والدین، بہن اور بازو کھو دینے والے 4 سالہ فلسطینی بچے کو امریکہ کا مصنوعی بازوکا تحفہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے دوران 4 سالہ ابو کویک اسرائیلی بمباری کی وجہ سے اپنے بازو کو کھو بیٹھا تھا۔ امریکہ میں عمر کو مصنوعی بازو لگا دیا گیا ہے۔ خیال رہے عمر ابوکویک کے والدین اور بہن اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

4 سالہ ابوکویک کو کافی کوششوں کے بعد غزہ سے کسی طرح نکالا گیا تاکہ نیویارک کے ایک خیراتی ہسپتال میں اس کا مصنوعی بازو لگایا جا سکے۔ عمر کے ساتھ اس کی خالہ ماہا امریکہ گئی تھی۔

خیال رہے عمر کے ساتھ جاتے ہوئے خالہ نے اپنے تین بچوں اور شوہر کو رفح راہداری پر اسرائیلی بمباری کے خطرے کے سائے تلے چھوڑا ہے۔ ماہا جانتی ہیں کہ وہ اب اپنے بچوں اور شوہر سے کبھی نہیں مل سکے گی کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو چکے ہوں گے۔

ماہا نے عمر ابوکویک سے اپنے بچوں کے تعلق کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا 'میرے بچے عمر سے بہت پیار کرتے ہیں۔ میرے بچوں نے کہا 'عمر کا علاج ہونا چاہیے۔ اس کے علاج ہونے کا یہ واحد موقع ہے۔ '

عمر سے بات کی گئی تو اس نے اپنے کانوں کو ڈھانپ لیا اور کہا 'میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔' ماہا نے بتایا کہ عمر اپنے مرحوم انجینیئر والد کی طرح چاق و چوبند تھا۔ لیکن اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے اپنے والدین اور بہن کی وجہ سے اب وہ ٹوٹ گیا ہے۔

خیال رہے اسرائیل حماس جنگ شروع ہونے سے چند ہفتے پہلے عمر ابوکویک نے سکول جانا شروع کیا تھا۔ اس کا کنڈرگارڈن سکول بہت اچھا تھا۔ لیکن اب وہ وہ اپنی خالہ ماہا کا ساتھ چھوٹ جانے سے ڈرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں