خلائی مخلوق کا کوئی سراغ نہیں ملا: امریکی محمکہ دفاع پینٹاگون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

گذشتہ ایک صدی میں کسی خلائی مخلوق یا زمین سے باہر کسی ذہین مخلوق کے ہونے سے متعلق کوئی شواہد نہیں ملے۔ اس امر کا انکشاف پینٹاگون نے زمین پر خلائی مخلوق دیکھے جانے سے متعلق دعووں کو پرکھنے کے بعد مرتب کردہ رپورٹ میں کیا ہے، جسے جمعہ کے روز جاری کیا گیا۔

اس رپورٹ کے نتائج میں کہا گیا ہے کہ عموماً خلائی مخلوق دیکھے جانے سے متعلق دعوے غلط شناخت اور دیگر چیزوں کو خلائی مخلوق سے ملا دینے کی بنیاد پر ہوئے ہیں۔ اس سے قبل ایسے دعووں سے متعلق حکومتی تفتیشی رپورٹیں بھی یہی کہتی رہی ہیں۔ اسی تناظر میں پینٹاگون کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے خلائی مخلوق سے متعلق شواہد چھپانے کی کوشش نہیں کی۔

پینٹاگون کے آن ڈومین ریزولوشن آفس ARRO کی جانب سے یہ نئی رپورٹ سن 1645 سے اڑن طشتریاں (UFOs) دیکھنے جانے سے متعلق کی گئی تمام تر تفتیشی رپورٹوں کی چھان بین کے بعد جاری کی گئی ہے۔

اس سے قبل سن 2022 میں پینٹاگون نے اعلان کیا تھا کہ حکومت یا نجی کمپنیاں خلائی مخلوق سے متعلق کوئی بھی معلومات خفیہ رکھنے میں شامل نہیں رہی ہیں۔

کانگریس کی ہدایت پر جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، ''تمام تفتیشی کوشیں، ان کا تعلق کلاسیفیکشن کی کسی بھی سطح سے ہو، یہی ظاہر کرتی ہیں کہ اب تک دیکھی گئیں چیزیں یا مظاہر عام اور معمولی نوعیت کے تھے اور انہیں غلط شناخت کر کے ایسے نتائج اخذ کیے گئے۔‘‘

پچھلے کئی برسوں میں امریکی حکام کو یو ایف اوز دیکھے جانے سے متعلق کئی اطلاعات موصول ہوئیں۔ سن 2021 میں ایک حکومتی رپورٹ میں ایسے 144 دعووں کی تفتیش کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ ان میں کسی بھی غیرزمینی مخلوق کی موجودگی کے شواہد نہیں تھے۔

تاہم گذشتہ برس امریکی ایئرفورس کے ایک انٹیلی جنس افسر نے کانگریس میں سماعت کے دوران کہا تھا کہ امریکی حکومت اس بابت تفصیلات ایک طویل عرصے سے چھپا رہی ہے۔ اس عہدیدار کے مطابق حکومت ان اڑن طشتریوں کی نقل کر کے ایسی ہی اڑنے والی چیزیں تیار کرنا چاہتی ہے۔

حالیہ نئی رپورٹ کے مطابق، ''امریکی محکمہ (AARO) تسلیم کرتا ہے کہ کئی افراد نہایت دیانت داری سے ایسے دعوے کرتے ہیں مگر ان کا مشاہدہ ممکنہ طور پر ان کے ماضی کے تجربات کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے یا ان افراد کی معلومات کی بنا پر جن پر انہیں اعتبار ہوتا ہے۔ میڈیا اور آن لائن مقامات پر بھی وہ یہ سب پڑھتے ہیں اور انہیں قابل بھروسا سمجھتے ہیں۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں