سعودی عرب: مخبروں کے تحفظ کے لیے پروگرام کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب میں مخبروں، گواہوں، ماہرین اور متاثرین کے تحفظ کے ایک پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے آرٹیکل 1 میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ نظام کی دفعات کے تحت آنے والے جرائم کی نگرانی، کنٹرول اور تفتیشی حکام کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ مخبروں، گواہوں، ماہرین اور متاثرین کی شناخت اور ان کا پتہ چھپائیں گے۔ نیا نظام خط و کتابت، ریکارڈزاور تمام دستاویزات کو بھی ضرورت کے وقت ان کی شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے پیش کرنے کا کہتا ہے۔

ام القراء اخبار کی طرف سے شائع ہونے والی نئے نظام کی تفصیلات کے مطابق نگران حکام کو یہ تعاون کرنا ہوگا کہ گواہان اثر و رسوخ کے دباؤ یا تاخیرکے بغیر اپنی گواہی ریکارڈ کرا سکیں۔ قانونی چارہ جوئی کے دوران حکام مخبروں، گواہوں، ماہرین اور متاثرین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ان کی شناخت چھپا سکیں گے۔

دیکھنے سے روکنا

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے جن اقدامات کا جائزہ لیا ان میں گواہ یا ماہر کو اس وقت دیکھنے سے روکنے کی ضرورت بھی شامل تھی جب وہ اپنی مہارت کی گواہی دینے یا پیش کرنے کے لیے عدالت میں حاضر ہو رہا ہو۔ عدالت میں داخل ہوتے وقت یا رخصت ہوتے وقت بھی اسے دیکھنے سے روکنے کا کہا گیا ہے۔ بصری اور آڈیو کمیونیکیشن جیسے تکنیکی ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے ان کی حفاظت کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔ نئے نظام کے تحت مخبروں اور گواہوں کے تحفظ کے لیے آواز اور تصویر کو تبدیل کرنے والی ٹیکنالوجی کے استعمال کی بھی اجازت دی گئی ہے۔

گواہوں کی سماعت

اسی سیاق و سباق میں قانون کی دفعات اس بات کی نشاندہی بھی کر رہی ہیں کہ عدالت کو - جب ضروری ہو - گواہوں کی گواہی سننی چاہیے اور قانون کی دفعات کے تحت آنے والے کسی بھی جرم میں ملزم اور اس کے وکیل سے الگ تھلگ رہتے ہوئے ماہرین سے بات چیت بھی کرنی چاہیے۔

شناخت ظاہر کرنے کی اجازت کب ہوگی؟

مخبروں، گواہوں، ماہرین اور متاثرین کے تحفظ کے لیے خصوصی نظام کے تحت ان اشخاص کی شناخت ظاہر کرنے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔ یہ وہ وقت ہوگا اگر عدالت یہ سمجھے کہ دفاع کے حق کو استعمال کرنے کے لیے اس کی شناخت ظاہر کرنا ضروری ہے اور گواہ کی گواہی یا ماہر کا بیان اس معاملے میں ثبوت کا واحد ذریعہ ہے۔ ان صورتوں میں شناخت ظاہر کرنے کی اجازت بھی ہے۔

مخبروں کے تحفظ کا پروگرام

عدالت - جب ضروری ہو - عدالتی حکم نامے میں گواہوں کے نام چھپائے گی۔ پبلک پراسیکیوشن میں ایک خصوصی پروگرام قائم کیا گیا ہے جسے مخبروں، گواہوں، ماہرین اور متاثرین کے لیے تحفظ کا پروگرام کہا گیا ہے۔

تحفظ کی قسم کا تعین

پروگرام کی انتظامیہ - نظام کی دفعات کے مطابق - کو پروگرام میں مخبروں، گواہوں، ماہرین اور متاثرین کو قبول کرنے اور انہیں فراہم کردہ تحفظ کی قسم اور مدت کا تعین کرنے کا اختیار ہوگا۔ آرٹیکل چھ پبلک پراسیکیوٹر کی منظوری کی نشاندہی کر رہا ہے۔

30 دن کیلیے تحفظ

نظام کے آرٹیکل آٹھ کے مطابق اگر یہ یقین کرنے کی کوئی وجہ ہے کہ مخبر، گواہ، ماہر، یا متاثرہ شخص کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے تو پبلک پراسیکیوٹر اسے اس کی رضامندی کے بغیر 30 دنوں کی مدت کے لیے تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔ پبلک پراسیکیوٹر جب ضروری ہو اس مدت میں تحریری فیصلہ کے ذریعہ سے اضافہ کرا سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں