈ سسٹمز، لاک ہیڈ مارٹن، ریتھیون ڈیفنس کمپنی، ساب سعودی عرب، حاجی حسین علی رضا اینڈ کمپنی لمیٹڈ، تھیلس انٹرنیشنل ان سعودی، بگ بلیو پرل کمپنی، ماڈرن ٹیکنالوجی کمپنی اور سعودی انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی کے ساتھ 17 معاہدوں اور دو مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔

منگل کو ہی سعودی نیشنل گارڈ نے بغیر پائلٹ ہوائی جہاز کے نظام کی مقامی کاری کے لیے ایلم ٹیکنالوجی کمپنی کے ساتھ مفاہمت نامے، انٹرا ڈیفنس ٹیکنالوجیز کمپنی کے ساتھ ایک اور مفاہمت نامے، گولہ بارود کی فراہمی کے لیے کے این ڈی ایس کے ساتھ ایک معاہدے اور سعودی فرموں کے ساتھ سیمولیٹرز کی نگہداشت اور انتظام کے لیے دو مزید معاہدات پر دستخط کیے۔

سعودی وزارتِ دفاع نے بدھ کے روز رائن میٹل عربیہ سمولیشن اینڈ ٹریننگ، جنوبی افریقہ کی ہینسولڈٹ جیو، سپین کی رین میٹل ایکسپال، بوسنیا اِگ مین کمپنی، کوریا کی پونگسان کارپوریشن، قدرا انڈسٹریل کمپنی، فہد انٹرنیشنل کمپنی اور نیشنل کمپنی فار مکینیکل سسٹمز کے ساتھ 10 معاہدوات پر دستخط کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں