ترکیہ میں سحری جگانے والا خواتین کا بینڈ جس پر کچھ لوگ ناخوش دکھائی دیتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوسرے دن کی سحری کے وقت خواتین کے ایک بینڈ نے ترک ریاست مارسین کے ساحلی علاقے میں ڈھول کی تھاپ پر نغمے گا کر رہائشیوں کو جگایا۔ خواتین کا بینڈ برسوں سے لوگوں کو ڈھول بجا کر سحری جگا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی اس بینڈ کی تصاویر اور ویڈیوز کے بعد صارفین کی طرف سے ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔ بعض صارفین نے ان کی حمایت کی ہے جب کہ بعض اس پر ناخوش دکھائی دیتے ہیں۔

مقامی ترک میڈیا کے مطابق بینڈ نے اعلان کیا کہ اس نے رمضان کے مہینے سے ایک دن پہلے گانوں کے لیے اپنی حتمی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ یہ بینڈ مارسین میں ڈائریکٹوریٹ آف کلچرل افیئرز اور اردملی کی میونسپلٹی کی زیر نگرانی تربیت حاصل کرچکا ہے۔

بینڈ کے ارکان گاتے اور ڈھول بجاتے ہیں۔ یہ گروپ صرف خواتین پر مشتمل ہے اور وہ ریاست مارسین میں اپنے رہائشی علاقے میں سحری کے وقت مل کر گانے گاتی اور لوگوں کو سحری جگاتی ہیں۔

ترکیہ میں سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر میوزیکل بینڈ کے لیے شکریہ اور تعریف کے پیغامات بھیجے گئے۔ تاہم ایک صارف نے لکھا کہ یہ کام مردوں کا ہونا چاہیے۔ خواتین کے لیے اس طرح کی سرگرمیوں میں حصہ لینا مناسب نہیں۔

انقرہ یونیورسٹی کے شعبہ سوشیالوجی کے سابق ایسوسی ایٹ پروفیسر مصطفی کمال گوش کن نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ رمضان کے مہینے میں ڈھول بجانا بہت علامتی رہ گیا ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "رمضان میں ڈھول بجانے کی روایت اب بھی جاری ہے، لیکن یہ تیزی سے علامتی بنتی جا رہی ہے‘‘۔

ترک ماہر تعلیم نے کہا کہ "یہ کام درحقیقت ایک معاشی بنیاد رکھتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ڈھول بجانے والا رمضان کے شروع، وسط اور آخر میں لوگوں سے پیسے اکٹھا کرتا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب ہم رمضان میں سحری کے وقت خواتین کو ڈھول بجاتے دیکھتے ہیں۔ میرے خیال میں کوئی بنیاد پرست ہی اس پر اعتراض کرے گا‘‘۔

انہوں نے بتایا کہ "خواتین نے ترکیہ میں ایک طویل عرصے سے بہت سے کام انجام دیے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ میونسپل بسیں چلاتیں تو لوگوں کو یہ عجیب لگتا تھا لیکن وہ بعد میں اس کے عادی ہو گئے۔ لوگ کچھ عرصے تک خواتین کے میوزیکل بینڈ کے بھی عادی ہوجائیں گے۔

میوزیکل بینڈ نے رمضان المبارک کے موقع پر اپنی آخری تیاریاں مکمل کر لی تھیں مگر یہ بینڈ ریاست مارسین میں تین سال سے باقاعدگی سے ڈھول بجا رہا تھا۔

18 سالہ میلیسا کرگیلی جو اپنی ماں کے ساتھ ڈھول بجاتی ہیں نے کہا کہ "میں اپنی ماں کے ساتھ سڑکوں پر نکلی اور لوگوں کو سحری کھانے کے لیے جگایا۔ میں بہت خوش اور پرجوش ہوں"۔

بینڈ کے ساتھ کام کرنے والی ایک اور خاتون نے کہا کہ "مجھے خوشی اور فخر ہے کہ ہم نے اس مقدس فرض کو پورا کیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ ہمارے تمام شہری رمضان کا مہینہ امن اور صحت کے ساتھ گزاریں گے۔ ہم رضاکارانہ طور پر اس میں شریک ہیں۔ اور ہم اپنے ڈھول بجا کر لوگوں کو جگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ سلسلہ رمضان کے پورے مہینے میں جاری رہے گا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں