دنیا ابو طالب اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے والی پہلی سعودی خاتون بن گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ میں متعین سعودی عرب کی سفیر نے جمعہ کو کہا کہ 'دنیا ابو طالب اس سال اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے والی پہلی سعودی خاتون بن گئیں۔'

شہزادی ریما بنت بندر نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، "سعودی قومی تائیکوانڈو ٹیم کی رکن دنیاابو طالب سرکاری طور پر اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے والی پہلی سعودی خاتون کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے اولمپک گیمز کے لیے ایشیائی کوالیفائنگ راؤنڈز میں کامیابی سے حصہ لیا!!!!"۔

سعودی عرب نے حالیہ برسوں میں ویژن 2030 کے تحت اپنے نوجوانوں کے لیے کھیلوں میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے، بالخصوص لڑکیوں اور خواتین کی شرکت کو بڑھانے کے لیے۔

برطانوی اخبار ٹیلی گراف کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں 330,000 رجسٹرڈ خواتین ایتھلیٹس ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2021 سے سعودی عرب میں پیشہ ور خواتین کھلاڑیوں میں 195 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

آئی ایم ایف نے گذشتہ سال کہا تھا کہ 2022 میں نوجوانوں کی بے روزگاری نصف ہو کر 16.8 فیصد رہ گئی جبکہ 2022 میں افرادی قوت میں خواتین کی شرکت 36 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ یہ تعداد حکام کے وژن 2030 کے اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت مقرر کردہ 30 فیصد ہدف سے زیادہ ہے۔

سعودی عرب اپنے نوجوانوں کو شرقِ اوسط کی چند بہترین جامعات تک رسائی بھی فراہم کر رہا ہے۔ ایک سعودی یونیورسٹی کو حال ہی میں خطے میں جدت طرازی کے لیے سر فہرست ادارہ قرار دیا گیا ہے۔

27,000 اسکولوں اور 40 سے زیادہ سرکاری اور نجی جامعات میں مختلف درجات کے 60 لاکھ سے زیادہ طلبہ و طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق سعودی عرب کے 40 ملین افراد میں سے 67 فیصد کی عمریں 35 سال سے کم ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں