سعودی شہری نے خراب لکڑی سے ممتاز فنکارانہ شاہکار تخلیق کر ڈالے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک سعودی شہری نے تخلیقی صلاحیتوں کی منفرد کہانی اس وقت لکھ ڈالی جب وہ تباہ شدہ درختوں کے ٹکڑوں کو سعودی ورثہ کے فنکارانہ شاہکار میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس کے بنائے گئے فن پارے ان درختوں کے ٹکڑے تھے جنہیں اس نے آٹھ سال قبل مدینہ میں اپنے والد کے فارم کے اندر دیکھا تھا۔

آرٹسٹ احمد الحربی نے 2016 میں اپنے شوق کا آغاز کیا تھا۔ اس نے سادہ آلات اور اوزاروں کے ساتھ فنی شاہکار تخلیق کرتے ہوئے، "ابجاورہ" کی شکل پیدا کی۔ اپنی کمیونٹی میں کامیاب تجربات کے بعد اس کے ایک دوست نے مشورہ دیا کہ وہ مملکت میں ابھرتے ہوئے منصوبوں کی حمایت کے لیے کسی ایک پروگرام کے لیے درخواست دے دے۔ اس نے اس حوالے سے کام کیا تو ایک شخص کے ساتھ ملکر پوزیشن حاصل کرلی۔

اس پوزیشن نے الحربی کو اس منصوبے کی کامیابی کے لیے مزید پرعزم بنا دیا۔ اس نے اپنے والد کے فارم پر بڑھئی کے ذریعے اپنا کام شروع کیا۔ انھوں نے اثر اور السدر جیسی مقامی لکڑی کے ساتھ بہت سے تجربات کیے۔ انھیں مدینہ منورہ کے کھیتوں سے جمع کیا۔ اس طرح میں اس علاقے میں کھیتوں سے لکڑیاں جمع کرنے کے لیے مشہور ہو گیا۔ اس کے بعد مجھ سے کسانوں نے بات چیت شروع کر دی۔

دو سال تک لکڑی پر تجربہ کرنے کے بعد الحربی نے اپنا کاروبار شروع کرنے اور اپنے شوق کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کیا جس کا مقصد قدرتی لکڑی پر مقامی طور پر سعودی ہاتھوں سے تیار کردہ سجاوٹ پر کام کرنا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ اپنی گفتگو میں الحربی نے کہا کہ میں روایتی معنوں میں بڑھئی نہیں ہوں۔ میں ایک فنکار اور کاریگر کے درمیان کی چیز ہوں۔ میں لکڑی کو فن اور ورثے کے ساتھ ملاتا ہوں۔

انہوں نے مزید کہا میں نے جھلی کے درخت کو تباہ کرنے کے بجائے اسے جدید ٹچ کے ساتھ لکڑی کی منفرد مصنوعات میں تبدیل کرنا شروع کردیا۔

الحربی کا خیال ہے کہ اس کے آباؤ اجداد صرف جھلی کی لکڑی استعمال کرتے تھے کیونکہ ان کے دروازے، چھت، فرنیچر، برتن حتیٰ کہ جانوروں کو پانی دینے کے اوزار بھی اسی سے بنائے جاتے تھے۔ اس لیے میں اس قسم کی لکڑی کی حیثیت کو ایک جدید اور اختراعی انداز میں بحال کرنا چاہتا تھا۔

2022 میں الحربی نے دیکھا کہ شہر میں بالخصوص اور بالعموم سعودی عرب میں کاریگروں کی تعداد کم ہے۔ اس لیے الحربی نے مدینہ منورہ میں ایک "کرافٹ فورم" قائم کیا تاکہ تاکہ ہر اس شخص کو اہل بنایا جا سکے جو اس شعبے میں داخل ہونے کی خواہش رکھتا ہو۔ دستکاری سیکھنے کے لیے الحربی نے مختلف عمروں کے 300 سے زیادہ لوگوں کو تربیت دینا شروع کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں