6 وجوہات جو سردیوں میں ہارٹ اٹیک کا باعث بنتی ہیں سے کیسے بچیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

بہت سے معالجین نے ایک ایسے رجحان کا مشاہدہ کیا ہے جس پر شاید زیادہ سائنسی تحقیق یا مطالعہ نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سردیوں کے دوران اور شدید سردی کی لہروں کے دوران عارضہ قلب کے شکار افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

طبی اور صحت عامہ کی خبروں کی ویب گاہ ہیلتھ شاٹس کی جانب سے شائع ہونے والی ایک خصوصی رپورٹ میں چھ وجوہات کا جائزہ لیا گیا جو سردیوں کے دوران دل کے دورے کے واقعات میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطالعے سے گذری اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ’’دنیا بھر کے طبی ماہرین اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ موسم سرما میں لوگ دل کے امراض کا زیادہ شکار ہوتے ہیں‘‘۔

رپورٹ کے مطابق “سردیوں کا جسم کی کام کرنے کی صلاحیت پر براہ راست اثر پڑتا ہے کیونکہ اس سے خون کی شریانیں اور کورونری شریانیں سکڑ جاتی ہیں، جس کا براہ راست اثر جسم میں خون کے بہاؤ کے عمل پر پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ سردیوں میں لوگوں کی جسمانی سرگرمیاں کم درجہ حرارت کی وجہ سے کم ہوجاتی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چھ وجوہات ایسی ہیں جو سردیوں میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھا دیتی ہیں، جن میں سے پہلی وجہ ہائی بلڈ پریشر ہے، کیونکہ سرد موسم ہائی بلڈ پریشر اور دل کی صحت سے منسلک دیگر خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔

جرنل آف ایکسپیریمنٹل فزیالوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق بتاتی ہے کہ سرد موسم میں دل کا دورہ پڑنے کے امکانات کسی بھی دوسرے وقت کی نسبت بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ "جسم تھکاوٹ کا شکار ہو سکتا ہے، جیسا کہ سرد موسم میں جسم کو مناسب درجہ حرارت کو برقرار رکھنے کے لیے بہت زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔ایسا کرتے ہوئے وہ دوسرے نظاموں جیسے کہ قلبی نظام سے توانائی اور وسائل لیتا ہے"۔

تیسری وجہ فالج کی بڑھتی ہوئی تعداد ہے۔ جرنل ہارٹ ریتھم میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ خون کے جمنے کی وجہ سے ہونے والے فالج جوایٹریل فیبریلیشن کے مریض ہوتے ہیں سردیوں میں زیادہ ہوتے ہیں۔

ویب سائٹ کے مطابق چوتھی وجہ "سانس میں انفیکشن" ہے۔ کیونکہ سردیوں کے دوران لوگوں میں سانس کے انفیکشن زیادہ ہوتے ہیں، جیسے انفلوئنزا اور نمونیا وغیرہ۔

پانچویں وجہ "طرز زندگی کا انتخاب" ہے۔ کیونکہ ہم سردیوں کے دوران طرز زندگی میں بہت سی تبدیلیاں کرتے ہیں۔اس سے دل کی صحت بھی خراب ہو سکتی ہے۔

ایک خاتون سینے میں درد کا شکار
ایک خاتون سینے میں درد کا شکار

اس تناظر میں ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے: "ہم اپنی جسمانی سرگرمیاں کم کرتے ہیں اور ہمارا وزن بڑھ جاتا ہے۔ قلبی تندرستی میں بھی عام کمی واقع ہوتی ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "چھٹیاں ہمارے جسموں اور دلوں پر بھی دباؤ ڈالتی ہیں۔ ہماری خوراک میں اضافہ اور ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ کا باعث بن سکتا ہے، یہ دونوں ہی دل کے دورے کے خطرے کے عوامل ہیں"۔

چھٹی وجہ "سورج کی روشنی کا کم ہونا" ہے۔ کیونکہ ہم سردیوں کے مہینوں میں زیادہ سورج کی روشنی کے سامنے نہیں آتے۔ یہ وٹامن ڈی کی سطح میں کمی کا سبب بن سکتا ہے اور اس کا براہ راست اثر تھرمل صحت پر پڑتا ہے اور ہمارے دل کے دورے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ہیلتھ شاٹس رپورٹ کا اختتام سردیوں کے دوران بھی دل کی اچھی صحت کو یقینی بنانے کے لیے کیے جانے والے متعدد اقدامات کی سفارش کرتے ہوئے کیا گیا ہے۔ ان اقدامات میں سے پہلا ایک "صحت مند طرز زندگی" اپنانا ہے۔اگر آپ پہلے ہی دل کی بیماری میں مبتلا ہیں، آپ کو دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

دوسری چیز جو دل کی اچھی صحت فراہم کرتی ہے وہ "فوری طبی توجہ"، جہاں کسی بھی چیز کو ہلکا نہیں لیا جانا چاہیے۔ اگر آپ کو سینے میں درد، سانس کی تکلیف، یا تھکاوٹ جیسی علامات کا سامنا ہے، تو یہ جاننا ضروری ہے کہ فوری طبی امداد سے نتائج بہتر ہو سکتے ہیں۔

تیسری چیز اپنے جسم کو گرم رکھنا ہے، کیونکہ یہ یقینی بنانا بہت ضروری ہے کہ آپ سردی کے دوران گرم اور اچھی طرح ڈھکے ہوئے ہوں۔ آخر میں ایک شخص کو معلوم ہونا چاہیے کہ "پرہیز علاج سے بہتر ہے"۔ کیونکہ قلبی صحت کو یقینی بنانے کے لیے فعال اقدامات کو اپنانا واقعی سردی کے مہینوں میں دل کے دورے کے واقعات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں