امریکی گرل اسکاؤٹس کو غزہ کے بچوں کے لیے فنڈز جمع کرنے سے روکنے پر احتجاج

میزوری میں پاکستان، بھارت، صومالیہ، شام، فلسطین اور اردن سے تعلق رکھنے والی بچیاں گرل اسکاؤٹس کے ساتھ مل کر غزہ کے بچوں کی فنڈ ریزنگ کے لیے موتیوں سے 2000 کنگن بنا رہی تھیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

امریکی ریاست میزوری میں گرل اسکاؤٹس کے ایک ٹروپ کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی نے لڑکیوں اور غزہ کے انسانی بحران میں پھنسے ہوئے لوگوں کے حامیوں کو غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔گرل اسکاؤٹس کا یہ دستہ غزہ میں فاقہ کشی کے شکار بچوں کی مدد کے لیے بریسلٹ یعنی کنگن بنا کر فنڈز اکھٹے کر رہا تھا۔

گرل اسکائس آف امریکہ نے کہا ہے کہ مشرقی مزوری کی شاخ فنڈز جمع کرنے کے قواعد کے مطابق کام کرتی ہے۔ سینٹ لوئیس میں گرل اسکاؤٹس کے ایک دستے کے ساتھ جس لب و لہجے میں بات کی گئی، اس پر اسے مایوسی ہوئی ہے۔

سینٹ لوئیس میں گرل اسکاؤٹس کے ٹروپ نمبر 149 کی لیڈر نوال ابوحمدہ، جن کا تعلق فلسطینی نژاد امریکیوں کی پہلی نسل سے ہے، کہتی ہیں کہ ہمیں ایسا محسوس ہوا جیسے ہمیں ہدف بنایا گیا، غیر منصفانہ برتاؤ کیا گیا اور ہماری بات نہیں سنی گئی۔

نوال ابو حمدہ، اب گرل اسکاؤٹس تنظیم سے الگ ہو گئی ہیں۔

کیلی فورنیا میں گرل اسکاؤٹس کے ایک دستے کی لیڈر تسنیم مانجرا کہتی ہیں کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ گرل اسکاؤٹس اب اپنے کام سے پیچھے ہٹ رہی ہیں کیونکہ ان پر اعتراض ہوا ہے۔

ابوحمدہ نے بتایا کہ فنڈ اکٹھا کرنے کی مہم اس لیے شر وع کی گئی کیونکہ ان کے دستے میں شامل لڑکیاں ایک ایسے وقت میں بسکٹ (Cookies) یبچنے میں پریشانی محسوس کر رہی تھیں، جب غزہ میں لوگ بھوک سے مر رہے تھے۔ایک میٹنگ میں یہ بچیاں، جن کا تعلق پاکستان، بھارت، صومالیہ، شام، فلسطین اور اردن سے تھا، رو پڑیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود کو بے بس محسوس کرتی ہیں۔

ایک زوم میٹنگ کے دوران، جو غزہ میں بچوں کی حمایت کرنے والے گروپ کی طرف سے بچوں کے لیے غزہ میں جنگ بندی کے سلسلے میں بلائی گئی تھی، ابو حمیدہ نے سوال کیا کہ آپ کے خیال میں 10 برس کی عمروں کی لڑکیوں کو، جو خود کو بے بس محسوس کرتی ہوں، کیا کرنا چاہیے؟

وہ بچوں کی مدد کرنا چاہتی تھیں۔ وہ بریسلیٹ بنانا چاہتی تھیں۔ وہ محض دس برس کی تھیں۔ وہ اس کے علاوہ اور کیا کر سکتی تھیں۔

جنوری کے وسط تک وہ سیاہ، سرخ اور سفید موتیوں سے کنگن بنا رہی تھیں۔ یہ تین رنگ، فلسطین کے جھنڈے کے رنگ ہیں۔

اسکاؤٹنگ کی رکن یہ بچیاں امریکہ میں قائم فلسطینی بچوں کے امدادی فنڈ کے لیے چندہ اکھٹا کر رہی تھیں۔ تاریخی اعتبار سے اس امدادی گروپ نے ان فلسطینی بچوں کو مدد فراہم کی ہے جنہیں علاج کے لیے امریکہ کا سفر کرنے کی ضرورت تھی۔ تاہم حالیہ لڑائی شروع ہونے کے بعد سے اس امدادی گروپ کی ترجیح بدل گئی ہے اور اب وہ انہیں خوراک، ادویات، کپڑے اور انسانی امداد فراہم کر رہا ہے۔

امریکہ میں مسلمانوں کی ایک تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے مزوری چپٹر کے مطابق گرل اسکاؤٹس کی مشرقی مزوری کی شاخ نے پچھلے مہینے بریسلیٹ بنانے والی گرل اسکاؤٹس کو ایک ای میل بھیجی تھی جس میں دھمکی د ی گئی تھی کہ اگر انہوں نے کنگن بنانے بند نہ کیے تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے سوالات کے جواب میں یو ایس اے گرل اسکاؤٹس نے کہا ہے کہ گرل اسکاؤٹس کی مقامی شاخ نے اپنے قواعد پر عمل کیا، لیکن وہ صورت حال سے درست طور پر عہدہ برآ نہیں ہوئیں۔

جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ گرل اسکاؤٹس کے ذریعے اکھٹے کیے جانے والے فنڈز کو غیر معمولی حالات کے علاوہ اسکاؤٹنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ماضی کے واقعات میں ان فنڈز کو ہوائی کے جنگلات کی آتشزدگی اور یوکرین کی جنگ کے باعث مصائب کے شکار لوگوں کی مدد کے لیے استعمال سے روک دیاگیاتھا۔

گرل اسکاؤٹس کو غزہ میں لوگوں کی مدد کرنے والے گروپوں کے لیے تین ماہ تک فنڈز جمع کرنے کی اجازت دی گئی تھی جو 10 جنوری تک تھی ۔ ان گروپوں میں فلسطینی بچوں کا امدادی فنڈ بھی شامل تھا۔

گرل اسکاؤٹس یو ایس اے کا کہنا ہے کہ اگرچہ زیر بحث فنڈز ان تاریخوں سے ہٹ کر اکھٹے کیے گئے تھے، تاہم ان کے خلاف کسی قانونی کارروائی پر نہ تو غور ہوا اور نہ ہی عمل ہوا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بسکٹوں یا کوکیز کی فروخت کے ذریعے اکٹھے کیے جانے والے فنڈز پر اس طرح کی پابندیوں کا اطلاق نہیں ہوتا اور اسے عطیہ کیا جا سکتا ہے۔ 2017 میں اس فروخت سے تقریباً 80 کروڑ ڈالر اکھٹے ہوئے تھے۔

مانجرا نے کہا کہ گرل اسکاؤٹس کے 100 سے زائد دستوں کے لیڈروں کے دستخطوں سے جاری ہونے والی ایک درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ گرل اسکاؤٹس یو ایس اے، گرل اسکاؤٹس کے 149 دستے سے معافی مانگے، غزہ میں انسانی بحران پر ایک بیان جاری کرے، اور یہ وعدہ کرے کہ فنڈ ریزنگ کے سلسلے میں کوئی مشکل کھڑی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر تنظیم انکار کرتی ہے تو وہ Cookies کی فروخت بند کر دیں گی۔

کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نے گرل اسکاؤٹس کی قومی تنظم کے بیان کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے سوالات بدستور برقرار ہیں۔ ابو حمدہ نے بتایا کہ گرل اسکاؤٹس نے غزہ کے بچوں کی مدد کے لیے 10 ہزار ڈالر سے زیادہ کے فنڈز جمع کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں