امریکہ اسرائیل اور لبنان تنازعہ کے حل کی خاموش کوشش کر رہا ہے: آموس ہوچیسٹین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی صدر جو بائیڈن کے معاون اور اعلیٰ امریکی سفارتکار آموس ہوچیسٹین کا کہنا ہے کہ ایک ہمہ گیر جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتی ہے۔ امریکہ خاموشی سے اس کوشش میں ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان تنازعہ طے کرنے اور لڑائی روکنے میں کامیاب ہو۔

'ہماری کوشش ہے کہ اس طریقے کو اختیار کیا جائے ان دونوں میں تصادم کا خاتمہ کر سکے کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان دو دہائیوں سے پایا جانے والا تصادم کشیدگی کو بڑھا رہا ہے۔

واضح رہے امریکہ نے سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد غزہ میں اسرائیلی بمباری شروع ہونے کے ساتھ ہی اسرائیل اور لبنان کے درمیان تیزی سے دوڑ لگائی تھی تاکہ خطے میں کشیدگی کو راستہ نہ ملے۔ ہزاروں فوجیوں اور امریکی بحری بیڑوں کی بھی خطے میں موجودگی ممکن بنا دی گئی تھی۔ اس کا مقصد یہی بتایا گیا تھا کہ لبنانی حزب اللہ کو اسرائیل کے ساتھ ایک محاذ کھولنے کا موقع نہ دیا جائے، جیسا کہ حماس پہلے ہی کر چکا ہے۔

امریکی صدر کے مشیر آموس ہوچیسٹین نے میونخ میں سکیورٹی کانفرنس کے دوران ' العربیہ' سے ایک انٹرویو میں کہا 'ہم یہ کر رہے ہیں کہ ہم اس لڑائی کو انتہائی نچلی سے اوپر نہ اٹھنے دیں اور ممکنہ حل کی کوشش کریں۔ جو ایک پائیدار حل ہو اور اس کے نتیجے میں دشمنی میں کمی آئے۔ '

ان سے کہا گیا کہ حزب اللہ کا تو کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ اسرائیل جنگ روک دے گا تو حزب اللہ بھی حملے نہیں کرے گی؟ ہیوچیسٹین نے شتاب جواب دیا ' واضح ہے کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے ایک تعلق ہے۔'

مگر اس حزب اللہ کے پیش کردہ حل اور پیش کش کے باوجود صدر جو بائیڈن نے ہیوچیسٹین کو ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان اقوام متحدہ کی طرف سے قائم کردہ گرین لائن کے مطابق حل نکالیں۔ ہیوچیسٹین نے پچھلے سال دونوں ملکوں کے درمیان سمندری سرحدوں کے حوالے سے ایک کامیابی حاصل کی تھی۔ دوطرفہ معاہدہ ممکن بنایا تھا۔

تاہم اس وقت اسرائیل پر اپنے حملے روکنے اور اسرائیل لبنان پر حملوں سے رکنے کو تیار نہیں۔ اسرائیل کے تازہ حملوں دس لبنانی شہری ہلاک ہوئے ہیں جس میں پانچ لبنانی بچے ہیں۔ یہ حملے لبنان کے اندر آبادیوں پر کیے گئے ہیں۔ اس پر حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے اعلان کیا ہے کہ اس حملے کا بدلہ چکایا جائے گا۔'اسرائیل کو ہمارے شہریوں کی اموات کی قیمت چکانا ہو گی۔'

دوسری جانب امریکی سفارت کار کا کہنا ہے کہ 'امریکہ یمن پر حملے روک دے گا جب حوثی بحیرہ احمر میں حملے روک دیں گے۔‘ ہیوچیسٹین نے کہا 'اس کے باوجود امریکہ واضح ہے کہ دشمنی کا خاتمہ ہونا چاہیے اور لبنان کے بے گھر ہونے والوں کو اپنے گھروں میں واپس جانے کا اور اسرائیل کے بے گھر ہونے والوں کو اپنے گھروں میں جا کر رہنے کا موقع دیا جائے۔ '

مزید کہا 'مگر یہ صرف جنگ بندی سے ممکن نہین ہو گا ان دونوں طرف کے لوگوں کی سلامتی کی ضمانت دینا ہو گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ سات اکتوبر کے بعد سے صورت حال بہت بدل گئی ہے۔'

امریکی سفارت کار نے اس سلسلے میں بتدریج کرنے والے کئی اقدام کی فہرست پیش کی جو سلامتی کے ماحول کے لیے دونوں طرف سے کرنا ضروری ہیں۔ ان کے بقول اسیی صورت ایک جامع حل نکل سکتا ہے۔

واضح رہے سات اکتوبر کے بعد سے لبنانیوں کی ہلاکتیں 200 کے قریب ہو چکی ہیں جبکہ اسرائیلیوں کی ہلاکتیں 10 ہوئی ہیں۔

امریکی سفارت کار سے جب یہ پوچھا گیا کہ وہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کس طرح بہتری کے لیے مذاکرات کر سکتے ہیں وہ تو حزب اللہ کو دہشت گرد کہتے ہیں۔ تو ان کا جواب تھا 'امریکہ کے پاس ایسے کئی طریقے موجود ہیں کہ وہ کسی کو بات کہنا یا پہنچانا چاہے تو ایسا ممکن بنا لے۔ مشرق وسطیٰ میں بھی ایسا ہے اور اس کے لیے کوشش جاری رکھیں گے۔'

آموس ہیوچیسٹین نے اس معاملے میں جو بائیڈن انتظامیہ کا دفاع کیا کہ وہ کس طرح کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور بڑی خاموشی کے ساتھ دونوں فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ وہ پر امید ہیں کہ سفارتی حل نکل سکے گا۔

حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کی کمی کے لیے امریکہ، فرانس اور دوسرے کئی ملک چاہتے ہیں کہ حزب اللہ اسرائیلی سرحد کے قریب سے اپنی موجودگی ختم کر دے۔ اس کی جگہ لبنانی فوج کی سرحد پر موجودگی بڑھائی جائے، تاکہ سرحدی خلاف ورزیوں کے لیے لبنانی سرزمین استعمال نہ ہو سکے۔ ہیوچیسٹین کہتے ہیں 'امریکہ اپنے یورپی اور مشرق وسطیٰ کے اتحادیون کے ساتھ مل کر یہ کوششیں جاری رکھے گا۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں