فخر اور عزت کی علامت سعودی پرچم کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

سال 1727 عیسوی میں اپنے قیام کے بعد سے اپنی پوری تاریخ میں سعودی عرب کا قومی پرچم ایک ابدی قدر اور فخر و عظمت کی علامت ہے۔ یہ قومی قدر کا اشارہ اور ملک کو متحد کرنے کی مہمات کا گواہ رہا ہے۔ سعودی خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) نے تین صدی قبل تخلیق کئے اس پرچم کی کہانی پر ایک خصوصی رپورٹ پیش کی ہے۔

سعودی اپنی روح میں پیوست توحید کی گواہی دینے والے قومی پرچم کے ساتھ اپنی شناخت پر فخر کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ پرچم قیادت اور قوم کے تعلق اور وفاداری کے جذبہ سے پیدا ہونے والی ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔ سعودی اس سے محبت اور وفاداری کے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ اس پرچم کو اسلامی دنیا کی طرف سے بھی اس کے مذہبی مفہوم کے باعث عزت حاصل ہے۔ یہ ریاست کے اسلامی دنیا کے معاملات سے تعلق کی بھی علامت ہے۔

خادم حرمین شریفین شاہ سلمان اور ان کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے عقیدے میں سعودی ریاست کا پرچم اس کی طاقت، خودمختاری، ہم آہنگی اور اتحاد کی علامت ہے۔ قومی اتحاد کے لیے 9 شعبان 1444 ہجری اور یکم مارچ 2023 عیسوی کو ایک شاہی حکم جاری کیا گیا جس میں یہ شرط عائد کی گئی تھی کہ ہر سال 11 مارچ کا دن سائنس کے لیے خاص کیا جائے گا اور ہرسال اس دن کو "سائنس ڈے" کہا جائے گا۔

"سعودی پرچم" باہمی تعلق، شہریت، اتحاد، طاقت، انصاف، ترقی اور خوشحالی کے معنی رکھتا ہے۔ یہ ریاست کے تصور کو مجسم کرتا ہے اور قومی اتحاد اور وطن کی تاریخی گہرائی کا اظہار کرتا ہے۔

سعودی قومی پرچم کی تاریخ بھی پہلی سعودی ریاست کے اماموں کی طرف سے بلند کئے گئے پرچم کی طرف لوٹتی ہے۔ ان اماموں نے ریاست کی بنیاد رکھی اور اس کی زمینوں کو متحد کیا۔ اس وقت یہ جھنڈا سبز رنگ کا تھا۔ اس پر کلمہ ’’ لا الہ اللہ محمد رسول اللہ‘‘ لکھا ہوا تھا۔ یعنی لکھا ہوا تھا کہ "اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں" ۔ اسے لکڑی کے ستون پر لٹکایا جاتا تھا۔

پہلی سعودی ریاست کے دور میں شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمٰن کے دور تک یہ پرچم ان خصوصیات کے ساتھ جاری رہا۔ پھر اس میں دو کراس والی تلواریں شامل کی گئیں۔ ایک اہم مرحلے پر اس میں گھوڑے دلیر ہیروز کو گلے لگا رہے تھے۔ یہ سلسلہ اس وقت تک رہا جب تک قوم متحد نہیں ہوگئی اور ملک میں امن و امان قائم ہوگیا اور خوشحالی پھیل گئی۔

دونوں تلواروں کو بعد کے مرحلے میں سب سے اوپر کھینچی ہوئی تلوار سے بدل دیا گیا۔ یہاں تک کہ شوریٰ کونسل کی ایک تجویز شاہ عبدالعزیز کو پیش کی گئی جسے 11 مارچ 1937ء کو منظور کیا گیا۔ اس تجویز کے مطابق اس تلوار کو کلمہ طیبہ کے نیچے رکھ دیا گیا۔ اس وقت پرچم کی شکل نے مستحکم شکل اختیار کرلی۔

1393 ہجری یا 1973 عیسوی میں جاری ہونے والے پرچم کے نظام میں یہ شرط رکھی گئی تھی کہ سعودی پرچم مستطیل شکل کا ہونا چاہیے۔ اس کی چوڑائی اس کی لمبائی کے دو تہائی کے برابر اور اس کا رنگ سبز ہونا چاہیے۔ اس کے درمیان میں کلمہ طیبہ تھا اور اس کے نیچے متوازی تلوار تھی جس کی مٹھی دائیں جانب تھی۔

کلمہ طیبہ اور تلوار سفید رنگ میں کھینچی گئی ہیں۔ کلمہ طیبہ میں موجود دونوں شہادتیں رسم الخط ’’ثلث‘‘ میں لکھی گئی ہیں۔ اس کی بنیاد کلمہ طیبہ کے نصف میں ہے۔ تلوار کلمہ طیبہ کے تین چوتھائی لمبائی کے برابر ہے۔ کلمہ طیبہ کی ڈرائنگ کے دونوں اطرف فاصلہ مساوی ہے۔

پرچم کے رنگوں اور اس میں موجود کلمہ طیبہ کے لوگو میں سے ہر ایک کے گہرے معنی ہیں۔ سبز رنگ ترقی اور زرخیزی کی علامت ہے۔ سفید رنگ امن اور پاکیزگی کی علامت ہے۔ تلوار انصاف اور سلامتی کی علامت ہے۔ تلوار کو عربوں میں شرافت اور بہادری کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔

جہاں تک کلمہ توحید کا تعلق ہے اس میں خدا کی وحدانیت کا ثبوت اور اس کے حکیمانہ قانون کے اطلاق کی بات ہے۔ اس میں وہ درست نقطہ نظر شامل ہے جس پر سعودی عرب قائم ہوا اور تین مراحل میں اس کی پیروی کی گئی۔

سعودی پرچم دنیا کے ان ملکوں کے جھنڈوں میں منفرد ہے جس کی خاص خصوصیات نے اس کو خوف، تعظیم اور تسبیح کی چمک عطا کی ہے۔ یہ پرچم فوت ہوجانے والے بادشاہوں اور لیڈروں کی میتوں کے اوپر یانیچے نہیں رکھا جاتا۔ غم کے مواقع پر اسے نیم سرنگوں بھی نہیں کیا جاتا۔ نہ ہی اسے اعزازی گارڈ کا جائزہ لیتے وقت مہمانوں کے سامنے جھکایا جاتا ہے۔ اس پرچم کو بطور ٹریڈ مارک یا ان مقاصد کے لیے استعمال کرنا منع ہے جس سے اس کے وقار کو نقصان پہنچے۔

مملکت سعودی عرب کے اندر تمام سرکاری عمارتوں اور سرکاری اداروں پر قومی پرچم بلند کیا جاتا ہے۔ اگر اس کا رنگ ڈھل جاتا ہے اور خراب ہونے والا ہو تو اسے ایک مخصوص طریقہ کار سے جلانے کے لیے سرکاری حکام کو بھیجا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں