سب سے زیادہ بدعنوانی والے تین سعودی شہر کونسے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

نگرانی اور انسداد بدعنوانی کے ادارے "نزاھہ" کی رپورٹس کی فہرست میں بدعنوانی میں سب سے اوپر تین سعودی شہروں کی نشاندہی کی گئی۔ یہ وہ شہر ہیں بدعنوانی کی رپورٹس میں ان کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔ 31 فیصد کی شرح کے ساتھ ریاض سر فہرست ہے۔ 21 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر مکہ مکرمہ ہے۔ 11 فیصد کیسز کے ساتھ ’’منطقہ شرقیہ‘‘ تیسرے نمبر پر ہے۔ ایک سال کے دوران ریاض میں بدعنوانی کے 14465 کیسز سامنے آئے، مکہ مکرمہ میں 10125 کیسز اور منطقہ شرقیہ میں 5000 کیسز ریکارڈ کئے گئے۔ شمالی سرحدی علاقے میں ایسے کیسز صرف 689 تھے اور اس طرح اس علاقے کا حصہ صرف ایک فیصد رہا۔

نزاھہ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ سال سعودی عرب کے تمام شہروں سے بدعنوانی سے متعلق موصول ہونے والی رپورٹس کی کل تعداد 471467 تک پہنچ گئی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی طرف سے نظرثانی شدہ ’’نزاھہ‘‘ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران اس ادارے نے بدعنوانی کی شرح کو کم کرنے اور بدعنوانوں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم نہ کرنے کے فریم ورک کے اندر 28,000 سے زیادہ کیسز کو پکڑا ہے۔

ادارے کی جانب سے بدعنوانی پکڑنے کے لیے کی گئی کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد شہریوں اور رہائشیوں کی گرفتاری عمل میں آئی۔ رشوت خوری اور دفتری اثرورسوخ کے غلط استعمال، منی لانڈرنگ اور جعل سازی کی کارروائیوں کے علاوہ گرفتار ہونے والوں کی تعداد تقریباً 1511 رہی۔ سال 2023 میں 3124 ملزمان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات درج کیے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں