مسجد نبویﷺ میں بچھائے قالینوں پر الیکٹرانک چپ کیوں لگائی جاتی ہے؟

مسجد نبوی میں بچھائی قالینوں کو زائرین کی راحت سکون کے پیش نظر انتہائی اہتمام کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی حکومت مسجد حرام اور مسجد نبوی ﷺ میں بچھائے گئے قالینوں کو خاص اہتمام کے ساتھ تیار کرتی ہے تاکہ زائرین کو ان پر عبادت کرتے ہوئے اطمینان، سکون قلب اور راحت محسوس ہو۔

مسجد نبوی ﷺ کے قالین کی دیکھ بھال کے شعبے کی طرف سے حرم نبوی کے قالینوں کوان کے معیارکے مطابق تیار کیا جاتا ہے۔ انہیں صاف کرنے، جراثیم سے محفوظ رکھنے اور چوبیس گھنٹے انہیں معطر رکھنے کے لیے خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔

مسجد نبوی ﷺ کے قالینوں کی تیاری کے لیے اعلیٰ معیار کا قیمتی دھاگہ استعمال کیا جاتا ہے۔ انہیں مسجد نبوی میں بچھانے کے لیے خاص ڈیزائن میں بنایا جاتا ہے۔ قالین کے ایک ٹکڑے کی موٹائی 16 ملی میٹرہوتی ہے اور قالینوں کو نرم دھاگے سے تیار کیا جاتا ہے۔ ان میں انسانی کثافتوں کےبچاؤ ایک مضبوط طاقت ہوتی ہے اور ان پر نماز ادا کرتے وقت نمازی راحت اور سکون محسوس کرتے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسجد نبوی کے قالینوں کے ہر ٹکڑے پر ایک الیکٹرانک چپ ہوتی ہے جسے آریفآئڈی کے ذریعہ پڑھا جاتا ہے۔ اس کی تیاری کے بعد قالین کی معلومات کو محفوظ رکھنے کے لیے اس پر ایک الیکٹرانک چپ لگائی جاتی ہے۔

اس چپ کے ڈیٹا کو ڈیجیٹل کوڈنگ "بارکوڈ" کے ذریعےاس کی تیاری کی تاریخ کا پتا چلایا جا سکتا ہے۔ بارڈ کوڈ پڑھنے سے قالین کے اس ٹکڑے کی جگہ، اس کی دہلائی کی تاریخ، مسجد میں بچھانے کی تاریخ اورمسجد نبوی میں ایک سے دوسری جگہ منتقل کیے جانے کی معلومات ملتی ہیں۔

مسجد نبوی ﷺ کی سطح اور چوکوں میں 25 ہزار سے زیادہ قالین موجود ہیں اور قالینوں پر دن میں تین بار جھاڑو دیا جاتا ہے۔ انہیں 1،600 لیٹر سے زیادہ جراثیم کش مواد سے پاک کیا جاتا ہے اور 200 لیٹر سے زیادہ کے ساتھ خوشبو چھڑکی جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں