دوران پرواز طیارے میں بچی کی پیدائش، نو مولود کا نام ’سما‘ کیوں رکھا گیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اردن کے دارالحکومت عمان سے لندن جانے والی پرواز میں اردن کی ایک خاتون نے بچی کو جنم دے دیا۔ خاتون کو ٹیک آف کے دو گھنٹے سے بھی کم وقت بعد درد زہ شروع ہوا تاہم حاملہ خاتون خوش قسمت رہی کیونکہ جہاز میں ایک مسافر ڈاکٹر موجود تھا اور وہ واپس برطانیہ جا رہا تھا۔ جہاں اس نے خاتون اور اس کے نوزائیدہ بچی کو بہت مدد اور دیکھ بھال فراہم کی جس سے دونوں زچہ وبچہ بہ حفاظت طیارے سے اتر گئے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی جانب سے متعدد ذرائع سے جمع کی گئی تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ ’ویز ایئر‘ کی پرواز میں پیش آیا جو جمعہ آٹھ مارچ کی شام عمان کے کوئین عالیہ انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے روانہ ہوئی تھی اور خاتون کو ٹیک آف کے دو گھنٹے سے بھی کم وقت بعد درد زہ شروع ہوا۔

پرواز میں سوار مسافروں میں سے ایک نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ طیارے نے قریبی جنوبی اٹلی کے برنڈیسی ہوائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ جہاں خاتون کو وہاں ضروری ہنگامی طبی خدمات فراہم کی گئیں۔ اس وجہ سے پرواز کئی گھنٹوں تک تاخیر کا شکار ہوئی۔

ذرائع نے مزید کہا کہ خاتون نے ایک بچی کو جنم دیا اور اس کا نام "سما" رکھا کیونکہ وہ زمین پر نہیں بلکہ آسمان پر پیدا ہوئی تھی۔

لندن کے اخبار ‘میٹرو‘ نے اس واقعے پر ایک رپورٹ شائع کی جس میں کہا گیا کہ طیارہ ایک نئے مسافر کے ساتھ اترا جو اردن سے ٹیک آف کرتے وقت وہاں موجود نہیں تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی طرف سے دیکھی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جونیئر ڈاکٹر حسن خان پرواز میں سوار تھے جب اردنی خاتون کو درد شروع ہوا۔ انہوں نے خاتون کو دوران پرواز مدد فراہم کی۔

عملے کے ڈاکٹر کو بلانے کے بعد اتھائیس سالہ ڈاکٹر خان نے رضاکارانہ طور پر اس خاتون کی مدد کی جو کاک پٹ کے دروازے کے باہر پڑی تھی۔

ڈاکٹر خان جو ایسیکس کے باسلڈن ہسپتال میں کام کرتے ہیں اردن میں اپنے دوستوں کے ساتھ چھٹیاں گزارنے آئے تھے اور واپس برطانیہ جا رہے تھے جب جہاز میں ان کے سامنے ڈرامائی واقعات رونما ہونے لگے۔

انہوں نے کہا کہ نوزائیدہ بحالی یونٹ میں ان کے تجربے نے انہیں بچے کی مدد کرنے میں مدد کی جو ابتدائی طور پر تھوڑا سا نیلا تھا۔

ڈاکٹر خان نے وضاحت کی "میں نے فلائٹ اٹینڈنٹ کو وہ سامان بتایا جس کی مجھے ضرورت تھی، جس میں ایک نوزائیدہ سائز کا آکسیجن ماسک، ایک نال کا کلپ اور ایک سٹیتھوسکوپ شامل تھا، جو یقیناً ان کے پاس جہاز میں نہیں تھا"۔

اس موقعے پر خاتون کی معاونت کے لیے ایک عربی ترجمان کی خدمات بھی لی گئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں