ناہموار پہاڑی سڑکوں پر موٹر سائیکل چلاتی مراکشی خواتین کا نیا جذبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

مراکش میں خواتین کو شہر کی سڑکوں یا ناہموار پہاڑی راستوں پر بڑی موٹرسائیکلوں پر سواری کرتے دیکھنا عام ہو گیا ہے۔

خواتین اس شوق پر مردانہ تسلط کو توڑنے میں کامیاب ہوئی ہیں، اور اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں وقار کے ساتھ مسلط کرنے میں کامیاب رہی ہیں جو مردوں کے لیے محفوظ سمجھی جاتی تھی۔

انجمنوں اور کلبوں کے پھیلاؤ کی بدولت جن میں موٹرسائیکلوں کے شوقین افراد شامل ہیں، چاہے وہ میدان پر فعال ہوں یا سوشل میڈیا کے ذریعے، حال ہی میں بہت زیادہ مراکشی خواتین اور لڑکیاں اس کھیل کے شائقین میں شامل ہوئی ہیں۔

ان کی مختلف کہانیوں کے باوجود، وہ موٹرسائیکل چلانے کی محبت میں اس عزم کے ساتھ متحد ہو گئی ہیں کہ اس دقیانوسی تصور کو تبدیل کریں گے جو اجتماعی یادداشت میں محفوظ ہے کہ یہ شوق "صرف مردوں کے لیے" ہے۔

"چیلنجز سے محبت "

لبنی ہریشی، جو کہ تیس سال کی ایک نوجوان خاتون ہیں، اور ایک کاسمیٹکس کمپنی کی مالک ہیں، نے کہا کہ وہ " مہم جوئی اور نئے تجربات سے محبت کرتی ہیں، اور چیلنجز سے محبت کرتی ہیں،"

انہوں نے العربیہ سے یہ بھی کہا کہ اس کا سہرا ان کے دوست کو جاتا ہے، جس نے ایک دن انہیں اپنی موٹر سائیکل پر سواری کی پیشکش کی، اور مجھے یہ احساس بے حد خوبصورت لگا۔

انہوں نے فوراً بعد ایک بڑی موٹر سائیکل چلانے کا لائسنس حاصل کرنے اور پھر خریدنے کا فیصلہ کیا، یہ انکشاف کرتے ہوئے کہ انہوں نے اپنے خاندان کو اس خوف سے اپنے فیصلے سے آگاہ نہیں کیا کہ وہ اس خیال کو مسترد کر دیں گے۔

تاہم ان کے اصرار نے بالآخر ان کے خاندان کو یہ ماننے پہ مجبور کر دیا۔

لبنی اور اس کی سہیلیاں مراکش اور یہاں تک کہ بیرون ملک ہفتہ وار دوروں پر جاتی ہیں۔ انہوں نے متاثرین کو مدد اور اعانت فراہم کرنے کے لیے گذشتہ ستمبر میں الحوز زلزلے کی تباہی کے بعد انسانی بنیادوں پر اقدامات کا بھی اہتمام کیا۔

"مثبت توانائی کا ذریعہ"

نوال صوتی، جو ایک وکیل ہیں، ان کی عمر چالیس سال سے زیادہ ہے اور دو بیٹوں کی ماں ہے، نے بڑی موٹر سائیکل کے بارے میں اپنے تجربے کے بارے میں بات کرتے ہوئے العربیہ کو بتایا کہ "مراکش کی خواتین نے موٹرسائیکل چلانے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اس میدان میں اپنی قدر، طاقت، خوبصورتی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔

" انہوں نے مزید کہا کہ "بڑی موٹر سائیکلوں کی سواری صرف مردوں کے لیے تھی، لیکن مراکشی خواتین نے اپنے عزم کے ساتھ اس اجارہ داری کو توڑا اور پوری طاقت اور اعتماد کے ساتھ موٹر سائیکل چلا کر کامیابیوں کا مظاہرہ کیا ۔"

انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ "میرے اس میدان میں آنے کی وجہ خواتین کی سائیکلنگ ایسوسی ایشن کی صدر تھی، جن سے میں کھیلوں کے اجتماعات میں ملی، اور اس نے مجھے ایسا کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کی۔"

ان کا کہنا ہے کہ جب وہ چھوٹی تھیں تو موٹر سائیکل کو پسند کرتی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے لیے موٹر سائیکل "مثبت توانائی، خوشی، اور چیلنج اور خود اعتمادی کا سبق ہے۔"

"ضد اور مضبوط شخصیت"

26 سالہ سپورٹس ٹرینر عائشہ منصور نے کہا کہ وہ بچپن سے ہی بڑی موٹرسائیکل سے محبت کرتی تھی، انہوں نے کہا کہ سالوں گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ محبت ان کے ساتھ بڑھتی گئی۔

انہوں نے العربیہ کو بتایا کہ"ایک کھیلوں کے ٹرینر کے طور پر میرا پیشہ مجھ سے روزانہ کی بنیاد پر کسی شہر کی گلیوں میں گھومنے کا متقاضی ہوتا ہے جس کی خصوصیت انتہائی بھیڑ ہوتی ہے، اور میری بائیک مجھے ہر وقت مدد دیتی ہے اور مجھے کم دباؤ میں اپنے پیشے کو انجام دینے کے قابل بناتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس موٹر سائیکل نے انہیں دور دراز علاقوں تک پہنچنے میں بھی مدد فراہم کی یہاں تک کہ الحوز زلزلے کے بعد وہاں کاریں نہیں پہنچ سکتی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ سواروں کے اس گروپ میں شامل تھیں جو فیس بک کی بدولت ملے۔ اور متاثرہ لوگوں کی مدد فراہم کرنے کے لیے خطے کے سب سے دور تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "کچھ مرد خواتین کے موٹی بائیک چلانے کے خیال کی مخالفت کیوں کرتے ہیں۔ اس کی وجہ شاید ان کا یہ احساس ہے کہ جو خواتین اس شوق پر عمل کرتی ہیں، وہ ضدی اور مضبوط شخصیت کی حامل ہوتی ہیں، اس لیے انہیں قابو کرنا مشکل ہوتا ہے۔ "

"میری نسوانیت کو کم مت سمجھو"

30 سالہ داخلہ انجینئر، ہند مازیلی کی موٹر سائیکل کے ساتھ محبت اس وقت شروع ہوئی جب وہ 19 سال کی تھیں۔

انہوں نے العربیہ کو بتایا کہ یہ ایک خواب کی طرح تھا جس کی انہوں نے توقع نہیں کی تھی کہ ایک دن پورا ہو جائے گا، انہون نے مزید کہا کہ اس کے خاندان نے اس خیال کی سخت مخالفت کی۔

"میرے والد نے ہمیشہ مجھے مارشل آرٹس جیسے کراٹے، جیو جتسو کی ترغیب دی جس میں میں نے بلیک بیلٹ حاصل کی، لیکن انہوں نے مجھے بڑی موٹرسائیکل چلانے کی اجازت دینے سے انکار کیا۔

انہوں نے کہا کہ "میرا مقصد اس کھیل میں مردوں کے ساتھ مقابلہ کرنا، یا ان کے ساتھ کسی چیلنج میں شامل ہونا نہیں ہے، اور میں نہیں سمجھتی کہ موٹرسائیکل میری نسوانیت کو کم کرتی ہے،" "میرا مقصد اس کھیل سے لطف اندوز ہونا ہے۔

آزادی، خوشی، اور مثبت توانائی کا احساس جو موٹر سائیکل مجھے دیتا ہے، اور اس دباؤ کو دور کرنے کے لیے کافی ہے جس کا میں سامنا کر رہی ہوں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں