مراکش میں مہنگائی لوگوں کی رمضان کی تیاریاں متاثر کرنے لگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بارش کی کمی اور قیمتوں میں اضافہ مراکش کے باشندوں کو پریشان کرنے لگا ہے۔ صورتحال اس خطرے کی نشاندہی کر رہی ہے کہ لوگوں کی رمضان کے مہینے کے استقبال کی خوشی اداسی میں بدل سکتی ہے۔ ماہ مقدس کی آمد کے ساتھ ہی مراکش کے لوگ افطاری کے دسترخوانوں پر مختلف پکوان سجاتے ہیں۔ قومی بازاروں میں موجود مقامی مصنوعات کا کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے۔

لیکن اس سال مراکش کے باشندے نئے قیمتوں میں اضافے کے خوف سے اپنے دلوں پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر ماہ مبارک میں زیادہ طلب کی جانے والی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بے تحاشا بڑھتی جارہی ہیں۔

لوگ خوف کے ساتھ یہ بھی توقع کر رہے ہیں کہ یہ اضافہ اس سے زیادہ ہو گا جس کے وہ حالیہ برسوں میں عادی تھے کیونکہ ملک کو مسلسل چھٹے سال خشک سالی دیکھی گئی ہے۔

مراکش کی وزارت داخلہ نے اس ماہ کی نو تاریخ کو متعدد وزرا اور متعلقہ اداروں کے سربراہان کے ساتھ منعقد ایک اجلاس کے پس منظر میں جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ مارکیٹوں کی صورتحال کو یقینی بناتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ دستیاب سٹاک، متوقع پیداوار اور آنے والے ہفتوں کے دوران اشیا کی فراہمی رمضان اور آنے والے مہینوں میں یقینی بنائی جائے۔

انجینئر اور زرعی ماہر ریاض اوہتیتا نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو ایک بیان میں کہا کہ اس سال رمضان کا مہینہ مقامی منڈیوں میں پیداوار اور وافر مقدار میں مصنوعات کے لحاظ سے ایک آرام دہ دور میں آئے گا۔ خاص طور پر سبزیوں اور پھلوں کے حوالے سے صورتحال میں بہتری آئے گی، کیونکہ مراکش نے سردی کی لہر سے چھٹکارا حاصل کر لیا ہے۔ شدید سردی کی وجہ سے موسم خزاں کی فصلیں خراب ہو رہی تھیں۔

تاہم ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ برسوں میں رمضان کا مہینہ سردیوں میں آئے گا جس سے مقامی منڈیوں میں پیداوار کی کمی واقع ہوجائے گی اور قیمتوں میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ انجینئر نے بتایا کہ موریطانیہ کے ساتھ ہونے والی موجودہ دوڑ اور مراکش کی زرعی مصنوعات پر کسٹم ڈیوٹی کو 100 فیصد تک بڑھانے کے فیصلے نے مزید مصنوعات کو مقامی منڈیوں میں افریقہ میں کھپت کے لیے پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ مراکش کی زرعی مصنوعات کے خلاف فرانس اور سپین میں ہونے والے مظاہروں کی لہر سبزیوں اور پھلوں کے حوالے سے مراکش کے ساتھ تجارتی معاہدے کو متاثر کرے گی جس سے کسٹم ڈیوٹی میں اضافہ ہوگا اور اس طرح مقامی منڈیوں میں مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں