الجزائر میں نایاب پرندوں کی تصویر کشی شوقیہ افراد کو اپنی طرف متوجہ کرنے لگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

الجزائر میں نوجوانوں میں وائلڈ لائف فوٹو گرافی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ یہ فوٹو گرافی نوجوانوں کا مشغلہ بن رہی ہے۔ ملک میں قدرتی اور فطری مقامات کی بنا پر سینکڑوں اقسام کے نایاب پرندوں اور جانوروں کی تصاویر لینا ممکن ہوگیا ہے۔ واضح رہے وائلڈ لائف فوٹوگرافی کو فوٹو گرافی کی سب سے مشکل قسموں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اس میں صرف وہی لوگ مہارت حاصل کر سکتے ہیں جو کیمروں کے لینز سے قبل فطرت کی "زبان" پر کنٹرول حاصل کرلیتے ہیں۔ کیمروں سے تصویریں لینے میں استعمال ہونے والی تکنیک کا جاننا اور اسی مناسبت سے آلات کی فراہمی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ فوٹو گرافر جانوروں کی شناخت اور نگرانی کے لیے مخصوص لباس ، حوالہ جات اور دستاویزات کا سہارا لیتے اور انحصار کرتے ہیں۔

شمال مشرقی الجزائر کے دور دراز علاقے ’’اوراس‘‘ سے فوٹوگرافر یعقوب عایب خنشلہ گورنریٹ (الجزائر سے 600 کلومیٹر مشرق) سے ایک کیمرہ لے کر، خاص لباس پہن کر ، ان سبز علاقوں کی وسعتوں کی طرف روانہ ہوا جہاں پر وادیاں اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر قدرتی رازوں کے خزانے موجود ہیں۔

پرندوں اور جانوروں کی فوٹو گرافی ایک مشکل کام ہے
پرندوں اور جانوروں کی فوٹو گرافی ایک مشکل کام ہے

یعقوب عایب کے لیے فوٹو گرافی ایک جنون اور ایک مشغلہ ہے۔ اس نے اپنی کیمرے کی آنکھ میں مختلف قسم کے پرندوں اور چڑیوں کو قید کرلیا ہے۔ یعقوب نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے خصوصی گفتگو کی اور بتایا کہ بچپن سے ہی وہ وائلڈ لائف فوٹو گرافی کا رجحان رکھتا تھا۔ یعقوب نے بتایا وہ پہاڑوں کے درمیان اور نایاب پرندوں کی تلاش میں جنگلوں میں اپنی مہم جوئی کرتا تھا۔ اس کے ہاتھ میں مشین ایک خوبصورت محبت کی کہانی سنا رہی ہے۔ یہ کہانی اسے پریوں کی دنیا سے جوڑ رہی ہے۔

جذبے کی کہانی

یعقوب جب بولتا ہے تو آپ اس گہرے روحانی تعلق کو محسوس کرتے ہیں جو اسے زمین اور خاص طور پر جنگلی حیات سے جوڑتا ہے۔ وہ ’’اوراس‘‘ کو ایک ایسی سرزمین سمجھتا ہے جو "اہم حیاتیاتی تنوع" رکھتی ہے۔ اس خطے کے ہر حصے میں غوطہ خوری اسے مزید جاننے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

جنگلی حیات  کی فوٹو گرافی کیلئے مخصوص لباس پہننا ہوتا
جنگلی حیات کی فوٹو گرافی کیلئے مخصوص لباس پہننا ہوتا

جب وہ کیمرہ اٹھاتا ہے اور جنگلوں کی طرف جاتا ہے تو اس کی سب سے بڑی فکر ان نایاب ترین جنگلی مخلوق کو تصویر میں قید کرنا ہوتی ہے جو فطرت کے پیچھے چھپ جاتی ہیں۔ اس لیے اس کی خواہش ہمیشہ ان نایاب پرندوں اور جانوروں کی سب سے بڑی تعداد تک پہنچنے کی رہتی ہے جو اس کے علاقے اور الجزائر میں موجود ہیں۔

نایاب پرندوں کا تعاقب

یعقوب نے نایاب پرندوں کی بہت سی تصویریں لیں اور انہیں اپنے فیس بک پیج پر پوسٹ کیا۔ ان پرندوں میں شمالی افریقہ میں پائے جانے والے مغریب میگپی کے ساتھ ساتھ پیلی چڑیا بھی شامل ہے۔ پرندوں کی دنیا کے لیے اس کا شوق اسے ملک کے جنوب میں نایاب پرندے کو کیمرے میں محفوظ کرنے کے لیے لے گیا۔

الجزائر میں ایک نایاب پرندہ
الجزائر میں ایک نایاب پرندہ

اس صحرائی سرزمین پر پہنچنے پر یعقوب نے بتایا کہ کس طرح اس کی تصویریں نیلی جگہ پر گھومتی تھیں جہاں تصویر میں فلیمنگو (گلابی فلیمنگو) کا جھنڈ جھیل صفیون کے اندر جمع تھا۔ نقاب پوش کبوتر کی تصاویر لی گئیں۔

یعقوب کا کہنا ہے کہ وائلڈ لائف فوٹوگرافی "بہت مشکل" ہے۔ بلکہ اس کا خیال ہے کہ "شوقیہ فوٹوگرافی کا سب سے مشکل شعبہ" وہ ہے جس کا جنگلوں سے تعلق ہے۔ نوجوان نے اپنے تجربے کے بارے میں بات کی اور بتایا کہ اس کے لیے سفر کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ جانوروں کی نگرانی کرنا اور ان کی تصویر بنانا آسان کام نہیں ہوتا۔ پرندوں اور جانوروں کے ساتھ رہنے کے لیے دھوکہ دینے والا لباس پہننا پڑتا ہے۔

یعقوب نے 2021 کے موسم گرما میں خنشلہ گورنریٹ کے جنگلات میں لگنے والی آگ کی تصویر کشی کے اپنے تجربے کا اظہار افسوس کے ساتھ کیا۔ اس نے بتایا کہ یہ ایک مشکل کہانی تھی اور ان لمحات کو دستاویزی شکل دینا درد سے بھرا معاملہ تھا۔ پہاڑ کو جلتا دیکھنا ایسا ہی ہے جیسے اپنے گھر کو شعلوں سے جلتا دیکھنا ہو۔

یعقوب صرف یہ چاہتا ہے کہ جنگلات اور سبزہ زاروں کی حفاظت کی جائے تاکہ وہ جنگلی حیات کی چھوٹی سے چھوٹی تفصیلات کی تصویر کشی میں اپنی مہم جوئی جاری رکھ سکے۔

حیاتیاتی تنوع کا تحفظ

مراد حرز اللہ کو الجزائر کے مشہور وائلڈ لائف فوٹو گرافرز میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ الجزائر وائلڈ لائف ڈاکیومینٹیشن ایسوسی ایشن کے میڈیا ترجمان ہیں۔ ان کے پاس سکول کے بچوں کے لیے نمائشیں منعقد کرکے تعلیمی میدان میں اپنی سرگرمیوں کو بڑھانے کا ایک بڑا منصوبہ ہے۔

حرز اللہ نے کہا کہ فطری فوٹو گرافی کی دنیا سے لگاؤ، الجزائر میں وسیع سمندری ساحل، پہاڑوں اور صحراؤں کا قدرتی تنوع، ممالیہ جانوروں اور مختلف اقسام کے پرندوں کے نئے رازوں تک رسائی کی خواہش وہ عوامل ہیں جنہوں نے الجزائر کے لوگوں میں وائلڈ لائف فوٹو گرافی کا شوق بڑھانے میں مدد کی ہے۔

380 اشیاء کی تصاویر

فوٹوگرافر مراد حرز اللہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو انٹرویو میں بتایا کہ ہماری ایسوسی ایشن جس مقصد کی تلاش میں ہے وہ جانوروں کی مختلف انواع خصوصاً پرندوں کی فہرست اور انوینٹری کو اپ ڈیٹ کرنا ہے۔ ہم نے الجزائر میں 14 نئی دریافتوں سمیت 380 انواع کو فلمایا ہے۔ واضح رہے الجزائر وائلڈ لائف ڈاکومینٹیشن سوسائٹی کی بنیاد فروری 2021 میں رکھی گئی تھی اور اسے اسی سال اکتوبر میں تسلیم کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں