ایم بی سی تاسیس مملکت سے دور حاضر کی تاریخ مدون کرے گا: ولید بن ابراہیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مڈل ایسٹ براڈکاسٹنگ سینٹر [ایم بی سی] کی مجلس ادارت کے چیئرمین ولید بن ابراہیم آل ابراہیم نے انکشاف کیا ہے کہ ایم بی سی سعودی مملکت کی ابتدا سے لے کر دور حاضر کی تاریخ کو دستاویزی شکل میں مدون کرنے جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ 12 سالوں میں مکمل ہو گا۔ اس عالمی منصوبے کو کئی حصوں میں مکمل کیا جائے گا۔

ولید بن ابراہیم کے مطابق اس منصوبے کی تکیمل ذمہ داری سعودی نوجوان مرد وخواتین کے کاندھوں پر ہو گی کیونکہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ان کے ملک کو تاریخ کے جھروکوں میں کیسا دکھائی دینا چاہئے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے تیسرے سعودی میڈیا فورم میں ’’میڈیا ماضی اور حال‘‘ کے عنوان سے مجلس مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس فورم کا آغاز منگل کے روز دارلحکومت ریاض میں ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ ایم بی سی القدیہ پراجیکٹ کے ساتھ مل کر ٹی وی اور فلم پروڈکشن کا کام کرے گا۔ نیز نیوم کے ساتھ مل کر آؤٹ ڈور پروڈکشن سٹوڈیوز کو اس مقصد کے لیے بروئے کار لایا جائے گا۔ اس ضمن میں ان کے ساتھ مل کر کئی منصوبوں کی عکس بندی کی جا چکی ہے۔ العلا بھی اسی منصوبے کا حصہ ہو گا۔ عسیر ریجن کے بعض علاقوں میں بھی آؤٹ ڈور عکس بندی کی جائے گی۔

انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ہمارے منصوبے پوری مملکت کے لیے ہوں گے اور اس سے بڑھ کر یہ مستقبل کے سعودی عرب کی ویژن کی ترویج میں معاون ہوں گے۔

ادھر دوسری جانب سعودی عرب کے وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے میڈیا فورم کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں سعودی پیڈیا نامی انسائیکوپیڈیا منصوبے کے آغاز کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق
.
اس منصوبے پر کام کا آغاز عربی زبان میں ہو گا جسے بعد میں چھ دوسری زبانوں میں بھی مکمل کیا جائے گا تاکہ سعودیپیڈیا ایک مصدقہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم بن سکے۔ انہوں نے بتایا کہ منصوبہ کا پہلا مرحلہ 2025 تک مکمل ہو گا جس میں پانچ لاکھ اٹھاون ہزار مقالے اور بصری لوازمہ شامل کیا جائے گا۔

اطلاعات سلمان الدوسری نے مزید بتایا کہ ان کی وزارت نے ’’میڈیا نخلستان‘‘ منصوبہ شروع کیا ہے۔ مملکت کی میزبانی میں ہونے والے عالمی پروگرامات اور سعودی عرب کی بین الاقوامی ایونٹس میں شرکت کے موقع پر ’’میڈیا نخلستان‘‘ میں فراہم کردہ سہولتوں سے فائدہ اٹھائیں گے۔ اب تک 60 ملکوں سے تعلق رکھنے والے 455 میڈیا ہاؤسز سے وابستہ کم سے کم 2600 میڈیا پرسنز اس منصوبے سے فائدہ اٹھا چکے ہیں، جس میں انہیں مملکت کے 30 منصوبوں سے متعلق آگاہی فراہم کی جا چکی ہے۔

نیز میڈیا زون انیشیٹیو کے تحت مشترکہ ابلاغی ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ چند روز پہلے ہی وزارت اطلاعات ونشریات نے ابلاغی ندرت کے اظہار کی خاطر #حج_عمرہ میڈیاتھون کا اہتمام کیا جس سے نت نئے میڈیا آئیڈیاز کو فروغ دینے کا موقع ملا۔ انہوں نے حج سیزن کے دوران ’’حج میڈیا ہب‘‘ کے تحت مکمل اور مربوط میڈیا ماحول فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ انٹر ایکٹیو میڈیا نمائش کے ذریعے مذکورہ جہتوں میں فراہم کی جانے والی سروسز کے خدوخال نمایاں کیے جائیں گے، جس سے کم از کم دو ہزار میڈیا پرسنز اور بین الاقوامی وزیٹرز مستفید ہوں گے۔

تیسرے سعودی میڈیا فورم کے سیشن کا آغاز 20 فروری سے ہوا، جس میں میڈیا انڈسٹری کے رہنماؤں، ماہرین اور پریکٹیشنرز کے 150 مقررین کے ذریعے پیش کیے گئے 60 پینل مباحثوں اور ورکشاپس کے ذریعے دنیا بھر سے رہنماؤں، فیصلہ سازوں اور اختراع کاروں کو اکٹھا کیا گیا ہے۔

سعودی میڈیا فورم کا تیسرا ایڈیشن گذشتہ دو ایڈیشنز میں ملنے والی کامیابیوں کا تسلسل اور فورم کے میڈیا انڈسٹری پر مثبت اثرات میں فعال کردار کو اجاگر کرتا ہے۔ ان مثبت اثرات میں سعودی میڈیا کی ترقی اور بدلتی دنیا میں نئی ٹیکنالوجیز کو دریافت کرنا، سرمایہ کاری کے مواقع اور مقامی و بین الاقوامی تجربات کے تبادلے کے لیے متحرک معاشرے کا قیام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مملکت کی پوزیشن کو مضبوط کرنا جو دنیا کو اپنی جانب متوجہ اور میڈیا انڈسٹری میں مقام کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں