پنجابی ریپر سدھو موسے والا کے بھائی کی پیدائش، والدین کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

آنجہانی گلوکار شبھ دیپ سنگھ المعروف سدھو موسے والا کے والد بلکور سنگھ نے بیٹے کی پیدائش پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کیا اور نومولود بچے کو ہاتھوں میں اٹھائے انسٹاگرام پر تصویر شیئر کردی، تصویر کے پس منظر میں سدھو موسے والا کا فوٹو فریم اورمیز پر کیک بھی رکھا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

بلکور سنگھ نے پنجابی میں پوسٹ شیئر کی اور لکھا کہ سدھو موسے والا سے پیار کرنے والے لاکھوں لوگوں کی دعاؤں کی برکتوں سے اللہ نے شبھ کے چھوٹے بھائی کو ہماری گود میں ڈال دیا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ بیٹا صحت مند ہے۔

انہوں نے اپنے اور سدھو کے چاہنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس سے قبل انہوں نے اپنے خاندان کے ارد گرد چلنے والی افواہوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ہم سدھو کے مداحوں کے شکر گزار ہیں جو ہمارے خاندان کے بارے میں فکر مند ہیں۔ جو بھی خبر ہوگی گھر والے آپ سب کے ساتھ شیئر کریں گے۔ تاہم سدھو موسے والا کے مداحوں کی جانب سے اُن کے والد اور والدہ کو بیٹے کی پیدائش پر مبارکباد دینے کا سلسلہ جاری ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ بھارتی میڈیا کی جانب سے یہ خبر سامنے آئی تھی کہ گلوکار سدھو موسے والا کی 58 سالہ والدہ چرن کور کے ہاں مارچ 2024 میں ننھے مہمان کی آمد متوقع ہے، جس کی تصدیق سدھو موسے والا کے چچا نے کردی تھی۔

پنجابی گلوکار اور ریپر سدھو موسے والا جنہیں 2022 میں قتل کر دیا گیا تھا، اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے۔

سنہ 2022 کے الیکشن سے قبل سدھو موسے والا نے کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی اور مانسہ ضلع سے کانگریس کے ٹکٹ پر ریاستی اسمبلی کا انتخاب لڑا تھا۔ ان کو عام آدمی پارٹی کے ڈاکٹر وجے سنگلا نے شکست دی تھی۔ اسی سال 29 مئی کو انہیں قتل کر دیا گیا۔

انڈین میڈیا میں اس وقت خبریں گردش کر رہی ہیں کہ اپنے بیٹے کی طرح بلکور سنگھ بھی اس سال سیاسی میدان میں اتر سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر کانگریس کے ٹکٹ پر بھٹنڈہ حلقے سے لوک سبھا الیکشن لڑ سکتے ہیں۔ چرن کور نے 2018 میں سرپنچ کا انتخاب بھی جیتا تھا۔

سدھو جن کا اصل نام شوبھدیپ سنگھ سدھو تھا، اپنی عمر کے سب سے زیادہ بااثر، کامیاب اور امیر ترین پنجابی موسیقاروں میں سے ایک تھے۔

سدھو موسے والا کے کئی گانے چارٹ بسٹرز تھے اور انہیں بین الاقوامی فنکاروں کی جانب سے بھی پذیرائی ملی۔ سدھو ایک فعال سیاسی قوت کے طور پر ابھرے اور وہ اکثر سماجی اور سیاسی مسائل پر آواز اٹھاتے تھے۔

سدھو کو ان کے گانوں اور میوزک ویڈیوز میں تشدد اور بندوقوں کی مبینہ تشبیح پر شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ ان کے قتل کے بعد گینگسٹر لارنس بشنوئی نے ان کی موت کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں