عرب گاؤں ابو گوش اسرائیلیوں کے لیے پرامن جائے سکونت کیسے بنا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل میں ایک ایسے گاؤں کا انکشاف ہوا ہے جہاں کے اسرائیلی اور عرب لوگ باہم مل جل کر رہنے کو آج بھی پسند کرتے ہیں۔ اتفاق سے اس گاؤں کے باسیوں کی تعداد میں عرب شہریوں کی تعداد ایسی ہے کہ پچھلی دو دہائیوں سے عوامی نمائندگی کرنے والا میئر مسلمان ہے۔ اس گاؤں کے عرب فلسطینی کہلانے کو پسند نہیں کرتے بلکہ ایک اسرائیلی فوجی کی صورت غزہ مٰں جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کا حصہ بھی بنے ہیں۔

اس اسرائیلی گاؤں کا نام 'ابو گوش' ہے۔ اس کے ایک رہائشی عرب نے کہا جب میں اسرائیلی فوج کے ساتھ کھڑا ہو کر لڑنے گیا تو میری ماں نے پوچھا کیا تم فلسطینیوں کے خلاف لڑنے جاؤ گے۔ میں نے کہا ہاں میں امن کی خاطر ایسا کروں گا۔ اس نے مزید کہا ہم اپنے ملک کے لیے لڑنا چاہتے ہیں اس کا دفاع کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ایک چھوٹا فوٹو گرافر بھی ہے اور اسرائیلی فوج کا ایک فوجی بھی۔ اسے فوج نے لبنانی سرحد پر بھیجا تھا، جہاں سے زخمی ہو کر واپس آگیا، اب ابراہیم اگلے ہفتےدوبارہ واپس محاذ پر جائے گا۔

یروشلم سے گیارہ کلو میٹر کے فاصلے پر قائم اس ابو گوش نامی گاؤں کا نام قفقازاں کے ایک خاندان کی مناسبت سے رکھا گیا تھا جو س علاقے میں آکر بسا تھا ۔ تقریباً سات صدیاں قبل اس گاؤں کی بنیاد پڑی تھی۔ اس علاقے میں یہ اکلوتا گاؤ ں تھا جس کے عربوں نے 1948 میں خود کو اسرائیلی ریاست کے خوشی خوشی کر دیا تھا۔

اس خود سپردگی کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ یہ اسرائیل کے فرمانبردار عربوں کو گاؤں بن گیا۔ اور اس میں اسرائیلی بھی مزے سے رہنے لگے۔ ان کے درمیان شروع سے اچھے تعلقات ہیں۔ ایک دیہاتی نے کہا وہ کود کو فلسطینی نہیں بلکہ اسرائیلی بتاتے ہیں۔ یہ گاؤں اسرائیل کا واحد گاؤ ہے جہاں امن ہی امن اور چین ہی چین ہے۔ نہ کوئی خوف کی حالت میں رہتا ہے نہ ڈر پال رکھا ہے۔

گاؤں کا بلدیاتی نمائندہ بھی ایک عرب ہے۔ اس کا نام جابر ہے۔ اس نے 20 سال سے اس گاؤں کی نمائندگی کی ہے۔ گاؤں کی آبادی دس ہزار کے قریب ہے۔ جابر کہتا ہے کہ ہمارے سب کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں۔ اس نے اپنے دفتر میں نیتن یاہو کی تصویر لگا رکھی ہے۔ جس میں وہ شاہ اردن کے ساتھ مصافحہ کر رہا ہے۔ جابر نے کہا 'اسرائیل میں اس گاؤں کو امن کی علامت سمجھا جاتا ہے۔'

جابر نے کہا سات اکتوبر کے حماس کے حملے کے بعد اسرائیلوں میں کچھ خوف محسوس ہوا تو آس پاس کے عربوں نے انہیں تسلی دی کہ ہم عربی ضرور بولتے ہیں مگر ہم فلسطینیوں کے ساتھ نہیں۔ نہ ہی ہم پتھر پھینکتے ہیں بلکہ ہم اسرائیل کے وفادار ہیں اور وفدار ہی رہیں گے۔ ہم سب عربوں نے یہ یقین دلایا تو تب اسرائیلی مطمئن ہو گئے۔'

جابر نے بتایا جو اسرائیلی نقل مکانی کر کے یہاں 'ابو گوش 'میں پہنچے ہیں ہمارے لوگ ان کی دعوتیں کرتے ہیں، ان کے لیے کھانے پکاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں