غزہ میں فتح ممکن نہیں: 55 فیصد اسرائیلیوں کا سروے میں اظہار خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک حالیہ رائے عامہ کے جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ اسرائیلیوں کی اکثریت اس بات پر یقین نہیں رکھتی کہ ان کا ملک غزہ کی پٹی پر جنگ میں "مکمل فتح" حاصل کر سکتا ہے۔ یاد رہے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو مسلسل جنگ پر اصرار کر رہے ہیں۔ اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ نے کہا ہے کہ 38.3 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ جنگ کے اختتام پر "مطلق فتح" حاصل کرنے کا بہت زیادہ امکان ہے۔ دوسری طرف سروے کے شرکا میں سے تقریباً 55.3 فیصد نے کہا کہ فتح کا بہت کم امکان ہے۔ سروے سے پتا چلا کہ 612 جواب دہندگان میں سے صرف 6 فیصد نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

"اصولی طور پر ایک آزاد، غیر فوجی فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اسرائیل کے معاہدے کی حمایت پر سوال کے جواب میں 55.4 فیصد نے کسی حد تک یا سختی سے اس کی مخالفت کی۔ 37.4 فیصد رائے دہندگان نے اس کی بھرپور یا کسی حد تک حمایت کا اظہار کیا۔

حماس پر فتح

اس سے قبل بدھ کے روز اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے اسرائیل کا دورہ کرنے والے شمالی امریکہ کے یہودی رہنماؤں سے کہا کہ ہمارا فتح حاصل کرنے کا ہدف آسان ہے۔ حماس پر فتح ہی ہمیں حالات معمول پر لانے اور علاقائی انضمام کو حاصل کرنے کی اجازت دے گی۔

نیتن یاہو نے متعدد بار اس بات کو دہرایا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی پر اپنی جنگ اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک حماس کو اقتدار سے بے دخل نہیں کر دیا جاتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں