کیا ’انڈومی نوڈلز‘ مضر صحت اور کینسر کا موجب بن رہے ہیں،ماہرین کیا کہتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اگرچہ ’انڈومی‘ تیارکرنےمیں آسان اور لذیذ کھانا ہے جسے دنیا بھر میں بہت سے لوگ پسند کرتے ہیں لیکن اس کے انسانی صحت پراثرات کے بارے میں تنازع کو جنم دیا ہے۔ ماہرین خوراک اس میں موجود چکنائی کی وافر مقدار کی وجہ سے صحت کے لیے مضر قرار دیتے ہیں۔

انسٹنٹ نوڈلز کے بارے میں برسوں سے جاری اس طبی تنازعہ کےحوالے سے سعودی معالج ڈاکٹر فہد الخضیری جو کہ کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال کے ریسرچ سینٹر میں کینسر کے علاج کے یونٹ میں طبی تحقیق کرنے والے سائنسدان ہیں۔ انہوں نے کچھ دن پہلے ایک بیان میں کہا تھا کہ "انڈومی سرطان پیدا کرنے والا نہیں ہے بلکہ اعتدال میں کھایا جائے توبچوں کے لیے نقصان دہ نہیں"۔

تاہم انڈومی کے مضرصحت ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے سوشل میڈیا صارفین کے درمیان ملا جلا ردعمل پایا جاتا ہے۔

"صباح العربیہ" پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر الخضیری نے واضح کیا کہ سائنسی تحقیق کی بنیاد پر انڈومی فوری کھانا بالکل بھی سرطان پیدا کرنے والا نہیں ہے۔

چربی کی زیادہ مقدار

لیکن انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ بعض گروہوں کے لیے صحت مند آپشن نہیں ہے۔ بوڑھے اور وہ لوگ جو کولیسٹرول اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہیں وہ انڈومی سے پرہیز ہی کریں کیونکہ اس میں ساسیج کی طرح کیلوریز اور چربی کی زیادہ مقدار ہوتی ہے۔

انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ "اس ورمیسیلی کا بنیادی مسئلہ اس میں شامل کیا جانے والا پرزرویٹیو ہے، جو کہ سوڈیم مونوگلوٹامیٹ ہے"۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک خاص حد تک سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی سے منظور شدہ ہے اور بہت سے تیار مرکبات میں موجود ہے۔ جو فاسٹ فوڈ اور کبسا بنانے میں استعمال ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ جس میتھیلین آکسائیڈ مادہ کے بارے میں بات کر رہے ہیں، جو کہ ملائیشیا اور تائیوان کی مارکیٹوں سے پروڈکٹ واپس لینے کی وجہ ہے۔ سعودی عرب میں انڈومی دستیاب نہیں ہے کیونکہ فوڈ اتھارٹی اس کی اجازت نہیں دیتی"۔

اسی حوالے سے النمرکنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ڈاکٹرخالد نے ’صباح العربیہ‘ کوبتایا کہ انڈومی کینسر سے محفوظ کھانا ہے، لیکن یہ صحت بخش یا فائدہ مند نہیں ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ Indomie meal 1958 میں جاپان میں منظر عام پر آیا تھا اور اسے Momo Fuku Ando نے اس وقت ایجاد کیا تھا جب وہ دوسری جنگ عظیم کے بعد خوراک کے بحران سے نمٹنے کے لیے آسان اور کم خرچ حل تلاش کر رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں