سعودی عرب: سرکاری ملازمتوں میں خواتین مردوں سے سات فیصد آگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

صنفی توازن مرکز کی جنرل سپروائزر ڈاکٹر سارہ العتیبی نے وضاحت کی کہ انسٹی ٹیوٹ نے سعودی عرب میں وزارتوں میں صنفی توازن کی حقیقت کا تعین کرنے کے لیے ایک مطالعہ کیا۔ اس کے سب سے نمایاں نتائج میں ایک قابل ذکر خلا کی موجودگی دیکھی گئی۔ متعدد عہدوں پر مردوں کے مقابلے خواتین کو ملازمت دینے میں فرق دیکھا گیا۔ یہ مردوں کے حق میں 84 فیصد سے زیادہ تھا۔

سارہ العتیبی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ یہ فرق سفارتی پیشوں میں، مینجر کے پیشوں میں ، وزرا، نائب وزرا اور بہترین درجے کے ملازمین اور صحت کے پیشوں کی فہرست میں ہے۔

وزارتوں کے ساتھ ساتھ ماہرین کے ہر پیشے میں صنفی توازن خواتین کے حق میں 7 فیصد زیادہ تھا۔ فیکلٹی ممبران، لیکچررز اور یونیورسٹیوں میں تدریسی معاونین کے درجات اور تعلیمی پیشوں کے درجات میں یہ فرق دیکھا گیا۔

سارہ العتیبی
سارہ العتیبی

صنفی توازن کے تنظیمی پہلوؤں کا عمومی انڈیکس کا اوسط سکور 53.4 فیصد آیا۔ "تنظیمی طریقہ کار" سے متعلق سکور 47 فیصد آیا۔ اسی طرح کا اطلاق معاوضات، انعامات اور فوائد کے طریقوں پر ہوتا ہے جہاں پر فرق 51.9 فیصد تھا۔

صنفی برابری کے حوالے سے تنظیمی ڈھانچے میں اعلیٰ عہدوں کے لیے نامزدگی کے مواقع فراہم کرنے کا فیصد جنسوں کے درمیان یکساں طور پر 47.3 فیصد تک پہنچ گیا ۔ تربیت اور ترقی کہ شعبہ میں بھی 46.6 فیصد تک کی شرح دیکھی گئی۔ تنظیمی ثقافت میں 47.1 فیصد کی شرح کا مشاہدہ کیا گیا۔

سارہ العتیبی نے کہا مرکز کے لیے سعودی عرب میں کام کے ماحول کی حقیقت پر نظر رکھنے کے لیے ہم نے اس شعبے میں 18 سے زائد بین الاقوامی تجربات اور طریقوں کا جائزہ لیا۔ صنفی توازن کے اشاریوں کے لیے ایک الیکٹرانک پلیٹ فارم بنایا۔ 400 سے زیادہ شرکا، مقامی اور بین الاقوامی ماہرین اور متعدد سرکردہ ممالک کی شرکت کے ساتھ۔ کام کیا۔ ان میں آسٹریلیا، فن لینڈ، اور میکسیکو، اور متعدد بین الاقوامی تنظیمیں جیسے ورلڈ بینک گروپ، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن۔ ، یورپی انسٹی ٹیوٹ برائے صنفی مساوات، اقوام متحدہ، اور متعدد غیر منافع بخش تنظیمیں شامل تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں