کوئٹہ سے ترکمانستان جانیوالوں کو راہ دینے کیلئے طالبان بنائے گئے: سابق افغان وزیر

امریکہ طالبان مذاکرات سے افغان حکومت کو باہر رکھنا بڑی غلطی تھی: عمر داؤد زئی کا العربیہ کے پروگرام میں اظہار خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

افغانستان کے سابق وزیر داخلہ محمد عمر داؤد زئی نے حامد کرزئی اور اشرف غنی کے دور میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان تنازعات کی وجوہات کے بارے میں بات چیت کی ہے۔

العربیہ کے پروگرام ’’ الذاکرۃ السیاسیۃ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے عمر داؤد زئی نے کہا کہ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو یہ مانتے ہیں کہ پاکستان کے سابق وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر نے کوئٹہ سے ترکمانستان آنے والے تجارتی قافلوں کے لیے راستے کھولنے کے لیے طالبان کی بنیاد رکھی تھی۔

سابق افغان صدر حامد کرزئی
سابق افغان صدر حامد کرزئی

افغان صدر حامد کرزئی نے 2011 میں عمر داؤد زئی کو پاکستان میں سفیر مقرر کیا تھا تاکہ کابل میں امن عمل کے لیے اسلام آباد کا مخلصانہ تعاون حاصل کیا جا سکے۔ پاکستان بھیجے جانے کے اگلے ہی دن ایک امریکی دستے نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے گھر پر کارروائی کرکے اسے مار دیا تھا۔

عمر داؤد زئی کو خدشہ تھا کہ اسامہ بن لادن کا قتل ان کے مشن کو پٹڑی سے اتار دے گا لیکن اس کے باوجود اس کی اسناد کو قبول کر لیا گیا اور انہوں نے صدر کرزئی اور اعلیٰ امن کونسل کے سربراہ پروفیسر برہان الدین ربانی کے پاکستان کے دورے کا اہتمام کرنا شروع کر دیا۔

عمر داؤد زئی نے بتایا یہ دورہ کامیاب رہا کیونکہ پاکستان نے افغانستان میں امن عمل کی حمایت پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن اس دورے کے مہینوں بعد ربانی کو قتل کر دیا گیا جس کے باعث امن عمل میں خلل آگیا۔ اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کابل کا دورہ کرنا تھا لیکن وہ افغانستان کی جانب سے دورہ منسوخ کرنے کی خبروں سے حیران رہ گئے اور کشیدگی واپس آگئی۔

سابق افغان صدر اشرف غنی
سابق افغان صدر اشرف غنی

عمر داؤد زئی نے بتایا کہ کرزئی اس بات پر غصے میں تھے کہ دورہ منسوخ ہونے کی خبر ان کے علم میں لائے بغیر میڈیا کو لیک کر دی گئی اور بعد میں یہ واضح ہو گیا کہ اس کے پیچھے زئی کے بعد محل میں موجود چیف آف سٹاف کا ہاتھ تھا۔ عمر داؤد زئی نے مزید کہا کہ صدر اشرف غنی کے صدارت سنبھالنے کے بعد میں نے دوبارہ اسلام آباد کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے دورہ کابل کا اہتمام کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

امریکیوں اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے متعلق عمر داؤد زئی نے کہا اس حوالے سے جو بڑی غلطی سرزد ہوئی وہ افغان حکومت کو ان مذاکرات سے باہر کرنا تھا۔ جب طالبان نے محسوس کیا کہ امریکی انخلاء کی جلدی میں ہیں تو انہوں نے افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کرنے سے انکار کردیا۔

سابق افغان وزیر داخلہ عمر داؤد زئی افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے لیے طالبان کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن کی میعاد ختم ہونے سے ایک روز قبل اپنا ملک چھوڑ کر دبئی چلے گئے تھے۔ اس وقت سے وہ دبئی میں مقیم ہیں۔ عمر داؤد زئی نے بتایا کہ دبئی آنے کے کچھ دنوں بعد مجھے میری افغان لائن پر ایک نامعلوم شخص کی طرف سے کال موصول ہوئی جس میں ہتھیار ڈالنے کا کہا گیا۔ میں نے فون کرنے والے کو بتایا کہ میں ملک سے باہر ہوں۔ پھر گھر میں موجود کارکنوں سے معلوم ہوا کہ طالبان بندوق بردار تھے اور انہوں نے گھر میں گھس کر کچھ سامان چوری کرلیا اور توڑ پھوڑ بھی کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں