جنگ بندی کے بعد یاھو حکومت اور حماس کو احتساب کا سامنا کرنا ہوگا: ٹائمز

دونوں فریق کمزور پوزیشن پر ہیں، عالمی تنقید اور اندرونی تقسیم کی وجہ سے اسرائیل کو مشکلات کا سامنا، جنگ دوبارہ شروع ہونے کا بھی امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ٹائمز اخبار نے کہا ہے کہ نیتن یاہو کی حکومت اور حماس تحریک کو ایک بار "مقبول احتساب" کا سامنا کرنا پڑے گا جب گزشتہ 7 اکتوبر سے جاری جنگ بندی کے لیے معاہدہ طے پا جائے گا۔

اخبار نے ایک رپورٹ میں کہا "ایک بار جنگ بندی ہو جانے کے بعد نیتن یاہو کی حکومت اور حماس دونوں کو اپنے لوگوں کی طرف سے جوابدہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگرچہ حماس نے 7 اکتوبر کو حملہ شروع کیا تھا لیکن وہ غزہ میں ہونے والی تباہی کے درمیان لاکھوں بے گھر ہوجانے والے فلسطینیوں کے درمیان خود کو کمزور پائے گی۔

اخبار نے کہا کہ جنگ کے دونوں فریق "فتح کا اعلان" کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ رمضان کے مہینے سے قبل جنگ بندی قریب آ رہی ہے۔ اسرائیل اور حماس دونوں کمزور پوزیشن پر رہ کر مقامی اور بین الاقوامی چیلنجوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کسی ممکنہ معاہدے کو قبول کرنے کی طرف جا رہے ہیں۔

عالمی تنقید اور اندرونی تقسیم

اسرائیلی ردعمل نے غزہ میں بڑی تباہی مچا دی ہے اور اس بنا پر نیتن یاہو کی حکومت کو بین الاقوامی تنقید اور اندرونی تقسیم کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خاص طور پر غزہ کی پٹی میں اسرائیلی یرغمالیوں کی وجہ سے بھی اسے تنقید اور تقسیم کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم اور ان کی حکومت کے شدت پسند ارکان کو سیاسی نتائج اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اخبار نے نشاندہی کی کہ غزہ میں جنگ کے بارے میں اپنے موقف کی وجہ سے انسانی حقوق اور بین الاقوامی نظام کے بارے میں کم امریکی گفتگو سامنے آئی۔

تاریک نقطہ نظر کے باوجود کچھ لوگ پر امید ہیں کہ عرب اور اسرائیل کے درمیان یہ سب سے خونریز تنازع مثبت تبدیلی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ خاص طور پر جب 1973 کی جنگ سے موازنہ کیا جائے تو دیکھا جا سکتا ہے کہ اس وقت بھی جنگ بالآخر مصر اور اسرائیل کے درمیان امن کا باعث بن گئی تھی۔

بعض سینئر عرب حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ تنازع ایک فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف پیش رفت کو فروغ دے گا۔ اس پیش رفت سے ایک طویل مدتی تنازع کا حل نکل سکتا ہے۔ فلسطینی ریاست کے بارے میں بھی نئی بحثیں سامنے آئی ہیں۔ برطانیہ اسرائیل کی مخالفت کے باوجود اسے یکطرفہ طور پر تسلیم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ اسرائیل نے اس حوالے سے ایک متبادل منصوبہ تجویز کیا تھا جو خطے پر اس کے کنٹرول کی ضمانت دے گا۔

اخبار ’’ ٹائمز‘‘ نے جنگ بندی کے بعد بھی جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کو مسترد نہیں کیا۔ خاص طور پر جنگ کا امکان اس لیے بھی ہے کہ مغربی طاقتوں کی مخالفت کے باوجود اسرائیل کی جانب سے رفح میں حماس کے مضبوط گڑھ کو نشانہ بنانے کی خواہش برقرار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں