عراق سے انخلا کے مذاکرات پیچیدہ، واشنگٹن داعش کی عدم واپسی کی شرط پر قائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

عراق سے امریکی افواج کے انخلا کے متعلق امریکیوں اور عراقیوں کے درمیان ہونے والی بات چیت ایک اہم مسئلہ بن کر رہ گئی ہے۔ اس کی وجہ اس مسئلے سے تعلق رکھنے والے فریقوں کی کثرت بھی ہے۔ سب سے پہلے عراقی حکومت ہے اور پھر اس کے ساتھ متعدد جماعتیں ہیں۔ عراقی گلی اور علاقوں سے شروع ہو کر شیعہ جماعتوں تک، کردوں اور سنی اکثریت والی جماعتیں بھی ہیں۔ یہ سب جماعتیں مسئلہ کے حوالے سے اپنا موقف رکھتی ہیں۔

جہاں تک عراق کے مسئلے کی بیرونی جہت کا تعلق ہے یہ بھی کم اہم نہیں ہے۔ ترکوں کو اپنی جنوبی سرحدوں سے شیعہ ملیشیا اور ایرانی اثر و رسوخ کو دور رکھنے میں دلچسپی ہے۔ ایرانی امریکیوں کو عراق سے نکال باہر کرنا چاہتے ہیں۔ اس تناظر میں العربیہ ڈاٹ نیٹ نے واشنگٹن میں اپنے ذرائع سے بات کی۔ اہم بات یہ سامنے آئی کہ امریکی ایک چیز کے بارے میں بات کر رہے تھے اور وہ ہے داعش کی واپسی کو روکنا۔

ایک ذریعہ نے زمینی صورت حال پر روشنی ڈالی اور کہا کہ داعش ایک انتہائی خطرناک تنظیم ہے۔ یہ عراقی سرزمین خاص طور پر شام کے ساتھ سرحدی علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ جب بھی آپ داعش میں سے کچھ کو ختم کر دیتے ہیں یا اس میں آپ کی دلچسپی کم ہو جاتی ہے تو یہ جنگلی گھاس کی طرح پھر لوٹ آتی ہے۔ امریکی داعش اور اس کی سرگرمیوں میں واپسی کے امکان کے بارے میں بڑی تشویش کے ساتھ بات کر رہے ہیں۔ وہ یہ شرط لگا رہے ہیں کہ ان کی عراق سے روانگی تنظیم کے واپس نہ آنے سے جڑی ہوئی ہے۔

امریکی عراقی حکومتی افواج کی قابلیت اور مستقبل میں حالات پر قابو پانے کی ان کی صلاحیت سمیت بہت سی باتوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ امریکی چاہتے ہیں ملک دوبارہ دہشت گرد تنظیم کی وجہ سے کسی بحران کا سامنا نہ کرے۔

بات کرنے والوں میں سے ایک نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کسی بھی طرح سے 2011 کے منظر نامے کو دہرانا نہیں چاہتی۔ اس وقت امریکی افواج نے بغداد میں میدان حکومت کیلئے چھوڑ دیا تھا لیکن تین سال بعد عراقی افواج داعش کی پیش قدمی کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی تھیں اور امریکی جلد بازی میں پھر واپس آنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ اس وقت امریکیوں نے ایک مرتبہ پھر تنظیم کو شکست دینے اور عراقی فوج کو دوبارہ تعمیر کرنے میں مدد کرنے کے لیے وسیع فوجی آپریشن کیا تھا۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ امریکیوں کا خیال ہے جب ہم چلے جائیں تو ہمیں واپس نہیں آنا چاہیے! واپس آنا بہت مہنگا معاملہ ہے اور ہمیں اس کا پہلے بھی خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی اس صورت حال کے بارے میں سنجیدہ ہیں اور داعش کے چیلنج کو عراقی مسئلے کے طور پر نہیں بلکہ دہشت گردی کے مسئلے کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ داعش سے عراق اور پوری دنیا کو خطرہ ہے۔

شام میں داعش کا مسئلہ عراق میں امریکی موجودگی کے سوالات پر اضافہ کرتا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران امریکی افواج نے شام کے شمال مشرقی علاقے میں اپنے مشن کی حمایت کے لیے عراق، اردن اور التنف میں اپنے اڈوں پر انحصار کیا ہے۔ لہٰذا انخلا کی صورت میں امریکیوں، خاص طور پر اس کی فوج، کو شام کی سرزمین کے اندر امریکی افواج اور شامی ڈیموکریٹک فورسز کی مدد کے لیے سپلائی کے نئے منصوبے سامنے لانا ہوں گے۔

ایک ذریعہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ شام میں واشنگٹن کا کوئی دوست نہیں ہے۔ اس طرح شامی سرزمین حمایت کے عمل میں عراقی سرزمین کا متبادل نہیں ہے کیونکہ شامی علاقوں کی اکثریت پر بشار الاسد اور ایرانی ملیشیا سے وابستہ فورسز کا کنٹرول ہے۔

یہ واضح ہے کہ جب امریکی عراق کے ساتھ تعلقات کی بات کرتے ہیں تو وہ یہ تاثر دیتے ہیں کہ فوجی موجودگی کا مسئلہ کسی بھی چیز سے زیادہ تکنیکی مسئلہ ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ سننے والے فوجی چیلنجوں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کسی بھی چیز سے زیادہ اہمیت دیں۔ دوسری جانب العربیہ سے بات کرنے والے سب ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ عراقی نہیں چاہتے کہ امریکی افواج نکل جائیں۔

عراقی حکومت چاہتی ہے کہ انخلا کو مختلف انداز میں اور مخصوص نعروں کے ساتھ پیش کیا جائے۔ اس تناظر میں بغداد میں حکومت کے موقف سے واقف لوگوں نے کہا کہ وہ انخلا کو تین عنوانات کے تحت پیش کرنا چاہتے ہیں۔ پہلا اتحاد کا مشن ختم ہوجانا ناکہ امریکی انخلا، دوسرا باہمی رضامندی سے انخلا اور تیسرا دو طرفہ گہرے تعلقات میں تبدیلی آنا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں