سعودی عرب میں 70 ہزار سے زیادہ بین الاقوامی طلبہ زیر تعلیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایجوکیشنل ویزا انیشیٹو کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سمیع الحسونی نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب میں 70,000 سے زیادہ بین الاقوامی طلبہ مختلف علاقوں میں سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں کی طرف سے پیش کیے جانے والے بہت سے تعلیمی پروگراموں کے ذریعے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مملکت نے 160 قومیتوں سے زیادہ سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی گریجوایشن میں حصہ ڈالا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے اپنی گفتگو کے تناظر میں انہوں نے نشاندہی کی کہ تعلیمی ویزا انسانی صلاحیت کی ترقی کے پروگرام کے اقدامات میں سے ایک ہے۔ یہ پروگرام مملکت کے ویژن 2030 کے پروگراموں میں سے ایک ہے۔ یہ سعودی یونیورسٹیوں کی درجہ بندی کو بڑھاتا ہے اور تعلیم کی مسابقت کو بڑھاتا ہے۔ اس سے علم کو پھیلانے اور عربی زبان سکھانے میں ملک کا تعاون بھی بڑھتا ہے۔

’سٹدی ان سعودی عرب‘پروگرام دنیا بھر سے ہزاروں طلبہ وطالبات کو مملکت میں تعلیم کے مواقع فراہم کرتا ہے
’سٹدی ان سعودی عرب‘پروگرام دنیا بھر سے ہزاروں طلبہ وطالبات کو مملکت میں تعلیم کے مواقع فراہم کرتا ہے

الحیسونی نے وضاحت کی کہ کابینہ کی قرارداد نمبر 166 کے مطابق تعلیمی ویزا میں ایک سال یا اس سے زیادہ کا لمبا ویزا شامل ہوتا ہے۔ یہ ویزا تعلیمی مطالعہ یا طویل تحقیقی دوروں کے لیے جاری کیا جاتا ہے اور اس میں تمام تعلیمی ڈگریاں شامل ہوتی ہیں۔ مختصر ویزا عام طور پر 6 ماہ تک رہتا ہے اور اس میں بھی توسیع کی جا سکتی ہے۔ یہ ویزا محققین، ٹرینیز اور مختصر پروگرام سیکھنے والوں کے لیے ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیمی ویزا کے لیے درخواست سعودی عرب میں ” ادرس“ پلیٹ فارم کے ذریعے دی جاتی ہے۔ درخواست دہندہ درخواست دینے کے لیے پروگراموں کو دیکھتا ہے اور پھر ویزا حاصل کرتا ہے۔ تعلیمی ویزا کے لیے الیکٹرانک طور پر درخواست دی جا سکتی ہے۔

ڈاکٹر الحیسونی نے کہا کہ ”ادرس“ پلیٹ فارمز اور وزارت خارجہ میں متحد ویزوں کے درمیان تکنیکی ربط کی تکمیل نے اب تعلیمی ویزے کے طریقہ کار کو آسان بنا دیا ہے۔ اس اقدام سے مملکت کی بطور ایک ممتاز تعلیمی منزل مارکیٹنگ بھی ہوتی ہے۔

تعلیمی ویزا بہت سے فوائد پیش کر رہا ہے جن میں سب سے اہم تعلیمی پروگراموں کا تنوع ہے۔ درخواست میں آسانی ہے۔ سپانسر یا کفیل کی ضرورت نہیں ہے۔ ویزا ہولڈر کے لیے متعدد اخراج اور واپسی کی اجازت ہے۔ نیز مختصر مدت میں ایک سال تک توسیع کا امکان بھی ہے۔

الحیسونی نے مزید کہا کہ سعودی عرب میں "ادرس" پلیٹ فارم طویل مدتی ویزہ رکھنے والوں کو جزوقتی کام کی اجازت دیتا ہے اور ویزا حاصل کرنے پر خاندان کے ساتھ جانے کا امکان رکھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں